بخش 1 - به حق دل بند و راه مصطفی رو
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
Toggle stanza 1به منزل کوش مانند مه نو
به منزل کوش مانند مه نو
درین نیلی فضا هر دم فزون شو
نئے چاند کی طرح منزل کو پانے کی کوشش کرتے رہو ۔ اس نیلی فضا میں ہر لمحہ بڑھتے رہو ۔
Be nearer to the aim like a moon new, Seek the higher heights with efforts anew.
مقام خویش اگر خواهی درین دیر
به حق دل بند و راه مصطفی رو
اگر تو اس جہان میں اپنا مقام پانا چاہتا ہے تو اللہ سے دل لگا اور حضرت محمد ﷺ کے راستے پرچلو (ان کی شریعت اور اسوہَ حسنہ کو اختیار کرو) ۔
A place in this lane if you wish to make, Make a tie with God in the Prophet’s wake.
Toggle stanza 2چو موج از بحر خود بالیده ام من
چو موج از بحر خود بالیده ام من
بخود مثل گهر پیچیده ام من
میں اپنے سمندر سے لہر کی طرح ابھرتا ہوں ۔ میں موتی کی طرح اپنے آپ سے الجھتا ہوں ۔
My self’s own sea gave a rise to me, It sharpen’d my wits like pearls in sea.
از آن نمرود با من سر گران است
به تعمیر حرم کوشیده ام من
دور حاضر کا نمرود (انگریز) ا س لیے مجھ سے ناراض ہے کیونکہ میں نے کعبہ کی تعمیر کی کوشش کی ہے ۔ یعنی اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں میں ازسر نو اسلام کی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔
On me that ‘Nimrod’ is boiling with rage. Fm trying to build up ‘Harem’s’ image.
Toggle stanza 3بیا ساقی بگردان ساتگین را
بیا ساقی بگردان ساتگین را
بیفشان بر دو گیتی آستین را
اے ساقی آ اور شراب کے بڑے پیالے کو گردش میں لا ۔ اپنی آستین کو دونوں جہانوں سے بے نیاز کر دے ۔
Come O’ bearer and move the cup of Wine, And leave the worlds both under long veils line,
حقیقت را به رندی فاش کردند
که ملا کم شناسد رمز دین را
کارکنان قضا و قدر نے حقیقت کو ایک رند پر ظاہر کر دیا ۔ ملا دین کی باتوں کو نہیں پہچانتا ۔
He raised all the curtains before this sot, The codes of His Path the ‘Mullah’ knew not.
Toggle stanza 4بیا ساقی نقاب از رخ برافکن
بیا ساقی نقاب از رخ برافکن
چکید از چشم من خون دل من
اے ساقی آ، میرے چہرے سے چہرہ اٹھا دے یعنی حجاب اٹھا دے ۔ میری آنکھ سے میرے دل کا خون ٹپک رہا ہے ۔
Come O’ bearer and raise the veils aside, Cause my heart’s blood’ dripping from the eyes side.
به آن لحنی که نه شرقی نه غربی است
نوائی از مقام «لاتخف» زن
اس زبان (قرآن کی زبان) سے جو نہ شرقی ہے اور نہ مغربی ۔ لا تخف کے مقام سے صدا پیدا کر ۔ مراد کہ قرآن کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے وقت کے فرعونوں سے جہاد کر ۔
From a tone which gives no East or West trace, Send a ‘no fear note’ from the ‘no fear place.’
Toggle stanza 5برون از سینه کش تکبیر خود را
برون از سینه کش تکبیر خود را
بخاک خویش زن اکسیر خود را
اپنے سینے سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کر ۔ اپنی مٹی میں اکسیر کا سا عمل پیدا کر ۔
Raise from thy bosom a ‘Call of God Great’, Hit thy own exir on thy dusty fate.
خودی را گیر و محکم گیر و خوش زی
مده در دست کس تقدیر خود را
اپنے اندر خودی پیدا کر، پھر اسے مضبوط بنا اور تو خوشی سے زندگی گزار ۔ اپنی تقدیر کو کسی کے ہاتھ میں نہ دے ۔
Gaurd thy ego ever, lead a life nice, To none give thy luck at any great price.
Toggle stanza 6مسلمان از خودی مرد تمام است
مسلمان از خودی مرد تمام است
بخاکش تا خودی میرد غلام است
خودی کی وجہ سے مسلمان ایک مکمل مرد ہے ۔ جب اس کی مٹی سے خود ی مر جاتی ہے تو غلام بن جاتا ہے ، مراد نفس کا غلام بن جاتا ہے ۔
From self a Muslim is man perfect He is slave when it dies in heart in fact.
اگر خود را متاع خویش دانی
نگه را جز بخود بستن حرام است
اگر تو خود کو سرمایہ جانتا، سمجھتا ہے تو اپنے سوا کسی دوسرے پر نظر رکھنا حرام ہے ۔
If you take thy ‘self’, ‘a priceless’ lot, To look save Thee is a tabood thought.
Toggle stanza 7مسلمانان که خود را فاش دیدند
مسلمانان که خود را فاش دیدند
به هر دریا چو گوهر آرمیدند
وہ مسلمان جنھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دیکھ لیا ۔ وہ جس دریا میں اترے وہ اس میں موتی کی طرح پرسکون رہے ۔
As long the Muslim, in self can peep, Like pearls they rest in the oceans deep.
اگر از خود رمیدند اندرین دیر
بجان تو که مرگ خود خریدند
اگر وہ اس بت خانہ دنیا میں اپنے آپ سے دور اور بیگانہ رہے، تو تیری جان کی قسم انھوں نے اپنے ہاتھوں اپنی موت خریدی
From ego if you ran in this fane, Your own death you buy for life’s bargain.
Toggle stanza 8گشودم پردهء از روی تقدیر
گشودم پردهء از روی تقدیر
مشو نومید و راه مصطفی گیر
میں نے تقدیر کے چہرے سے نقاب ہٹایا ہے ۔ اے مسلمان مایوس نہ ہو اور مصطفی کا راستہ اختیار کر ۔
The veils of thy fortune lo! I ope, Take the Prophet’s path give up no hope.
اگر باور نداری آنچه گفتم
ز دین بگریز و مرگ کافری میر
اگر تو اس پر یقین نہیں رکھتا جو کچھ بھی میں نے کہا تو اے مسلم دین اسلام سے بھاگ اور کافر کی موت مر ۔
If you believe not whatever I say, Give up the faith and die in Kafir’s way.
Toggle stanza 9به ترکان بسته درها را گشادند
به ترکان بسته درها را گشادند
بنای مصریان محکم نهادند
اہل ترک پر ترقی کے بند دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔ اہل مصر کی بنیاد کو بھی مضبوط اور مستحکم کر دیا گیا ہے ۔
Now all the shut doors for Turks are ope. The Egypt’s base would be firm I hope.
تو هم دستی بدامان خودی زن
که بی او ملک و دین کس را ندادند
تو بھی اپنے ہاتھ سے خودی کے دامن کو پکڑ لے کیونکہ اس کے بغیر ملک و دین کسی کو نہیں دیا گیا ۔
You give a rap too at the Ego’s door, None knew without it his faith and land’s lore.
Toggle stanza 10هر آن قومی که می ریزد بهارش
هر آن قومی که می ریزد بهارش
نسازد جز به بوهای رمیده
ہر وہ قوم جس کے باغ کی بہار جا چکی ہے یعنی جو زوال کا شکار ہو چکی ہے ۔ وہ سوائے اڑ جانے یا ختم ہو جانے والی خوشبووَں کے کسی سے موافقت نہیں رکھتی ۔
A nation whose spring falls to decay, She always craves for the good old days.
ز خاکش لاله می روید ولیکن
قبائی دارد از رنگ پریده
اس کی خاک سے لالہ اگتا ہے لیکن اس کی قبا (لالے کا سرخ لباس) ا رنگ اڑنے والا ہے ۔ یعنی اس کی خوبصورتی عارضی ہے ۔
A poppy grows though from her dusty gems, It also takes a gown of fading stems.
Toggle stanza 11خدا آن ملتی را سروری داد
خدا آن ملتی را سروری داد
که تقدیرش به دست خویش بنوشت
خدا نے اس قوم کو حاکمیت ودیعت کی ہے جس نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھ سے لکھی ہے ۔
God gave that nation a sway o’er lands, Who shaped her fortunes with her hands.
به آن ملت سروکاری ندارد
که دهقانش برای دیگران کشت
وہ خدا اس قوم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جس کے کسان دوسروں کے لیے کھیتی باڑی کرتے ہیں ۔
With that nation he keeps no links. Whose farmer tills for other’s drinks.
Toggle stanza 12ز رازی حکمت قرآن بیاموز
ز رازی حکمت قرآن بیاموز
چراغی از چراغ او بر افروز
اے مسلمان رازی سے قرآن کی حکمت سیکھ، اس کے علم کے چراغ سے اپنا چراغ روشن کر ۔
From Razi thus learn the Quran’s insight, From his lamp he lit up his own lamp’s light.
ولی این نکته را از من فرا گیر
که نتوان زیستن بی مستی و سوز
لیکن اس بات کی باریکی کو مجھ سے سمجھ ۔ کیونکہ عشق کی مستی اور حرارت کے بغیر زندگی نہیں گزاری جا سکتی ۔
But a point from me you must learn hence, That can’t be life, lacking flame and trance.
زمین
ہم وزن و قافیہ نظمیں
شبی چون مه نمودی روی نیکو
برآمد نعره از انجم که ما هو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 798
دلا کام از لبش با چشم تر جو
والا لم تجد ما کنت ترجو
جامیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 800
در این رقص و در این های و در این هو
میان ماست گردان میر مه رو
رومیدیوان شمسغزلیاتغزل شمارهٔ 2188
من از دست کمانداران ابرو
نمییارم گذر کردن به هر سو
سعدیدیوان اشعارغزلیاتغزل شمارهٔ 479
پدر گفتش که چون زر سایه افکند
ترا از گوهر و از پایه افکند
عطارالهی نامهبخش بیستمجواب پدر

