بخش 3 - نه تا سخن از عارف هندی
ہندی رشی کی نو باتیں (ہندو فلسفہ)۔
Nine Sayings of the Indian Sage
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
Toggle stanza 1ذات حق را نیست این عالم حجاب
ذات حق را نیست این عالم حجاب
غوطه را حایل نگردد نقش آب
ذاتِ حق کے لیے یہ کائنات پردہ نہیں ہے ۔ پانی کی سطح کا نقش غوطہ لگانے میں حائل نہیں بنتا ۔
This world is not a veil over the Essence of God; the image in the water is no barrier to plunging in.
Toggle stanza 2زادن اندر عالمی دیگر خوش است
زادن اندر عالمی دیگر خوش است
تا شباب دیگری آید بدست
کسی اور دوسرے جہان میں پیدا ہونا اچھی بات ہے تاکہ ایک اور جوانی ہاتھ لگ جائے ۔
It is delightful to be born into another world, so that another youth may thereby be attained.
Toggle stanza 3حق ورای مرگ و عین زندگی است
حق ورای مرگ و عین زندگی است
بنده چون میرد نمیداند که چیست
حق موت سے ماورا اور سراپا زندگی (عین حیات) ہے ۔ بندہ جب مرتا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ یہ حق کیا ہے
God is beyond death, He is the very essence of life; when His servant dies, He knows not what is happening.
گرچه ما مرغان بی بال و پریم
از خدا در علمِ مرگ افزونتریم
اگرچہ ہم بال و پر کے بغیر پرندے ہیں لیکن موت کے بارے میں ہمارا علم خدا سے زیادہ ہے ۔ مطلب یہ کہ خدا تعالیٰ حی و قیوم ہے یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے ۔
Though we are birds without wings or feathers, we know more of the science of death than God;
Toggle stanza 4وقت؟ شیرینیِ به زهر آمیخته
وقت؟ شیرینیِ به زهر آمیخته
رحمتِ عامی به قهر آمیخته
وقت کیا ہے یہ ایسی شیرینی ہے جس میں زہر ملا ہوا ہے ۔ یہ عام رحمت ہے جس میں قہر ملا ہوا ہے ۔
Time? It is a sweet mingled with poison, a general compassion mingled with vengeance;
خالی از قهرش نبینی شهر و دشت
رحمت او اینکه گوئی درگذشت
تو شہر اور بیابان کو وقت کے قہر سے خالی دیکھتا ہے ۔ اس کی رحمت یہ ہے کہ تو کہے وقت گزر گیا ۔
you see neither city nor plain free of its vengeance – its compassion is that you may say, ‘It has passed.’
Toggle stanza 5کافری مرگست ای روشننهاد
کافری مرگست ای روشننهاد
کی سزد با مردهغازی را جهاد
اے روشن فطرت ضمیر انسان (اقبال) یہ جان لے کہ کافری (خدا کے وجود سے انکار) موت ہے ۔ غازی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ مردے سے جہاد کرے ۔
Unbelief is death, my enlightened friend; how beseems it a hero to wage holy war on the dead?
مرد مؤمن زنده و با خود به جنگ
بر خود افتد همچو بر آهو پلنگ
مردِ مومن زندہ ہے اور وہ اپنے آپ سے برسرِ پیکار ہے ۔ وہ مومن اپنے آپ پر کچھ اس انداز میں چھپٹتا ہے جیسے چیتا، ہرن پر جھپٹتا ہے ۔
The believer is living, and at war with himself, he falls upon himself like a panther on a deer.
Toggle stanza 6کافرِ بیداردل پیشِ صنم
کافرِ بیداردل پیشِ صنم
بهْ ز دینداری که خفت اندر حرم
بت کے سامنے بیٹھا ہوا ایک بیدار دل کافر اس دین دار (مسلمان) سے افضل ہے جو کعبہ میں سویا ہوا ہے ۔
The infidel with a wakeful heart praying to an idol is better than a religious man asleep in the sanctuary.
Toggle stanza 7چشمکورست اینکه بیند ناصواب
چشمکورست اینکه بیند ناصواب
هیچگه شب را نبیند آفتاب
وہ آنکھ جو برائی کو دیکھتی ہے وہ اندھی ہے ۔ سورج کو کسی جگہ بھی رات نظر نہیں آتی ۔
Blind is the eye that sees sin and error; never does the sun behold the night.
Toggle stanza 8صحبتِ گُل دانه را سازد درخت
صحبتِ گُل دانه را سازد درخت
آدمی از صحبت گل تیرهبخت
مٹی کی صحبت دانہ کو درخت بنا دیتی ہے ۔ جبکہ آدمی مٹی کی صحبت سے بدبخت ہو جاتا ہے ۔
Association with the mire makes the seed a tree; man by association with the mire is brought to shame.
دانه از گل میپذیرد پیچ و تاب
تا کند صیدِ شعاعِ آفتاب
دانہ مٹی کے اندر پیچ و تاب کھا کر اس سے باہر نکل آتا ہے تاکہ وہ آفتاب کی شعاع کو شکار کر سکے ۔
The seed receives from the mire twisting and turning that it may make its prey the rays of the sun.
Toggle stanza 9من بگل گفتم بگو ای سینهچاک
من بگل گفتم بگو ای سینهچاک
چوُن بگیری رنگ و بو از باد و خاک؟
میں نے پھول سے کہا کہ اے سینہ چاک تو ذرا یہ تو مجھے بتا کہ ہوا اور مٹی سے رنگ اور خوشبو کیسے حاصل کرتا ہے
I said to the rose, ‘Tell me, you with your torn breast, how do you take colour and scent from the wind and the dust?’
گفت گل؛ ای هوشمندِ رفتههوش
چوُن پیامی گیری از برقِ خموش؟
پھول نے کہا کہ اے ہوش سے خالی صاحب ہوش تو خاموش بجلی سے پیغام کیسے حاصل کرتا ہے
The rose said, ‘Intelligent man bereft of intelligence, how do you take a message from the silent electric ray?
جان به تن ما را ز جذبِ این و آن
جذبِ تو پیدا و جذبِ ما نهان
ہمارے جسم میں جو جان ہے وہ اس اور اس کے جذب سے ہے ۔ تیرا جذب ظاہر ہے اور ہمارا جذب پوشیدہ ہے ۔
The soul is in our body through the attraction of this and that; your attraction is manifest. whereas ours is hidden.’
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

