شمارهٔ 16
Toggle stanza 1جان رفت و به ذوق زندگانی نرسید
11
جان رفت و به ذوق زندگانی نرسید
تن رفت و به هیچ کامرانی نرسید
22
وین غمکش شبرو که دلش میخوانند
هرگز روزی به شادمانی نرسید
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

