بند 1
Toggle stanza 1
پیر رومی مرشد روشن ضمیر
1
پیر رومی مرشد روشن ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

پیر رومی جو کہ روشن ضمیر رکھنے والا مرشد —

اور عشق و مستی کے کاروان کا امیر ہے۔

The Pir of Rum, the clairvoyant murshid —

The leader of the caravan of love and ecstasy.

2
منزلش برتر ز ماه و آفتاب
خیمه را از کهکشان سازد طناب

اس کی منزل چاند اور سورج سے بھی بلند تر ہے —

کہکشاں اس کے خیمے کی طناب ہے ۔

Whose station is far above the Moon and the Sun —

For whose tent the Milky Way serves as pegs.

3
نور قرآن در میان سینه اش
جام جم شرمنده از آئینه اش

اس کے سینہ کے اندر قرآن پاک کا نور ہے —

(یہی وجہ ہے کہ) اس کے آئینہ (قلب) سے جام جم شرمندہ ہے۔

Whose heart is effulgent with the light of the Quran —

Whose mirror is more revealing than Jamshid’s cup.

4
از نی آن نی نواز پاکزاد
باز شوری در نهاد من فتاد

اس پاک سرشت نے نواز کے نغمہ نے —

میری طبیعت کے اندر دوبارہ ہنگامہ پیدا کر دیا۔

That musician of Pure breed, with his music —

Has thrown my being into tumult once again.

5
گفت «جانها محرم اسرار شد
خاور از خواب گران بیدار شد

اس نے کہا: (مشرق کے) لوگ راز ہائے حیات سے با خبر ہو چکے ہیں —

(گویا) مشرق گہری نیند سے بیدار ہو چکا ہے۔

Said he: The people have become aware of the secrets —

The East has awoken from its deep slumber.

6
جذبه های تازه او را داده اند
بندهای کهنه را بگشاده اند

(خدا کی طرف سے) مشرق کو نئے ولولے عطا ہوئے ہیں —

اور اس کی پرانی غلامی کی بیڑیاں کھول دی گئی ہیں۔

Destiny has given it new aspirations —

And loosened its age-old chains.

7
جز تو ای دانای اسرار فرنگ
کس نکو ننشست در نار فرنگ

اے وہ کہ جو فرنگی رازوں سے اچھی طرح باخبر ہے ! تیرے علاوہ —

اور کوئی یورپ کی آگ میں سلامت نہیں بیٹھ سکا۔

No one, O knower of the secrets of the West —

Has experienced the fire of the West better than you.

8
باش مانند خلیل الله مست
هر کهن بتخانه را باید شکست

ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی مانند مست رہ —

(کیونکہ) ہر پرانا بتخانہ گرا دینا ضروری ہے۔

Be God-intoxicated like the Abaraham, Friend of God —

And help bring down every idol-temple.

9
امتان را زندگی جذب درون
کم نظر این جذب را گوید جنون

باطنی کشش (ہی) سے قوموں کی زندگی ہے—

(مگر) کم نظر اس باطنی کشش کو پاگل پن کہتے ہیں۔

It is ecstasy that imparts life to peoples —

Though the undiscerning call it madness.

10
هیچ قومی زیر چرخ لاجورد
بی جنون ذوفنون کاری نکرد

کوئی قوم اس نیلے آسمان کے نیچے —

فن رکھنے والے جنون کے بغیر عظیم کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتی۔

No people under the azure dome of the sky —

Has ever achieved anything without this ingenious madness.

11
مؤمن از عزم و توکل قاهر است
گر ندارد این دو جوهر کافر است

مومن عزم و توکّل ہی سے صاحب جبروت ہے —

اگر اس میں یہ دو صفات نہ ہوں تو وہ کافر ہے۔

The believer is strong through his will and his tawakkul —

If he lacks these two, he is an unbeliever.

12
خیر را او باز میداند ز شر
از نگاهش عالمی زیر و زبر

مومن خیر و شر کو الگ الگ پہچان لیتا ہے—

اس کی ایک نگاہ سے دنیا زیر و زبر ہو جاتی ہے۔

He can distinguish between good and evil —

A mere look from him can shake the whole world.

13
کوهسار از ضربت او ریز ریز
در گریبانش هزاران رستخیز

پہاڑ اس کی ضرب سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں —

اس کے گریبان میں ہزاروں ہنگامے برپا رہتے ہیں۔

His blow can crush a mountain to pieces —

And he has thousands of resurrections at his command.

14
تا می از میخانهٔ من خورده ئی
کهنگی را از تماشا برده ئی

چونکہ تو میرے میخانہ سے شراب پی چکا ہے —

اور پرانی اقدار کو سامنے سے ہٹا چکا ہے۔

Having drunk wine from my tavern —

You have removed all out-modedness from your vision.

15
در چمن زی مثل بو مستور و فاش
در میان رنگ پاک از رنگ باش

اس لیے چمن میں خوشبو کی مانند زندگی بسر کر کہ تو مخفی بھی رہے اور ظاہر بھی —

دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کے رنگ سے اپنے آپ کو پاک رکھ۔

Live in the garden like smell, both hidden and manifest —

Live among colours, but be free from colour.

16
عصر تو از رمز جان آگاه نیست
دین او جز حب غیر الله نیست

تیرا زمانہ روحانی رموز سے آگاہ نہیں —

اس کا مذہب صرف غیر اللہ سے محبت ہے۔

Your age is not aware of the secrets of the spirit —

Its creed is nothing but love for the other-than-God.

17
فلسفی این رمز کم فهمیده است
فکر او بر آب و گل پیچیده است

فلسفی نے بھی اس رمز کو نہیں پہچانا —

اس کی ساری سوچ مادی اشیاء کے گرد گھومتی ہے۔

Little has the philosopher understood this point —

His thought revolves only round matter.

18
دیده از قندیل دل روشن نکرد
پس ندید الا کبود و سرخ و زرد

اس نے اپنی آنکھ کو دل کے چراغ سے روشن نہیں کیا —

اس لیے اس نے صرف نیلے، سرخ اور زرد رنگ دیکھے (اللہ کا رنگ نہ دیکھ سکا)۔

He has not illumined his eyes with the lantern of the heart —

Hence he sees nothing but blue, red and yellow.

19
ای خوش آن مردی که دل با کس نداد
بند غیر الله را از پا گشاد

مبارک ہے وہ شخص جس نے کسی کو دل نہ دیا —

جس کے پاؤں غیر اللہ کے بند سے آزاد رہے۔

Fortunate is he who never bowed before any man —

And who freed his feet from the chains of servitude to the other-than-God.

بند 2
Toggle stanza 2
سر شیری را نفهمد گاو و میش
20
سر شیری را نفهمد گاو و میش
جز به شیران کم بگو اسرار خویش

گائیں بھینسیں شیر کے راز نہیں سمجھ سکتیں —

اس لیے اپنے راز صرف شیروں کو بتا۔

What it means to be a lion is beyond the ken of cows and buffaloes —

Never reveal your secret except to lions.

21
با حریف سفله نتوان خورد می
گرچه باشد پادشاه روم و ری

کم ظرف اور پست ہمت آدمی کے ساتھ شراب عشق نہیں پی جاسکتی —

خواہ وہ روم و رے کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو (مسلک عشق عالی ظرف اور بلند ہمت لوگوں کا کام ہے)

One should not drink wine in the company of a churl —

Though he may be king of Rum or Rayy.

22
یوسف ما را اگر گرگی برد
به که مردی ناکسی او را خرد

ہمارے یوسف (علیہ السلام) کو اگر بھیڑیا لے جائے —

تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ کوئی گھٹیا شخص انہیں خریدے۔

It is better that our Joseph be taken away by a wolf than —

Be bought by an unworthy person.

23
اهل دنیا بی تخیل بی قیاس
بوریا بافان اطلس ناشناس

اہل دنیا نہ تخیّل رکھتے ہیں، نہ سوچ —

وہ بوریئے بننے میں لگے رہتے ہیں ، انہیں اطلس کی خبر ہی نہیں۔

People of the world lack reason and imagination —

They are weavers of mat and know nothing about satin.

24
اعجمی مردی چه خوش شعری سرود
سوزد از تأثیر او جان در وجود

عجمی مرد نے کیا خوب شعر کہا —

جس کی تاثیر سے روح میں سوز پیدا ہو گیا۔

What a beautiful verse a Persian poet has sung —

Which sets the soul afire:

25
«نالهٔ عاشق بگوش مردم دنیا
بانگ مسلمانی و دیار فرنگ است»

'دنیا دار کے کانوں میں عاشق کا نالہ (و فریاد یوں ہے جیسے) —

فرنگیوں کے ملک میں بانگ آذاں'۔

‘To the ears of the people of the world, the wailing of the lover is like —

The cry of the azan in the land of the Franks’.

بند 3
Toggle stanza 3
معنی دین و سیاست باز گوی
26
معنی دین و سیاست باز گوی
اهل حق را زین دو حکمت باز گوی

دین و سیاست کے معنی پھر بیان کر —

اہل حق کو از سر نو ان دونوں کی حکمت سے آگاہ کر۔

Reveal once again the significance of religion and politics —

Tell the devotees of the Truth what you understand by them.

27
«غم خور و نان غم افزایان مخور
زانکه عاقل غم خورد کودک شکر»

غم کھا لے، مگر غم بڑھانے والوں کی روٹی نہ کھا —

کیونکہ عقلمند غم کھاتا ہے اور بچہ شکر کھاتا ہے۔ (رومی)

‘Suffer grief (patiently) and do not eat the bread of those who augment grief —

A wise man suffers grief while a child eats sweets.’ Rumi.

رومی
28
خرقه خود بار است بر دوش فقیر
چون صبا جز بوی گل سامان مگیر

فقیر کے کندھے پر تو گدڑی بھی بوجھ ہے —

باد صبح کی مانند سوائے پھول کی خوشبو کے اور سامان نہ اٹھا۔

To the Faqir, even his patched-up garment is a burden —

Like breeze you should carry nothing except the smell of roses.

29
قلزمی با دشت و در پیهم ستیز
شبنمی خود را به گلبرگی بریز

اگر تو سمندر ہے تو آبادی و ویرانہ سے مسلسل نبرد آزما ہو —

اگر شبنم ہے تو پھول کی پتی پر ٹپک۔

Are you an ocean? Then be constantly at war with your environment —

Are you a dew-drop? Then drop yourself gently on a rose-petal.

بند 4
Toggle stanza 4
سر حق بر مرد حق پوشیده نیست
30
سر حق بر مرد حق پوشیده نیست
روح مؤمن هیچ میدانی که چیست؟

مرد حق سے راز حق پوشیدہ نہیں —

کیا تو جانتا ہے کہ روح مومن کیا ہے؟

The Divine mystery is not hidden from the man of God —

Do you know what is the true nature of a believer’s soul?

31
قطرهٔ شبنم که از ذوق نمود
عقدهٔ خود را بدست خود گشود

قطرہء شبنم نے اظہار ذات کے شوق میں —

اپنی گتھی اپنے ہی ہاتھ سے سلجھائی۔

It is a drop of dew which, out of desire for self-manifestation —

Unravelled its own knot with its own hands.

32
از خودی اندر ضمیر خود نشست
رخت خویش از خلوت افلاک بست

تحفّظ ذات کی خاطر وہ اپنے ضمیر کے اندر رہا —

(اور پھر) افلاک کی خلوت سے اپنا سامان سمیٹا۔

Which sat in the depth of its being by dint of selfhood —

Which started on its journey from the stillness of the heavens.

33
رخ سوی دریای بی پایان نکرد
خویشتن را در صدف پنهان نکرد

(لیکن اس نے) بحر بے پایاں کی طرف رخ نہیں کیا —

نہ ہی اپنے آپ کو سیپ میں پنہاں کیا۔

Which did not turn towards the limitless expanse of the ocean —

Nor hid itself in an oyster.

34
اندر آغوش سحر یکدم تپید
تا بکام غنچهٔ نورس چکید»

(بلکہ) صبح کی آغوش میں ایک لمحہ کے لیے چمک کر —

اس نے اپنے آپ کو تازہ کھلے غنچہ کے منہ میں ٹپکا دیا۔

It palpitated in the lap of the morning for a moment —

And then dropped into the mouth of the new-born bud.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور