بخش 4 - صوفی و ملا

شاعر: علامہ اقبال

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: وست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: کبیر
بند 1
Toggle stanza 1
گرفتم حضرت ملا ترش روست
1

گرفتم حضرت ملا ترش روست

نگاهش مغز را نشناسد از پوست

میں جانتا ہوں کہ حضرت ملا سخت مزاج ہے ۔ اور اس کی نگاہ چھلکے کو تو پہچانتی ہے مغز کو نہیں ۔ یعنی ملا کی نگاہ ظاہر پر ہے باطن سے اسے کوئی سروکار نہیں ۔ اسی لیے عہد حاضر کی ترقی کو برا بھلا کہتا ہے ۔

The Mullah and Sufi are cross in deed, His eye seldom sees the pitch in its seed.

2

اگر با این مسلمانی که دارم

مرا از کعبه میراند حق او ست

اگر وہ یعنی ملا اس مسلمانی سے ہے جو ہم رکھتے ہیں تو اس کا حق ہے کہ وہ ہ میں کعبہ (اسلام) سے خارج کرتا ہے ۔

If this is the faith which I have in me, To oust me from Kaaba a right has he.

بند 2
Toggle stanza 2
فرنگی صید بست از کعبه و دیر
3

فرنگی صید بست از کعبه و دیر

صدا از خانقاهان رفت «لاغیر»

فرنگی نے کعبہ اور مندر سے شکار باندھے ۔ یہاں تک کہ خانقاہوں سے آواز آئی کہ فرنگی غیر تو نہیں ۔ یعنی فرنگی نے اس طرح مسلمان اور ہندو کے ذہن پر اپنی تہذیب و ثقافت کا رنگ چڑھایا کہ سجادہ نشین بھی انہیں اپنانے لگے ۔

When the English subdued the mosque and fane, “No aliens are they”, said the convent’s brain.

4

حکایت پیش ملا باز گفتم

دعا فرمود «یا رب عاقبت خیر»

میں صورت حال ملا کے سامنے بیان کی ۔ اس نے دعا کی یا اللہ ا نجام اچھا کر ۔

I told my fears to a Mullah when, “Make his end well”, he just prayed then.

بند 3
Toggle stanza 3
به بند صوفی و ملا اسیری
5

به بند صوفی و ملا اسیری

حیات از حکمت قرآن نگیری

اے مسلمان تو صوفی و ملا کی زنجیروں میں قید ہے ۔ قرآن کی حکمت سے زندگی حاصل نہیں کرتا ۔

To Mullah and Sufi thou art a slave, From insight of Quran no life you crave.

6

به آیاتش ترا کاری جز این نیست

که از «یٰسن» او آسان بمیری

تجھے اس کی آیتوں سے اس کے سوا کوئی سروکار نہیں کہ اس کی سورہ یٰسین سے تو بآسانی مر سکے ۔

You need verses only at time of grief, That ‘Yasin’ would give death paugs a relief.

بند 4
Toggle stanza 4
ز قرآن پیش خود آئینه آویز
7

ز قرآن پیش خود آئینه آویز

دگرگون گشته‌ای از خویش بگریز

قرآن کا آئینہ لٹکا کر خود کو سامنے کر اور خود سے بھاگ کیونکہ تیرا چہرہ بدلا ہوا ہے ۔ یعنی تیرے چہرے سے مسلمانیت کا رنگ بدل چکا ہے ۔

Through the mirror of Quran see thy deeds, How changed it thee, change the life you lead.

8

ترازویی بنه کردار خود را

قیامتهای پیشین را برانگیز

اپنے کردار کی بنیاد کو قرآن کے ترازو میں ڈال اور پہلے والی جو اسلاف نے کی تھیں قیامتیں برپا کر ۔

Thus weigh in a scale thy actions and thought, Get a sweeping change as the elders brought.

بند 5
Toggle stanza 5
ز من بر صوفی و ملا سلامی
9

ز من بر صوفی و ملا سلامی

که پیغام خدا گفتند ما را

میں صوفی اور ملا کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ انھوں نے ہ میں خدا کی واحدانیت کا پیغام دیا ۔

I salute the Mullah and Sufi old, Who gave me the message of God as told.

10

ولی تأویل شان در حیرت انداخت

خدا و جبرئیل و مصطفی را

لیکن ملا اور صوفی نے اپنے پیغام کی جو دل پسند تاویلیں پیش کی ہیں اس نے خدا اور جبرئیل اور حضرت محمد ﷺ کو حیرت زدہ کر دیا ہے ۔

It tilled with wonder the meaning he drew, Which God, His Prophet and Gabe never knew.

بند 6
Toggle stanza 6
ز دوزخ واعظ کافر گری گفت
11

ز دوزخ واعظ کافر گری گفت

حدیثی خوشتر از وی کافری گفت

لوگوں کو کافر بنانے والے واعظ نے دوزخ سے متعلق بات کی (کافروں کو دوزخ سے ڈرایا) ۔ یہ سن کر ایک کافر نے اس سے بہت اچھی بات کہی ۔

On hell kafir‐maker Mullah spoke, On which a kafir in a nice way broke.

12

«نداند آن غلام احوال خود را

که دوزخ را مقام دیگری گفت»

وہ غلام اپنے احوال کو نہیں دیکھتا جس نے دوزخ کو دوسروں کا ٹھکانا یا مقام کہا ہے ۔

That slave knows not where he would go? Who is sending the rest in heirs long row.

بند 7
Toggle stanza 7
مریدی خود شناسی پخته کاری
13

مریدی خود شناسی پخته کاری

به پیری گفت حرف نیش داری

ایک مرید جو خودشناس اور پختہ کار تھا (پیر کی اندھی تقلید نہیں کرتا تھا) پیر سے ایک سخت چبھنے والی بات کہی ۔

A well read disciple asked his guide, With a word in which a sting did hide.

14

بمرگ ناتمامی جان سپردن

گرفتن روزی از خاک مزاری

نامکمل جان کو موت کے حوالے کرتا ہے اس کے لیے جو کسی مزار کی مٹی سے روزی حاصل کرتا ہے ۔

To die for a life will it well behave? To make one’s living from bones of a grave.

بند 8
Toggle stanza 8
پسر را گفت پیری خرقه بازی
15

پسر را گفت پیری خرقه بازی

ترا این نکته باید حرز جان کرد

ایک درویشی سے نا آشنا پیر نے بیٹے کو کہا کہ تجھے اس باریک بات کو جان کا تعویذ بنا لینا چاہیے ۔

Thus spoke to his son a guide in patched robe, I tell thee a point after whole life’s probe.

16

به نمرودان این دور آشنا باش

ز فیض شان براهیمی توان کرد

اس عہد کے نمرودوں سے واقفیت رکھ، کیونکہ ان کے فیض کی برکت سے ابراہیمی کی جا سکتی ہے ۔

To Nimrods of this age, know by face, By God’s grace live with the Abram’s grace.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں