رباعی شمارهٔ 20

زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟

O God, what joy is there in mere existence or being?

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وداست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
چه لذت یارب اندر هست و بود است
1
چه لذت یارب اندر هست و بود است
دل هر ذره در جوش نمود است

زندگی کے ہونے اور گزر جانے میں اے اللہ کیا لذت رکھی ہے؟ —

ہر ذرے کا دل اپنا آپ ظاہر کرنے کے لیے بیتاب ہے ۔

O God, what joy is there in mere existence or being? —

Every atom's heart yearns to reveal its true being.

2
شکافد شاخ را چون غنچهٔ گل
تبسم ریز از ذوق وجود است

جب کلی شاخ کو پھاڑ کر سامنے آتی ہے —

تو ذوق نمود (کی تسکین) سے مسکرا رہی ہوتی ہے۔

When the bud bursts forth from the branch’s hold —

It smiles, fulfilling its desire to unfold.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور