رباعی شمارهٔ 122
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے
I spread my wings across eternity's vast expanse
Toggle stanza 1به پهنای ازل پر می گشودم
11
به پهنای ازل پر می گشودم
ز بند آب و گل بیگانه بودم
میں نے ازل کی وسعتوں میں اپنے پر کھولے —
میں آب و گل کے بندھن سے آزاد تھا۔
I spread my wings across eternity's vast expanse —
Freed from the bonds of water and clay's dance.
22
بچشم تو بهای من بلند است
که آوردی ببازار وجودم
آپ کی نظر میں میری قیمت گراں تھی —
اسی لیے آپ مجھے بازار وجود میں لے آئے۔
In your eyes, my worth was high, immense —
Thus, you brought me to existence's market, hence.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

