رباعی شمارهٔ 81

تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے

Whom do you seek, why twist and turn in quest

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ابی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، مستنصر میر
Toggle stanza 1
کرا جوئی چرا در پیچ و تابی
1
کرا جوئی چرا در پیچ و تابی
که او پیداست تو زیر نقابی

تو کسے ڈھونڈتا ہے، کس لیے پیچ و تاب میں ہے —

کہ وہ (تو) ظاہر ہے (البتہ) تو خودے پردے میں ہے۔

Whom do you seek, why twist and turn in quest —

When He is evident, yet you're hidden in your own chest.

2
تلاش او کنی جز خود نبینی
تلاش خود کنی جز او نیابی

اس کی تلاش کرے گا (تو) اپنے سوا کچھ اور نہ دیکھے گا —

اپنی تلاش کرو گے (تو) اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں لاوَ گے۔

In seeking Him, you'll see naught but your own face —

In seeking yourself, Him alone you'll embrace.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور