شمارهٔ 34
Toggle stanza 1جانا! ز غم عشق تو فریاد مرا
11
جانا! ز غم عشق تو فریاد مرا
کز عشق تو جز دریغ نگشاد مرا
22
هر ذرّه اگر گره گشایی گردد
حل کی شود این واقعه کافتاد مرا
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

