قاری کے نام
To The Reader
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
صنف: غزل/قصیده/قطعه
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
میں ملک عشق سے نیا لشکر بھرتی کر رہا ہوں —
کیونکہ حرم کے اندر عقل کی بغاوت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
I am raising a new army from the land of love —
For within the sanctuary, there is a threat of rebellion by reason.
زمانہ جنوں کی حقیقت سے بالکل بے خبر ہے —
حالانکہ یہی وہ قبا ہے جو خرد کی قدر و قیمت کے لیے موزوں ہے۔
The world knows nothing of the reality of Junoon —
For it is the robe perfectly tailored to the stature of reason.
میں نے یہ قبا پہنی تو ایسے مقام تک پہنچ گیا —
کہ عقل میرے در کے طواف کو اپنی سعادت سمجھتی ہے۔
When I donned this robe, I reached such a station —
That reason considered the circling of my threshold its fortune.
یہ گمان نہ کر کہ عقل کے لیے حساب و میزان نہیں —
مرد مومن کی نگاہ عقل کی قیامت ہے۔
Do not think that reason has no reckoning or measure —
For the gaze of a true believer is the apocalypse of reason.