رباعی شمارهٔ 63

جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی

When you gazed upon a mere fragment of stone

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: رشد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، مستنصر میر
Toggle stanza 1
اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
1
اگر کردی نگه بر پارهٔ سنگ
ز فیض آرزوی تو گهر شد

جب تو نے پتھر کے ٹکڑے پر نگاہ ڈالی —

تو وہ تیرے فیض آرزو سے قیمتی موتی بن گیا۔

When you gazed upon a mere fragment of stone —

Through your wishful grace, it turned into a pearl, all on its own.

2
به زر خود را مسنج ای بندهٔ زر
که زر از گوشهٔ چشم تو زر شد

اے زر پرست ! اپنی قیمت زر سے نہ لگا —

کیونکہ زر کو زر بنانے والی تو خود تیری نگاہ ہے۔

Slave of gold, value not yourself in its glow —

For it's your own gaze that makes the gold so.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور