صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. لا الہ الا اﷲ

لا الہ الا اﷲ

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں

There Is No God But Allah

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۱۳ اشعار
شعر ۱

میں صاحب حال بزرگوں کی بات بتاتا ہوں —

امتوں کا جلال لا سے ہے اور جمال الا سے ہے۔

I tell you a significant point known only to the people of ecstasy —

The majesty of nations springs from "Lā", but their splendor flows from "illā".

شعر ۲

لا و الا سے کائنات کا احتساب ہے —

لا و الا سے کائنات (کی برکتوں) کا دروازہ کھلتا ہے۔

"Lā" and "illā" together signify control of the cosmos —

They are the keys to the doors of the cosmos.

شعر ۳

ان دونوں ( الفاظ ) سے اس جہانِ کن کی تقدیر بنتی ہے —

لا سے حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اور الا سے سکون میں۔

From these two words, the world of “Kūn” takes form —

“Lā” gives it motion, “illā” makes it calm.

شعر ۴

جب تک لاالہ کا نکتہ ہاتھ نہ آئے —

غیر اللہ کے بند توڑے نہیں جا سکتے۔

Unless the secret of "Lā ilāha" is grasped —

The shackles of the “other-than-God” cannot be shattered.

شعر ۵

دنیا میں کام کا آغاز لا سے ہے —

یہ مرد خدا کی پہلی منزل ہے۔

In this world, each quest begins with the word “Lā” —

This is the first station of the man of God.

شعر ۶

وہ ملّت جو ایک لمحہ کے لیے لا کے سوز میں تڑپی —

اس نے اپنی مٹی سے اپنے آپ کو (از سر نو ) پیدا کر لیا۔

A nation that for a moment burned with the flame of “Lā” —

Forged itself anew from its own dust and clay.

شعر ۷

غیر اللہ کے سامنے لا کہنا زندگی ہے —

اسی کے ہنگامے سے کائنات میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔

To say “Lā” before all else but God, that is life! —

From that upheaval, the cosmos draws its freshness.

شعر ۸

لا کے جنوں سے ہر (ایک کا) گریباں چاک نہیں —

ہر خاشاک اس شعلے کے لائق نہیں۔

Not every person is affected by its madness —

Not every haystack is fit to catch its fire.

شعر ۹

اس کا جذبہ جب ایک زندہ مرد کے دل میں پیدا ہوتا ہے —

تو وہ سینکڑوں رہ نشینوں کو (منزل کی جانب) گامزن کر دیتا ہے۔

When the ecstasy of “Lā” strikes the heart of a living person —

He compels the sluggards sitting on the roadside to march toward the goal.

شعر ۱۰

تو غلام کو آقا کے خلاف لڑانا چاہتا ہے تو—

اس کی مشت خاک میں لا کا بیج بو دے۔

Do you wish the servant to fight the master? —

Then sow the seed of "Lā" in his handful of dust.

شعر ۱۱

جس شخص کے جگر میں اس کا سوز ہو گا —

اس کی ہیبت قیامت کی ہیبت سے بڑھ کر ہو گی۔

Whoever has this burning ardour in his heart —

Is more awe-inspiring than the awe of Doomsday.

شعر ۱۲

لا ضرب ہائے پے بہ پے کا مقام ہے —

یہ بجلی کی کڑک ہے، بانسری کی آواز نہیں۔

"Lā" is the station of relentless strikes —

This is the rumbling of thunder, not the piping tune of a flute.

شعر ۱۳

اس کی ضرب ہر موجود کو مٹا دیتی ہے —

تاکہ تو موجود کے بھنور سے باہر آ جائے (لا موجود الا اﷲ)۔

Its blow changes every being into non-being —

So that you come out of the whirlpool of Existence.

بند ۲

بند ۲

۹ اشعار
شعر ۱۴

میں تمہیں عرب کی تاریخ بتاتا ہوں —

تاکہ اس کے پختہ اور خام ایّام سے آگاہ ہو۔

I recount to you the days of the Arabs —

That you may know their raw and ripened epochs.

شعر ۱۵

اس کی ضرب سے (سب) لات و منات ریزہ ریزہ ہو گئے —

اور وہ قوم جہات کے اندر رہتی ہوئی بھی جہات کی بندشوں سے آزاد ہو گئی۔

Their strokes broke Lat and Manat into pieces —

Confined within dimensions, yet they lived free of all shackles.

شعر ۱۶

اس کے ہاتھوں ہر پرانی قبا چاک ہوئی —

اس نے قیصر و کسری ( کی سلطنتوں ) کو خاک میں ملا دیا۔

Every old garment was torn off by them —

Khosrows and Caesars met their doom at their hands.

شعر ۱۷

کبھی اس کی برق و باراں نے صحرا کو ہلا دیا —

اور کبھی اس کے زور طوفاں نے سمندر کو جھنجوڑ دیا۔

At times deserts were overrun by their thunder showers —

At other times seas were churned by their storms.

شعر ۱۸

جملہ عالم اس کی آگ کے سامنے خس کی مانند تھا —

یہ سارا لا ہی کا ہنگامہ تھا۔

The whole world, before their fire, like straw ablaze —

This grand uproar was but the fierce wrath of 'Lā!'.

شعر ۱۹

وہ اس پرانے بتخانے میں مسلسل تڑپے —

یہاں تک کہ ایک نیا جہان ظاہر ہو گیا۔

They were constantly astir in this ancient idolatry —

Until they brought forth a new world into existence.

شعر ۲۰

ان کی صبح خیزی سے بانگ حق بلند ہوئی —

جو کچھ بھی ہمیں نظر آتا ہے ان ہی کے بوئے ہوئے بیج ہیں۔

From their rising at dawn, the cry of Truth was raised —

All that we see today springs from the seeds they once laid.

شعر ۲۱

یہ جو اس دور میں گل لالہ (تازہ علوم) کی شمع روشن کی گئی ہے —

یہ پودا ان ہی کی جوئے آب کے کنارے سے لایا گیا ہے۔

This torch of tulip-blossoms (modern knowledge) that has been lit in this era —

Its seedling was brought from the banks of their stream.

شعر ۲۲

جب عربوں نے اپنے دل سے غیر اللہ کا نقش دھو دیا —

تو ان کی کف خاک سے سینکڑوں ہنگامے اٹھ کھڑے ہوئے۔

When the Arabs erased all else but God from their hearts —

From their handful of dust, a hundred storms took start.

بند ۳

بند ۳

۱۲ اشعار
شعر ۲۳

اس طرح تو نے دیکھا کہ فرنگیوں کے دور میں بھی —

غلامی نے آقائی سے جنگ کی ہے۔

Similarly you witnessed, even in the age of the Franks —

How slavery rose to wage war on its masters' ranks.

شعر ۲۴

جب روس کا قلب و جگر خون ہو گیا —

تو اس کے ضمیر سے لا کا لفظ اٹھ کھڑا ہوا۔

As the heart of Russia was sorely afflicted —

The word “Lā” came out of the depths of her being.

شعر ۲۵

اس نے پرانا نظام درہم برہم کر دیا ہے —

اور جہان کی رگ حیات پر تیز نشتر لگایا ہے۔

She has shattered that ancient world order —

And applied a sharp scalpel to the veins of the world.

شعر ۲۶

میں نے اس ( انقلاب) کے مقامات پر نظر ڈالی ہے —

اس نے پہلے سلاطین پھر کلیسا اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی نفی کی ہے۔

I have examined the trajectory of this (revolution) —

It began by rejecting monarchs, then the church, and ultimately, Allah the Almighty.

شعر ۲۷

اس کا فکر لا کی تیز آندھی ہی میں رہا —

اس نے اپنی سواری کا رخ الا کی طرف نہ موڑا۔

Her thoughts remained stuck in the stormy winds of “Lā” —

And she never steered her stallion toward “illā”.

شعر ۲۸

ایک دن آئے گا جب وہ زور جنوں سے —

اپنے آپ کو اس آندھی سے نکال لے گا۔

Maybe a day will come when through force of ecstasy —

She may extricate herself from this whirlwind.

شعر ۲۹

کیونکہ زندگی لا کے مقام میں آسودگی نہیں پاتی —

کائنات خود بخود الا کی طرف چل نکلتی ہے۔

For life finds no rest in the station of "Lā" —

The universe itself, inevitably, journeys toward “illā”.

شعر ۳۰

لا اور الا قوموں کے بنیادی اوزارِ کار ہیں —

اثبات کے بغیر نفی میں قوموں کی موت ہے۔

"Lā" and "illā" are the fundamental instruments of nations —

Negation without affirmation is the death of nations.

شعر ۳۱

اللہ کی محبت میں خلیل کیسے پختہ ہو سکتا ہے —

جب تک لا اس کی راہنمائی الا اﷲ کی جانب نہ کرے۔

How can Khalil grow ripe in divine love —

Unless ‘Lā’ guides him unto the path of ‘illā’ too.

شعر ۳۲

(اے صوفی!) تو جو حجرے کے اندر بیٹھ کر باتیں بناتا ہے —

(باہر نکل اور) نمرود کے سامنے لا کا نعرہ لگا۔

O you! who sit within your chamber weaving words —

Step forth! and cry the call of "Lā" before a Nimrod.

شعر ۳۳

یہ جو کچھ تو دیکھتا ہے اس کی قیمت دو جو کے برابر بھی نہیں —

لا الہ کے جلال سے آگاہ ہو۔

What you see around you is not worth two grains of barley —

Be acquainted with the might of “Lā ilāha”.

شعر ۳۴

جس کے ہاتھ میں لا کی شمشیر ہے —

وہ ساری موجودات کا فرمانروا ہے۔

He who wields the sword of “Lā” in his hands —

Is the sovereign ruler of all that stands.

۳۴ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں