بخش 3 - سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
Toggle stanza 1سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
سحر با ناقه گفتم نرم تر رو
که راکب خسته و بیمار و پیر است
صبح کے وقت میں نے اونٹنی سے کہا کہ آہستگی سے چل کیونکہ تیرا سوار کمزور ، بیمار اور بوڑھا ہے ۔
That dawn I asked naqah not to run quick, Its rider is feeble, too old and sick.
قدم مستانه زد چندان که گوئی
بپایش ریگ این صحرا حریر است
میں نے اسے جتنا کہا اس نے اس کے خلاف مستی بھرے قدم اٹھائے جیسے اس کے پاؤں اس صحرا کی ریت پر نہیں ریشمی کپڑے پر ہوں ۔
In a dancing prance move but she runs more, That sand to her feet is a silky floor.
Toggle stanza 2مهار ای ساربان او را نشاید
مهار ای ساربان او را نشاید
که جان او چو جان ما بصیر است
اے ساربان اس کو نکیل نہیں چاہیے کیونکہ ان کی جان ہی میرے جان کی طرح (جلوہ محبوب) کو دیکھنے والی ہے ۔
She needs no reins O I teamster hence! Like my own wits she has the same sense.
من از موج خرامش می شناسم
چو من اندر طلسم دل اسیر است
میں اسے اس کی رفتار کی موج سے پہچان رہا ہوں ۔ کہ میری طرح وہ بھی دل کے جادو کی قیدی ہے ۔
From its wavelike trot a plea I would form, Like me she is captive of heart’s own charm.
Toggle stanza 3نم اشک است در چشم سیاهش
نم اشک است در چشم سیاهش
دلم سوزد ز آه صبحگاهش
اس کی اونٹنی کی سیاہ روشن آنکھوں میں آنسووَں کی نمی ہے ۔ میرا دل اس کی صبح کے وقت کی آہ سے جلتا ہے ۔
Yet tears moist vivid in jet black eyes, My heart thus burns from his morning sighs.
همان می کو ضمیرم را برافروخت
پیاپی ریزد از موج نگاهش
وہی شراب (عشق رسول کی شراب) جس سے میرا ضمیر روشن ہے ۔ اس اونٹنی کی نگاہ کی موج سے مسلسل گر رہی ہے ۔
That burnt my conscience was the sole wine, Flowing with his gaze like wavelets fine.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
چه رخساره که از بدر منیر است
لبش شکر فروش جوی شیر است
عطاردیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 64
به ملک خویش عثمانی امیر است
دلش آگاه و چشم او بصیر است
علامہ اقبالارمغان حجازحضور ملتبخش 11 - ترک عثمانی
اگر دانا دل و صافی ضمیر است
فقیری با تهی دستی امیر است
علامہ اقبالارمغان حجازبه یاران طریقتبخش 2 - اگر دانا دل و صافی ضمیر است
دل من در طلسم خود اسیر است
جهان از پرتو او تاب گیر است
علامہ اقبالپیام مشرقلالهٔ طوررباعی شمارهٔ 77

