وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن (رمل مثمن مشکول) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
Part One
میں اگرچہ سیاہ مٹی ہوں یعنی ایک خاکی جسم ہوں لیکن اس خاکی جسم کے اندر جو ایک چھوٹا سا دل ہے وہی میرا سازوسامان ہے ۔ یہ دل جب روشن ہو جاتا ہے تو سارا جسم منور ہو جاتا ہے ۔ اے خدا میں تیرے حسن کے نظارہ کے لیے ایک ستارے کی طرح آنکھیں کھلی رکھتا ہوں ۔
میں نے اپنی دردمند اور دل پذیر آواز یعنی شاعری کے ذریعے زندگی کی شراب کا مٹکا دنیا کے لیے کھول دیا ہے یعنی جذبہَ عشق ان لوگوں تک پہنچا دیا ہے جو اس سے آشنا نہیں تھے ۔
اے میرے محبوب تو میری نظروں کے سامنے نہیں ہے اور میں یہ جو دل اور آنکھیں رکھتا ہوں وہ تیرے دیدار کا نظارہ کرنے کی تمنا کی مکمل لذت لیے ہوئے ہیں (تو چونکہ پنہاں ہے اور مجھے اپنے دیدار کی نعمت سے محروم کر رکھا ہے ) اس لیے اگر میں نے سخت پتھر سے تیرا یہ خیالی بت تراش لیا ہے تو اس میں کونسی ایسی برائی ہے
مجھے مصروفِ طواف کعبہ دیکھ کر اگر تو یہ سمجھ رہا ہے کہ شاید طواف کعبہ ہی میرا اصل مقصد ہے تو تیرا یہ گمان غلط ہے ۔ میرا اصل مقصد تو خدا کا قرب حاصل کرنا ہے طواف کعبہ تو صرف ایک ذریعہ ہے ۔
اے میرے محبوب! تو نے اپنے رخ روشن سے میری رات کو صبح میں بدل دیا ہے ۔ چونکہ تو آفتابی چہرہ رکھتا ہے اور آفتاب کا کام دنیا کو روشنی عطا کرنا ہے ۔ اس لیے تو بھی میرے سامنے بے حجاب ہو کر آ ۔
اے ساقی! اس میخانے میں مجھے کوئی محرم راز نہیں ملتا۔ شاید میں آنے والے نئے دور کا پہلا آدمی ہوں۔
اے محبوب میرا کل سازوسامان تو مٹھی بھر خاک ہے ۔ اور میں اسے اس امید پر راہوں میں بکھیر رہا ہوں کہ ایک نہ ایک دن میں اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دوں گا ۔ یعنی محبوب کی راہ میں فنا ہو کر زندگی کا اعلیٰ مقصد حاصل کر لوں گا ۔
(اے چاراگر) میرے بے چین دل کو جو تسلی تو نے دی ہے اس سے بھی اس کی بے چینی و بے قراری میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ اس لیے میں اپنے اس بے قرار دل کو پھر سے تیرے سپرد کر رہا ہوں ۔ تاکہ تو اس کی بے قراری کا کوئی موزوں علاج تلاش کرے) ۔
میں نے آہ و زاری کے لیے لبوں کو وا نہیں کیا ۔ کیونکہ یہاں آہ و زاری کا کسی پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس لیے دل کا غم نہ کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ ہر شخص کے پاس اس کے سننے کا حوصلہ بھی تو نہیں ہوتا ۔
میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔