صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. حکمت فرعونی

حکمت فرعونی

فرعون کی حکمت

The Wisdom Of The Pharaohs

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۲۳ اشعار
شعر ۱

میں نے اہل ایمان کی حکمت ظاہر کی ہے —

اب کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت بھی سمجھ لے۔

I have unfolded the wisdom of the people of faith —

Now learn the wisdom of the people of malice.

شعر ۲

کینہ دوز (فرعونوں) کی حکمت مکر و فن ہے —

مکر و فن کیا ہے؟ روح کی تخریب اور جسم کی پرورش۔

The wisdom of the people of malice is deceit and artifice —

What are deceit and artifice? Decay of soul and nourishment of body.

شعر ۳

یہ ایک ایسی حکمت ہے جو دین کے بندھنوں سے آزاد ہے —

جو عشق کے مقام سے دور پڑی ہے۔

This is wisdom that has freed itself from faith’s bonds —

And has strayed far away from the station of Love.

شعر ۴

سکول اس کی تدبیر کے طفیل ایک ایسا نظام اختیار کرتا ہے —

جس سے غلام اپنے آقا کی مرضی کے مطابق سوچنے لگتا ہے۔

The school follows in his (Pharaoh’s) ways so that —

The servant learns to think in line with the master’s desires.

شعر ۵

علمائے (سوء) دلنشین حدیثیں سنا کر —

اپنے آقاؤں کی مرادوں کے مطابق دین کی تجدید کرتے ہیں۔

The religious leader of the Millat, in a charming way—

Reinterprets religion to his (Pharaoh’s) liking.

شعر ۶

حکمت فرعونی کے جادو سے قوم کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے —

عصائے موسی (علیہ السلام) کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں۔

The unity of the people is sundered through his machinations —

Nothing can withstand him except Moses’ Staff.

شعر ۷

وہ قوم بڑی ہی بدنصیب ہے جو دوسروں کی تدبیر کا شکار ہو —

جس کا کام اپنے ہاتھوں اپنی تباہی اور دوسرے کی تعمیر کرنا ہو۔

Woe to a people that, prey to others’ stratagems —

Destroy themselves and build up others.

شعر ۸

وہ علوم و فن میں تو صاحب نظر ہو جاتے ہیں —

مگر اپنے آپ سے غافل رہتے ہیں۔

They gain knowledge of science and art —

But remain unaware of their own self-identity.

شعر ۹

وہ قوم اپنی انگوٹھی پر موجود اللہ کا نقش مٹا دیتی ہے —

اس کے ضمیر میں آرزوئیں پیدا ہوتی ہیں لیکن مر جاتی ہیں۔

They erase the Lord’s impress from their signet —

Aspirations arise in their heart only to die away.

شعر ۱۰

وہ قوم غیور اولاد سے محروم ہی رہی —

اس کے جسم میں روح کی حالت گویا قبر میں دفن کوئی مردہ۔

They are not blessed with a progeny imbued with a sense of honour —

Their children have souls in their bodies like corpses in graves.

شعر ۱۱

اس کے بوڑھے حیا سے خالی ہوتے ہیں —

اور اس کے نوجوان، عورتوں کی طرح اپنے بدن کی آرائش میں مشغول رہتے ہیں۔

Of modesty, the elders are devoid —

And the youth, like women, in self-adornment employed.

شعر ۱۲

اس کے نوجوانوں کی آرزوؤں میں ثبات نہیں (کبھی کچھ سوچتے ہیں، کبھی کچھ) —

وہ اپنی ماؤں کے پیٹ ہی سے مردہ پیدا ہوتے ہیں۔

The desires that spring from their hearts are unstable —

They are born dead from the wombs of their mothers.

شعر ۱۳

اس قوم کی بیٹیاں خود اپنی ہی زلفوں کی اسیر ہوتی ہیں —

بے حیا آنکھوں والی، خودنمائی کی دلدادہ اور ہر شے پر اعتراض کرنے والی۔

The daughters of this nation are captives of their own tresses —

Bold-eyed, fond of display and carping;

شعر ۱۴

وہ بہت بنی ٹھنی، سنوری سنواری ، دل پھینک —

اور ان کی بھویں دو تنی ہوئی تلواروں کی مانند ہوتی ہیں ۔

Well-dressed, with exquisite make-up, coquettish —

Their eyebrows, like two unsheathed swords.

شعر ۱۵

ان کے چاندی جیسے سفید بازو، نظروں کیلئے سامانِ عیش —

ان کے سینے، پانی میں تیرتی مچھلی کی مانند، جھلکتے ہیں۔

Their white silvery forearms pleasing to the eyes —

Their bosoms showing like fish in water.

شعر ۱۶

یہ ایسی قوم ہے جس کی راکھ میں کوئی چنگاری باقی نہیں —

اس کی صبح اس کی شام سے بھی زیادہ تاریک ہے۔

A nation whose ashes are devoid of any live spark —

Whose morning is darker than its evening.

شعر ۱۷

وہ ہر دم روپے پیسے کی تلاش میں رہتی ہے —

اس کا کام معاش کی فکر اور موت سے ڈرنا ہے۔

It is always in search of material goods —

Its only preoccupation is anxiety for livelihood and fear of death.

شعر ۱۸

اس کے دولتمند بخیل اور عیش پرست —

وہ ( حقیقت کے) مغز سے غافل اور (رسوم کے) چھلکے میں گرفتار ہوتے ہیں۔

Its rich are miserly, pleasure-loving —

Heedless of the essence, trapped in the shell.

شعر ۱۹

حکمران کی قوّت ان کی معبود ہے —

وہ دین و ایمان کے نقصان میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔

The ruler’s might becomes his only creed —

His gain is built on faith’s and religion’s bleed.

شعر ۲۰

ایسی قوم 'آج' (فوری مفاد) کی حد سے باہر نہیں نکلتی —

اس کی زندگی میں کل کا ایک نقش بھی ثبت نہیں ہوتا۔

He never stepped beyond the bounds of today —

His life held no design for a tomorrow’s way.

شعر ۲۱

وہ اپنے آباء (کے کارناموں ) کا دفتر بغل میں دبائے پھرتی ہے —

عمل کے بغیر باتوں اور دعووں سے اللہ کی پناہ!

With the chronicles of ancestors tucked under the arm —

I seek refuge from words devoid of action.

شعر ۲۲

اس کا دین غیروں سے عہد وفا باندھنا ہے —

وہ گویا حرم ( کو گرا کر اس) کی اینٹوں سے بت کدہ تعمیر کرتی ہے۔

It’s faith is to pledge the loyalty to foes —

As if from the Kaaba’s stones, an idol-house it sows.

شعر ۲۳

افسوس اس قوم پر جس نے اللہ تعالے سے دل ہٹا لیا —

جو مر چکی ہے، مگر اپنی موت کو پہچانتی نہیں۔

Alas! For a nation which has cut itself adrift from God —

Which is dead, but does not know that it is dead.

۲۳ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں