فرعون کی حکمت
The Wisdom Of The Pharaohs
شاعر: علامہ اقبالؒ
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
میں نے اہل ایمان کی حکمت ظاہر کی ہے —
اب کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت بھی سمجھ لے۔
I have unfolded the wisdom of the people of faith —
Now learn the wisdom of the people of malice.
کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت مکر و فن ہے —
مکر و فن کیا ہے؟ روح کی تخریب اور جسم کی پرورش۔
The wisdom of the people of malice is deceit and artifice —
What are deceit and artifice? Decay of soul and nourishment of body.
یہ ایک ایسی حکمت ہے جو دین کے بندھنوں سے آزاد ہے —
جو عشق کے مقام سے دور پڑی ہے۔
This is wisdom that has freed itself from faith’s bonds —
And has strayed far away from the station of Love.
سکول اس کی تدبیر کے طفیل ایک ایسا نظام اختیار کرتا ہے —
جس سے غلام اپنے آقا کی مرضی کے مطابق سوچنے لگتا ہے۔
The school follows in his (Pharaoh’s) ways so that —
The servant learns to think in line with the master’s desires.
علمائے (سوء) دلنشین حدیثیں سنا کر —
اپنے آقاؤں کی مرادوں کے مطابق دین کی تجدید کرتے ہیں۔
The religious leader of the Millat, in a charming way—
Reinterprets religion to his (Pharaoh’s) liking.
حکمت فرعونی کے جادو سے قوم کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے —
عصائے موسی (علیہ السلام) کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں۔
The unity of the people is sundered through his machinations —
Nothing can withstand him except Moses’ Staff.
وہ قوم بڑی ہی بدنصیب ہے جو دوسروں کی تدبیر کا شکار ہو —
جس کا کام اپنے ہاتھوں اپنی تباہی اور دوسرے کی تعمیر کرنا ہو۔
Woe to a people that, prey to others’ stratagems —
Destroy themselves and build up others.
وہ علوم و فن میں تو صاحب نظر ہو جاتے ہیں —
مگر اپنے آپ سے غافل رہتے ہیں۔
They gain knowledge of science and art —
But remain unaware of their own self-identity.
وہ قوم اپنی انگوٹھی پر موجود اللہ کا نقش مٹا دیتی ہے —
اس کے ضمیر میں آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں لیکن مر جاتی ہیں۔
They erase the Lord’s impress from their signet —
Aspirations arise in their heart only to die away.
وہ قوم غیور اولاد سے محروم ہی رہی —
اس کے جسم میں روح کی حالت گویا قبر میں دفن کوئی مردہ۔
They are not blessed with a progeny imbued with a sense of honour —
Their children have souls in their bodies like corpses in graves.
اس کے بوڑھے حیا سے خالی ہوتے ہیں —
اور اس کے نوجوان، عورتوں کی طرح اپنے بدن کی آرائش میں مشغول رہتے ہیں۔
Of modesty, the elders are devoid —
And the youth, like women, in self-adornment employed.
اس کے نوجوانوں کی آرزوؤں میں ثبات نہیں (کبھی کچھ سوچتے ہیں، کبھی کچھ) —
وہ اپنی ماؤں کے پیٹ ہی سے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔
The desires that spring from their hearts are unstable —
They are born dead from the wombs of their mothers.
اس قوم کی بیٹیاں خود اپنی ہی زلفوں کی اسیر ہوتی ہیں —
بے حیا آنکھوں والی، خودنمائی کی دلدادہ اور ہر شے پر اعتراض کرنے والی۔
The daughters of this nation are captives of their own tresses —
Bold-eyed, fond of display and carping;
وہ بہت بنی ٹھنی، سنوری سنواری ، دل پھینک —
اور ان کی بھویں دو تنی ہوئی تلواروں کی مانند ہوتی ہیں ۔
Well-dressed, with exquisite make-up, coquettish —
Their eyebrows, like two unsheathed swords.
ان کے چاندی جیسے سفید بازو، نظروں کیلئے سامانِ عیش —
ان کے سینے، پانی میں تیرتی مچھلی کی مانند، جھلکتے ہیں۔
Their white silvery forearms pleasing to the eyes —
Their bosoms showing like fish in water.
یہ ایسی قوم ہے جس کی راکھ میں کوئی چنگاری باقی نہیں —
اس کی صبح اس کی شام سے بھی زیادہ تاریک ہے۔
A nation whose ashes are devoid of any live spark —
Whose morning is darker than its evening.
وہ ہر دم روپے پیسے کی تلاش میں رہتی ہے —
اس کا کام معاش کی فکر اور موت سے ڈرنا ہے۔
It is always in search of material goods —
Its only preoccupation is anxiety for livelihood and fear of death.
اس کے دولتمند بخیل اور عیش پرست —
وہ ( حقیقت کے) مغز سے غافل اور (رسوم کے) چھلکے میں گرفتار ہوتے ہیں۔
Its rich are miserly, pleasure-loving —
Heedless of the essence, trapped in the shell.
حکمران کی قوّت ان کی معبود ہے —
وہ دین و ایمان کے نقصان میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔
The ruler’s might becomes his only creed —
His gain is built on faith’s and religion’s bleed.
ایسی قوم 'آج' (فوری مفاد) کی حد سے باہر نہیں نکلتی —
اس کی زندگی میں کل کا ایک نقش بھی ثبت نہیں ہوتا۔
He never stepped beyond the bounds of today —
His life held no design for a tomorrow’s way.
وہ اپنے آباء (کے کارناموں ) کا دفتر بغل میں دبائے پھرتی ہے —
عمل کے بغیر باتوں اور دعووں سے اللہ کی پناہ!
With the chronicles of ancestors tucked under the arm —
I seek refuge from words devoid of action.
اس کا دین غیروں سے عہد وفا باندھنا ہے —
وہ گویا حرم ( کو گرا کر اس) کی اینٹوں سے بت کدہ تعمیر کرتی ہے۔
It’s faith is to pledge the loyalty to foes —
As if from the Kaaba’s stones, an idol-house it sows.
افسوس اس قوم پر جس نے اللہ تعالے سے دل ہٹا لیا —
جو مر چکی ہے، مگر اپنی موت کو پہچانتی نہیں۔
Alas! For a nation which has cut itself adrift from God —
Which is dead, but does not know that it is dead.