رباعی شمارهٔ 153
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی
From the soil of a grave, a whisper reached my ear
Toggle stanza 1به گوشم آمد از خاک مزاری
11
به گوشم آمد از خاک مزاری
که در زیر زمین هم میتوان زیست
خاک مزار سے میرے کان میں یہ آواز آئی —
کہ قبر میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔
From the soil of a grave, a whisper reached my ear —
That even in the tomb, one can persevere.
22
نفس دارد ولیکن جان ندارد
کسی کو بر مراد دیگران زیست
اس شخص کے اندر سانس ہے مگر جان نہيں —
جو دوسروں کی خواہش کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے
He breathes, yet lacks a soul's true fire —
Who lives his life by another's desire.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

