رباعی شمارهٔ 118
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو
O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest
Toggle stanza 1مرنج از برهمن ای واعظ شهر
11
مرنج از برهمن ای واعظ شهر
گر از ما سجده ئی پیش بتان خواست
اے واعظ شہر برہمن سے ناراض نہ ہو —
اگر وہ ہمیں بتوں کے سامنے سجدہ کے لیے کہتا ہے۔
O preacher, don't frown upon the Brahmin's quest —
If from us a bow before idols he requests.
22
خدای ما که خود صورتگری کرد
بتی را سجده ئی از قدسیان خواست
ہمارے خدا نے خود (آدم کی ) صورت بنائی —
اور پھر فرشتوں کو اس بت کو سجدہ کرنے کے لیے کہا. (اقبال کے یہ الفاظ پایہ ادب سے گرے ہوئے ہیں، پروفیسر یوسف سلیم چشتی)۔
Our God Himself fashioned Adam's form with care —
And then asked the angels to bow in reverence there.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

