رباعی شمارهٔ 90

منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر

Forget the goal, be steadfast on the endless quest

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: هدار

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
دل از منزل تهی کن پا بره دار
1
دل از منزل تهی کن پا بره دار
نگه را پاک مثل مهر و مه دار

منزل کا خیال چھوڑ اور (دائمی) سفر اختیار کر —

(البتہ دوران سفر ) اپنی نگاہ کو سورج چاند کی طرح پاک رکھ ۔

Forget the goal, be steadfast on the endless quest —

Keep your gaze as pure as the sun and moon's crest.

2
متاع عقل و دین با دیگران بخش
غم عشق ار بدست افتد نگه دار

عقل و دین کا سرمایہ دوسروں کے لیے رہنے دے —

ہاں ، غم عشق ہاتھ آ جائے تو اسے سنبھال کے رکھ ۔

Leave the wealth of wisdom and faith for others' embrace —

Yet if Divine love’s sorrow finds you, hold it with tender grace.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور