بخش 43 - غلامی
غلامی
Slavery
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1آدم از بی بصری بندگی آدم کرد
11
آدم از بی بصری بندگی آدم کرد
گوهری داشت ولی نذر قباد و جم کرد
آدمی نے اندھے پن سے آدمی کی غلامی کی، ایک موتی رکھتا تھا مگر وہ بھی بادشاہوں کی نذر کر دیا ۔
Man out of his shortsightedness consents to be a slave. He had something in him, but gave it all away to kings.
22
یعنی از خوی غلامی ز سگان خوار تر است
من ندیدم که سگی پیش سگی سر خم کرد
یعنی غلامی کی لت سے کتوں سے بھی بڑھ کر خوار ہے میں نے نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو ۔
Because of this servility he is worse than a dog. No dog will ever call adoringly another dog his lord.
زمین

