وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
(اے انسان) اٹھ کھڑا ہو کیونکہ آدم کی خوبیوں کے اظہار کا وقت آ پہنچا ہے ۔ اس مٹھی بھر خاک کے پتلے (انسان) کے آگے ستارے سجدہ ریز ہیں (انسان کے سیاروں پر قدم رکھنے کا وقت آ گیا ہے) ۔
اے خدا! تو ہمارے مٹھی بھر خاکی جسم میں سینکڑوں طرح کی فریادیں بلند کرتا ہے ۔ دوسروں سے کم ملنے کی عادت رکھنے کے باوجود تو ہماری جان سے زیادہ نزدیک ہے ۔ یعنی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔ میری آہ و زاری یہ ثابت کرتی ہے کہ تو مجھ سے واقعی بہت قریب ہے ۔
(بڑی قوتوں سے ٹکرانے کے لیے) تو درویشی کا نشہ (شراب) برداشت کرنے کی ہمت پیدا کر اور پھر اس نشہ کو مسلسل پینا شروع کر دے ۔ جب یہ نشہ تجھ میں جراَت و ہمت پیدا کر دے تو پھر ایران کے بادشاہ جمشید کی سلطنت سے ٹکر لے (یہ فقیری نشہ کر کے تو وقت کے جابر حکمرانوں سے ٹکرانے کی ہمت حاصل کرے گا) ۔
آسمان تک رسائی حاصل کرنے والی عقل پر ترکوں کی طرح شبخون مارنا ہی اچھا ہے یعنی اسے عشق کے آگے سرنگوں کرنا ضروری ہے کیونکہ دردِ عشق کا ایک ذرہ عظیم فلسفی افلاطون کے علم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔
جو علم تو سیکھ رہا ہے وہ نگاہِ باطن کا شیدائی نہیں ۔ وہ راہ میں تھکن سے چور ہو کر بیٹھ جانے والا ہے راستہ طے نہیں کر سکتا ۔ اس علم میں خود کو یا خدا کو پہچاننے والی آنکھ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
اے خدا یہ دل جو تو نے مجھے عطا کیا ہے یہ ایمان سے ہمیشہ بھرا رہے اور میرا یہ جام جس میں تمام جہان کو دیکھ سکتا ہوں اس دل سے بھی زیادہ روشن رہے ۔
میری اس اشکوں سے بھری آنکھوں نے رو رو کر میرے دامن میں ستارے گرا دیئے ہیں ۔ ان قیمتی اشکوں کی وجہ سے مجھ میں ایسا ذوق نظر پیدا ہوا کہ اس نے مجھے آسمانوں کے اس پار پھینک دیا ۔
میں راتوں کو رونما ہونے والے حادثات سے نہیں ڈرتا، کیونکہ راتیں آخر کار ستاروں کی گردش کے باعث صبح کے اجالوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔
محبوب کی جدائی کے زخموں سے دل کا چمن آباد ہے ۔ اے لالہ صحرائی میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں (تجھے اپنے دل کی بات بتانا چاہتا ہوں ) ۔
میں تو ایک آزاد انسان ہوں اور عشق میرا رہبر ہے ۔ عشق میرا رہبر ہے تو عقل میری غلام ہے ۔