Toggle stanza 1
عشقش ز وجودم عدمی میسازد
1

عشقش ز وجودم عدمی میسازد

در هر نفسیم ماتمی میسازد

2

گاهم بدو چشم میزند بر جان زخم

گاهم به دو لعل مرهمی میسازد

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

گفتگو

قارئین کے تبصرے

اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

0 / 2000 حروف
لوڈ ہو رہا ہے…