بخش 1 - گل نخستین

افکار ۔ گلِ نخستین

The First Rose

Toggle stanza 1
هنوز همنفسی در چمن نمی‌بینم
1

هنوز همنفسی در چمن نمی‌بینم

بهار می‌رسد و من گل نخستینم

میں اس باغ میں ابھی اپنا کوئی ساتھی نہیں دیکھتا ۔ بہار آ رہی ہے اور میں پہلا پھول ہوں ۔

I do not find a single comrade in the garden yet: For springtime is approaching and I am an early rose.

2

به آب جو نگرم خویش را نظاره کنم

به این بهانه مگر روی دیگری بینم

ندی میں جھانکتا ہوں ۔ اپنا ہی نظارہ کرتا ہوں ، شاید اسی بہانے کسی اور کی صورت دیکھ لوں ۔

I look at myself in the mirror of the rivulet, Creating a companion through this self-deluding pose.

3

به خامه‌ای که خط زندگی رقم زده است

نوشته‌اند پیامی به برگ رنگینم

جس سے زندگی کا فرمان رقم ہوا ہے (قدرت نے) اسی قلم سے میری رنگین پنکھڑیوں پر ایک پیغام تحریر کیا ہے ۔

The pen that Destiny employed in writing Being’s scroll Inscribed a message on my leaves for everyone to read.

4

دلم به دوش و نگاهم به عبرت امروز

شهید جلوهٔ فردا و تازه آئینم

میرا دل ماضی میں اور میری نظر آج سے عبرت لینے میں مصروف ہے ۔ آنے والے دور اسلام پر مرتا ہوں اور نیا آئین تصورات پیش کرتا ہوں ۔

My heart is with the past; my eye is on the present’s roll. A prophet of the future, I proclaim the future’s creed.

5

ز تیره خاک دمیدم قبای گل بستم

وگرنه اختر وامانده‌ای ز پروینم

میں تاریک مٹی سے پھوٹا اور پھول کا لبادہ اوڑھ لیا ۔ وگرنہ میں تو ثریا کا ایک ستارہ ہوں جو پیچھے رہ گیا ۔

I sprang up out of dust and I assumed a rose’s robe; But am, in fact, the Pleiades that was lost in the blue globe.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور