صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ چند بندی کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
اس جہان کی حقیقت کیا ہے یہ میرے تصور یا احساس کا بت خانہ ہے ۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ دراصل یہ میرے تصورات اور احساسات کی دنیا ہے ۔ اس کی حقیقت میری بیدار آنکھ کی مر ہون منت ہے ۔
(اے مسلمان) تو صبح کی تازہ و نرم و لطیف ہوا کی طرح اٹھ اور چلنا سیکھ لے ۔ گلاب و لالہ کے پھولوں کو پھر کھلانا شروع کر دے (اپنے آپ کو بیدار کر اور دوسروں کو بھی بیداری کا پیغام دے) ۔ اپنے دل کے غنچے میں پھر سے زندگی کی خلش پیدا کرنا سیکھ لے ۔
اے خدا! تو اس وقت مسلمانوں کو جان ہتھیلی پر رکھنے کا حکم مت دے (کیونکہ ان کے جسم جہاد کے قابل نہیں ہیں ) یا ان کے ناتواں جسموں میں طاقت وہمت بھر دے ۔ یعنی تیرے راستے میں لڑنے کا حوصلہ عطا کر دے یا ویسا کر دے یا ایسا کر دے ۔
اے سوئے ہوئے نوخیز پھول، نرگس کی طرح آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ (جاگ) کیونکہ ہمارا گھر غموں (بے عملی) نے تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔
اہل مشرق کہ جن کی فکر کی کمند میں آسمان ہے محض خیال پرستی کرتے ہیں ۔ (بے عمل ہیں ) یہ اپنے آپ سے بے خبر اور آرزو کے سوز سے خالی ہیں ۔ ہمیشہ غیروں کے محتاج نظر آتے ہیں ۔
میں نے معرفت کی نگاہ سے لالہ کے پھول کے اندر دیکھا تو مجھے وہ تمام پھول ذوق و شوق سے لبریز اور آہ و نالہ دکھائی دیا ۔