شمارهٔ 35
Toggle stanza 1عشقش ز وجودم عدمی میسازد
11
عشقش ز وجودم عدمی میسازد
در هر نفسیم ماتمی میسازد
22
گاهم بدو چشم میزند بر جان زخم
گاهم به دو لعل مرهمی میسازد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

