رباعی شمارهٔ 10

ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے

The Tulip of Sinai - 10

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: ودش

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: آربری، مخدوم حسان
Toggle stanza 1
جهان ما که نابود است بودش
1
جهان ما که نابود است بودش
زیان توام همی زاید بسودش

ہمارا جہان جس کا ہونا، نہ ہونے کے برابر ہے —

یہاں فوائد بڑھنے کے ساتھ نقصان کا بڑھنا لازم وملزوم ہے۔

This world of ours, where Loss is born with gain and dissolution is with Being twain.

2
کهن را نو کن و طرح دگر ریز
دل ما بر نتابد دیر و زودش

یہ پرانا ہو چکا ہے، اس کی بنیاد از سر نو اٹھا کر اسے نیا کر —

ہمارا دل اس سلسلے میں دیر سویر کی تاب نہیں رکھتا۔

Our heart will not endure it, soon or late: Make new the old, and build it up again!

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور