بخش 2 - جمعیت الاقوام
The League of Nations
Toggle stanza 1بَرفِتَد تا روشِ رزم درین بزم کهن
11
بَرفِتَد تا روشِ رزم درین بزم کهن
دردمندان جهان طرح نو انداختهاند
جہان کا دکھ درد رکھنے والوں نے نئی بنیاد ڈالی ہے تاکہ اس دنیا سے جنگ کی ریت اٹھ جائے
To the end that wars may cease on this old planet, the suffering peoples of the world have founded a new institution.
22
من ازین بیش ندانم که کفن دزدی چند
بهرِ تقسیم قبور انجمنی ساختهاند!
میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ کچھ کفن چوروں نے قبروں کو آپس میں بانٹنے کے لیے ایک انجمن بنا لی ہے ۔
So far as I see it amounts to this: A number of undertakers have formed a company to allot the graves.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

