صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. حکمت کلیمی

حکمت کلیمی

حکمتِ کلیمی

The Wisdom of Moses (A.S)

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۳۲ اشعار
شعر ۱

جب نبوّت اللہ تعالیٰ کا حکم جاری کرتی ہے –

تو بادشاہ کے حکم کو ٹھکرا دیتی ہے۔

As the prophet establishes God’s decrees —

He repudiates Caesar’s law.

شعر ۲

اس کی نگاہ میں بادشاہ کا محل ایک پرانا بتخانہ ہے –

اس کی غیرت غیر اللہ کا حکم برداشت نہیں کرتی۔

In his eyes the royal palace is like an old idol-temple —

His sense of honour makes him disobey the order of the other-than-God.

شعر ۳

نبی کی صحبت ہر خام شخصیت کو پختہ کر دیتی ہے –

وہ زمانے کو نئے ہنگامے عطا کرتا ہے۔

The imperfect becomes perfect through association with him —

He gives a new tumult to the age.

شعر ۴

وہ 'اللہ بس، باقی ہوس' کا سبق دیتا ہے –

تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندے کسی اور کے دام میں نہ پھنسیں۔

His message is that Allah is sufficient and all else is meaningless —

So that the man of truth does not fall into anybody’s snare.

شعر ۵

اس کے نم سے انگور کی شاخ میں آگ بھر جاتی ہے –

اور اس کے دم سے خاکی بدن کے اندر پاک روح پیدا ہو جاتی ہے۔

His moisture imparts fire to the vine’s twig and —

His breath gives life to this handful of earth.

شعر ۶

وہ جبریلؑ اور قرآن کی تفسیر ہے —

وہ فطرت اللہ (دین فطرت) کا نگہبان ہے۔

He is the meaning of Gabriel and the Quran —

And he is the custodian of God’s Law.

شعر ۷

اس کی حکمت، عقلِ چالاک سے برتر ہے –

اس کے ضمیر سے نئی امت وجود میں آتی ہے۔

His wisdom is superior to artful reason —

His spirit gives birth to an Ummah.

شعر ۸

وہ ایسا حکمران ہے ، جو تاج و تخت سے بے نیاز ہے –

نہ وہ کلّاہ رکھتا ہے، نہ سپاہ اور نہ کسی سے خراج وصول کرتا ہے۔

He is a ruler disinterested in throne and crown —

Sans crown, sans army, sans tribute.

شعر ۹

اس کی نگاہ خزاں کو بہار میں تبدیل کر دیتی ہے –

اور ہر خُم کی تلچھٹ کو شراب سے بھی زیادہ تلخ کر دیتی ہے۔

His look transforms autumn into spring, and —

Through him the dregs of every pitcher become stronger than the wine.

شعر ۱۰

اس کی آہِ سحر گاہی میں نئی زندگی ہے –

اس کی نمود کی صبح، کائنات کو تازگی عطا کرتی ہے۔

In his morning-lamentation lies life and —

The universe is renewed by the morning of his manifestation.

شعر ۱۱

اس کے طوفان کے زور میں سمندر اور خشکی ڈوب جاتے ہيں –

اس کی نگاہ میں انقلاب کا پیغام ہوتا ہے۔

The sea and the earth are devastated by the intensity of his deluge, and —

In his eyes there is a message of revolution.

شعر ۱۲

وہ انہیں لا خوف علیھم کا درس دیتا ہے –

تاکہ آدم کے سینہ کے اندر دل مضبوط ہو۔

He teaches the lesson of “No fear upon them” —

He puts a true heart into the breast of man.

شعر ۱۳

وہ اسے عزم ، فرمانبرداری اور راضی برضا رہنا سکھا کر –

دنیا میں چراغ کی مانند روشن کر دیتا ہے۔

He teaches man determination, submission (to the will of God) and willing acquiescence —

And makes him radiant in the world like a lamp.

شعر ۱۴

میں نہیں جانتا کہ وہ کیا جادو پھونکتا ہے –

جس سے بدن کے اندر کی روح کچھ اور ہو جاتی ہے۔

I do not know what magic he bestows, but —

He totally transforms the soul in the body.

شعر ۱۵

اس کی صحبت ہر سنگریزے کو موتی بنا دیتی ہے –

اور اس کی حکمت ہر ایک کا دامن بھر دیتی ہے۔

In his companionship, a piece of clay becomes a pearl, and —

His wisdom gives abundance to the deficient.

شعر ۱۶

و ہ گرے ہوئے غلام سے کہتا ہے : 'اٹھ –

اور ہر پرانے معبد کو ریزہ ریزہ کر دے'۔

He says to the downtrodden slave —

“Arise and break into pieces every ancient!”

شعر ۱۷

اے بندہ حق ! اس پرانے بتخانے (دنیا) کا جادو —

"ربی الاعلی" کے دو الفاظ سے توڑ دے۔

O man of God! break the spell of this old world —

With these two words: “My Lord, the Most High”.

شعر ۱۸

فقر کا مرتبہ چاہتا ہے تو افلاس کی فریاد نہ کر –

سکون، قلب کی کیفیت پر منحصر ہے نہ کہ جاہ و مال پر۔

If you wish to attain Faqr, don’t complain of poverty —

Well-being depends on one’s attitude and not on rank and wealth.

شعر ۱۹

صدق، اخلاص ، نیازمندی اور سوز و درد (سکوں لاتے ہیں) –

نہ کہ سونا چاندی اور سرخ و زرد (ریشمی) کپڑے۔

Truthfulness, sincerity, submissiveness, ardour and sympathy; these are needed —

Not gold or silver, nor red and yellow coins.

شعر ۲۰

اے زندہ مرد! کیکاؤس اور کیقباد جیسے بادشاہوں سے بچ کر گزر جا —

شاہی محلات کا طواف کرنے کی بجائے اپنے گرد طواف کر۔

O living man, avoid these kings and nobles —

Walk around your own self and not around the palaces.

شعر ۲۱

تو اپنے مقام سے دور جا پڑا ہے –

تو شاہینوں کی اولاد ہے کرگسوں جیسے کام نہ کر۔

You have fallen away from your true station —

You are falcon-born, forsake the vulture's imitation.

شعر ۲۲

پرندہ بھی باغ کے درخت کی ٹہنیوں پر –

اپنی مرضی کے مطابق اپنا آشیانہ بناتا ہے۔

A bird in a garden grove —

Builds his nest to his own liking.

شعر ۲۳

تیری سوچ کی پرواز آسمانوں تک ہے –

تو اپنے آپ کو پرندے سے کم تر نہ سمجھ ۔

You who have a heaven-traversing imagination —

Should not think yourself inferior to a bird.

شعر ۲۴

ان نو آسمانوں کو دوبارہ تعمیر کر –

اس دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق بنا۔

Rebuild these nine heavens and —

Refashion this world according to your own desire.

شعر ۲۵

جب اپنے آپ کو رضائے الہی میں گم کر دیتا ہے تو –

بندۂ مومن قضائے الہی بن جاتا ہے۔

When he gets annihilated in God’s will —

The man of faith becomes God’ decree.

شعر ۲۶

پھر یہ جہانِ چار سو، اپنی نیلگوں فضا کے ساتھ –

اس کے پاک ضمیر کے اندر سے نئی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

The four dimensions along with the blue heavens —

Are born out of his pure bosom.

شعر ۲۷

اپنے آباء کی طرح اللہ تعالیٰ کی رضا میں گم ہو کر –

صدف سے اپنے موتی کو باہر نکال۔

Annihilate yourself in the will of God like your forefathers —

Bring out your pearl out of the oyster.

شعر ۲۸

اس سنگ و خشت کے جہان کی تاریکی میں –

آنکھوں کو اپنی پاک فطرت کے نور سے روشن کر۔

In the darkness of this world of stone and bricks —

Illumine your eyes with the light of your nature.

شعر ۲۹

جب تک تو اللہ تعالیٰ کے جلال سے حصّہ نہ پائے گا –

اس کے جمال سے بھی بہرہ اندوز نہ ہو سکے گا۔

Unless you take your share of the majesty of God —

You cannot not enjoy Divine Beauty.

شعر ۳۰

عشق و مستی کی ابتدا قاہری (سختی) ہے –

عشق و مستی کی انتہا دلبری (محبوبی) ہے۔

The dawn of love and ecstasy is majesty (qahiri) —

The culmination of love and ecstasy is beauty (dilbari).

شعر ۳۱

مرد مومن کمالات وجود (کے شاہکاروں میں) سے ہے –

وہ وجود (حقیقی) ہے، باقی ہر شے صرف (بظاہر) نظر آتی ہے۔

The man of faith is a symbol of perfect existence —

He alone is real; all else is mere appearance.

شعر ۳۲

اگر مومن لاالہ سے حرارت اور چمک پا لے –

تو سورج اور چاند اسی کے مقصد کی تکمیل کے لیے گردش کرتے ہیں۔

If he gains ardour and zeal from “La ilaha” —

The Sun and Moon will revolve only at his bidding.

۳۲ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں