رباعی شمارهٔ 50

تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے

Your heart trembles with the thought of death

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: یری

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: قطعه

انگریزی ترجمہ: مخدوم حسان، ہادی حسین
Toggle stanza 1
دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
1
دلت می لرزد از اندیشهٔ مرگ
ز بیمش زرد مانند زریری

تیرا دل موت کی فکر سے لرز رہا ہے —

اس کے خوف سے تو ہلدی کی مانند زرد ہے۔

Your heart trembles with the thought of death —

Paled by its fear, like turmeric's yellow breath.

2
به خود باز آ خودی را پخته تر گیر
اگر گیری ، پس از مردن نمیری

اپنے آپ میں واپس آ ، اپنی خودی کو مستحکم کر —

اگر ایسا کرے گا، تو مرنے کے بعد بھی نہیں مرے گا ۔

Return to yourself, strengthen your inner core —

If grasped firmly, death won't touch you anymore.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور