رباعی شمارهٔ 135

سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے

Alexander and his flag and sword are gone

Toggle stanza 1
سکندر رفت و شمشیر و علم رفت
1
سکندر رفت و شمشیر و علم رفت
خراج شهر و گنج کان و یم رفت

سکندر گیا اور اس کی شمشیر اور علم اس کے ساتھ ہی گئے —

شہروں سے وصول کیا ہوا خراج ، کان سے نکالا ہوا خزانہ اور سمندر سے حاصل کئے ہوئے موتی سب گئے۔

Alexander and his flag and sword are gone —

Gone are his tribute and his mines and seas.

2
امم را از شهان پاینده تر دان
نمی بینی که ایران ماند و جم رفت

قوموں کو پادشاہوں سے زیادہ پائیندہ سمجھ —

کیا تو دیکھتا نہیں کہ ایران باقی ہے جب کہ جمشید ختم ہو چکا ہے۔

Longer than kings’ are peoples’ histories —

Jamshid is gone, but Persia still lives on.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور