شمارهٔ 24
Toggle stanza 1چون گِرد مه از مشک سیه مور آورد
11
چون گِرد مه از مشک سیه مور آورد
شیرینی خط بر شکرش زور آورد
22
فریاد مرا زین دلِ دیوانه مزاج
کز پستهٔ او بار دگر شور آورد
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

