بخش 9 - دگرگون کشور هندوستان است

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اناست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 7

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: بشیر احمد
بند 1
Toggle stanza 1
دگرگون کشور هندوستان است
1

دگرگون کشور هندوستان است

دگرگون آن زمین و آسمان است

ہندوستان کی سلطنت رنگ بدل چکی ہے ۔ اسکی زمین اور آسمان تبدیل ہو چکا ہے ۔

This land of Hind is all topsy‐turvy, this earth and heaven are all upside down,

2

مجو از ما نمازِ پنج‌گانه

غلامان را صف‌آرایی گران است

ہم سے پانچ وقت کی نماز نہ مانگ کیونکہ غلاموں کو صف آراء ہونا بھاری ہوتا ہے ۔

don’t expect from us five daily prayers, for drawing up in rows is burdensome for slaves.

بند 2
Toggle stanza 2
ز محکومی مسلمان خودفروش است
3

ز محکومی مسلمان خودفروش است

گرفتارِ طلسمِ چشم و گوش است

مسلمان غلامی کی وجہ سے خود کو اپنے ضمیر کو بیچتا ہے ۔ وہ آنکھ اور کان کے جادو (عیش کوشی) میں مصروف ہے ۔

Muslim has sold himself away due to slavery, and is fettered to the talisman of eye and ear;

4

ز محکومی رگان در تن، چنان سست

که ما را شرع و آیین، بارِ دوش است

محکومی کی وجہ سے رگیں جسم میں اس طرح سست ہو چکی ہیں کہ ہمیں شریعت اور اللہ کا قانون کندھوں کا بوجھ معلوم ہوتے ہیں (اسلامی آئین سے بیزار ہو چکے ہیں ۔

his body’s veins grow so indolent through slavery that shari‘ah and law become a burden for us.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں