بخش 14 - نقد شاعر در خور بازار نیست
Trifles - The poet’s product is not saleable
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
قافیہ: نانبهسیمنسترننتوانخرید
صنف: غزل/قصیده/قطعه
اردو ترجمہ: میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1نقد شاعر در خور بازار نیست
11
نقد شاعر در خور بازار نیست
نان به سیم نسترن نتوان خرید
شاعر کی متاع بازار میں لائے جانے کے قابل نہیں، گل نسترن کی چاندی سے روٹی نہیں خریدی جا سکتی ۔
The poet’s product is not saleable. The silver of a white rose will not buy you bread.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

