وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
دُعا
ہم خدا کے پاس سے گم ہو چکے ہیں ۔ اور وہ ہماری تلاش میں ہے ۔ ہماری طرح وہ بھی ملنے کا نیازمند ہے ۔ اور خواہشوں کا قیدی ہے ۔
اے انسان تیرے نور کے جلووَں سے ہر شے وجود میں آئی ہے ۔ تیرے نور کے ان جلووَں کے باعث کائنات کے اسرار و رموز کا پتہ چلا ہے ۔ دریا ہو، جنگل ہو ، آبادی ہو، سورج ہو یا چاند ہو سب کی حقیقت کو واضح کر دیا ہے اور فطرت کے تمام پوشیدہ اسرار پر سے پردہ ہٹا دیا ہے ۔
اہل مشرق کہ جن کی فکر کی کمند میں آسمان ہے محض خیال پرستی کرتے ہیں ۔ (بے عمل ہیں ) یہ اپنے آپ سے بے خبر اور آرزو کے سوز سے خالی ہیں ۔ ہمیشہ غیروں کے محتاج نظر آتے ہیں ۔
وہ تخلیق کار جس نے دن اور رات کے اجسام پیدا کئے ہیں وہ اپنے ان تخلیق کردہ نقوش کے آئینوں کے ذریعے اپنے تماشا تک پہنچا ہے (آپ اپنا تماشائی ہوا ہے) تخلیق اجسام کا مقصد یہ تھا کہ خدا اپنی ربوبیت ظاہر کرنا چاہتا تھا ۔
اس دیرپا (صدیوں سے موجود) مندر میں ہنگامے کس نے پیدا کئے ہیں کہ اس مندر کے زناری (دنیا دار لوگ) سب کے سب بانسری کی مانند رو رہے ہیں (دیر پا مندر سے مراد یہ دنیا ہے جہاں ہر آدمی مضطرب و بے چین ہے) ۔
باغ اور سبزہ زار کے پہاڑی سلسلوں میں کھلنے والے اے چراغ لالہ تو مجھ میں جھانک کہ میں تجھے رازِ زندگی سے آشنا کر دوں ۔ میرے اندر جھانکنے سے تجھے معلوم ہو گا کہ میں نے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پا لیا ہے ۔