رباعی شمارهٔ 9

بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا

At dawn, the nightingale said to the gardener

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یرد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، مستنصر میر
Toggle stanza 1
سحر می گفت بلبل باغبان را
1
سحر می گفت بلبل باغبان را
درین گِل جز نهال غم نگیرد

بلبل نے صبح کے وقت باغبان سے کہا —

اس مٹی میں سوائے غم کے پودے کے اور کچھ نہیں اگتا۔

At dawn, the nightingale said to the gardener —

In this soil, nothing grows but the plant of sorrow.

2
به پیری میرسد خار بیابان
ولی گل چون جوان گردد بمیرد

بیابان کا کانٹا بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے —

مگر (گلستان کا) پھول جب جوان ہوتا ہے، تو مر جاتا ہے۔

The desert's thorn reaches ripe old age —

But the flower of the garden, in its youth, fades away.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور