رباعی شمارهٔ 54

میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں

Of my own being or not, I choose to hush

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ستم

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
من از بود و نبود خود خموشم
1
من از بود و نبود خود خموشم
اگر گویم که هستم خود پرستم

میں اپنے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں خاموش ہوں —

اگر کہوں تو خود پرست سمجھا جاؤں گا۔

Of my own being or not, I choose to hush —

For claiming existence might seem self-love's flush.

2
ولیکن این نوای ساده کیست
کسی در سینه می گوید که هستم

لیکن یہ مدھم سی آواز کس کی ہے —

کون میرے سینے کے اندر کہتا ہے کہ 'میں ہوں'۔

But whence comes this soft whisper, faint yet grand? —

Who in my heart declares, "I am," and takes a stand?

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور