صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. مرد حر

مرد حر

مرد حر

The Free Man

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۳۱ اشعار
شعر ۱

مرد حر "لاتخف" کے ورد سے قوی ہے —

ہم میدان میں سر جھکائے آتے ہیں اور وہ سر بکف نکلتا ہے۔

The free man is fortified by the Quranic chant “Fear not” —

We enter the field with lowered heads, he steps forth with his head in his hand.

شعر ۲

مرد حر کا ضمیر لاالہ سے روشن ہے —

وہ کسی بادشاہ یا امیر کا غلام نہیں ہوتا۔

His conscience is lit by “There is no god but God” —

He serves neither king nor noble.

شعر ۳

مرد حر اونٹ کی طرح بوجھ اٹھاتا ہے —

وہ بوجھ اٹھاتا ہے اور کانٹے کھا کر گزارا کرتا ہے۔

Like a camel he bears the load —

He shoulders burdens and lives by swallowing thorns.

شعر ۴

وہ (رہ حیات میں) اتنی مضبوطی سے قدم رکھتا ہے کہ —

اس کے سوز سے راستے کی نبض تیز ہو جاتی ہے۔

He plants his foot so firm upon the path —

The pulse of the path leaps with his burning fire.

شعر ۵

موت سے اس کی جان اور پائیندہ ہو جاتی ہے —

اس کی بانگِ تکبیر، الفاظ اور آواز میں نہیں سماتی۔

By death his soul grows even more abiding —

His cry of takbir lies beyond letter and sound.

شعر ۶

جو راستے کی رکاوٹوں کو شیشہ کی طرح (کمزور) سمجھتا ہے —

وہ درویش سلطان سے خراج وصول کرتا ہے۔

Who deems the stones of the way as brittle glass —

That dervish takes tribute from the king.

شعر ۷

تیری طبیعت کی گرمی ایسے (درویش) کی شراب سے ہے —

تیری ندی اسی کے دریا سے پرورش پاتی ہے۔

Your spirit’s warmth is from his sacred wine —

Your stream is reared by his ocean.

شعر ۸

ریشمی قباؤں میں ملبوس پادشاہوں (کے چہرے) —

ایسے عریاں فقیر کی ہیبت سے زرد پڑ جاتے ہیں۔

Kings in their silken robes —

Turn pale before the awe of that naked faqir.

شعر ۹

دین کا راز ہمارے لیے خبر ہے اور اس کے لیے مشاہدہ —

گویا وہ گھر کے اندر ہے اور ہم دروازے سے باہر کھڑے ہیں۔

For us the secret of faith is report, for him it is vision —

He stands within the house while we wait outside the door.

شعر ۱۰

ہم کلیسا کے دوست اور مسجد فروش ہیں —

وہ حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک سے شراب (الست) پیتا ہے۔

We are fond of churches and traders of mosques —

He drinks the cup from the hand of Mustafa, peace be upon him.

شعر ۱۱

نہ وہ پیر مغاں کا غلام ہے، نہ وہ ہاتھ میں جام لیے ہے —

وہ شراب الست سے مست ہے اور ہم اس سے تہی پیمانہ۔

He is not the slave of the wine-seller, nor does he hold a goblet —

He is drunk on the wine of “Alast” while we are empty of that cup.

شعر ۱۲

پھول کی سرخی اس (مرد حر) کے اشکوں کی مرہون منت ہے —

اس کا دھواں ہماری آگ سے زیادہ روشن ہے۔

The flower’s cheek is red from his tears —

His smoke is brighter than our fire.

شعر ۱۳

اس کے سینے کے اندر امتوں کی تکبیر (عظمت) ہے —

اور اس کی پیشانی پر ان کی تقدیر (رقم) ہے۔

Within his breast resounds the takbir of nations —

Upon his brow is written the destiny of peoples.

شعر ۱۴

ہمارا قبلہ کبھی کلیسا ہے کبھی بتخانہ —

لیکن وہ غیر اللہ سے رزق کا طالب نہیں ہوتا۔

Our qibla shifts from church to cloister —

He seeks no sustenance from another’s hand.

شعر ۱۵

ہم سب فرنگیوں کے بندے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے —

(اس لیے) وہ اس جہانِ رنگ و بو میں نہیں سماتا۔

We are servants of the West, he is servant of God —

He does not fit within the world of color and scent.

شعر ۱۶

ہم صبح و شام رزق کی فکر میں رہتے ہیں —

ہمارا انجام کیا ہے؟ موت کی تلخی۔

Morning and night we fret about gear and means —

What is our end? The bitterness of death.

شعر ۱۷

اس جہانِ بے ثبات میں صرف اس کو ثبات ہے —

موت اس کے لیے زندگی کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔

In a fleeting world he alone finds firmness —

For him death is among the stations of life.

شعر ۱۸

ہماری صحبت سے اہل دل پراگندہ خاطر ہو جاتے ہیں —

اس کی صحبت کے فیض سے مٹی بھی صاحب دل ہو جاتی ہے۔

The people of heart grow dim in our company —

By his company even clay receives a heart.

شعر ۱۹

ہمارے سارے کام تخمین و ظن سے متعلق —

وہ سراپا کردار اور مختصر بات کرتا ہے۔

Our deeds are bound to guess and doubt —

He is all action and speaks but little.

شعر ۲۰

ہم گلی گلی پھرنے والے اور فاقہ مست گداگر ہیں —

اس کا فقر لاالہ کی تلوار ہاتھ میں لیے ہے۔

We are beggars, alley rovers, dazed with hunger —

His poverty bears the sword of “There is no god but God”.

شعر ۲۱

ہم اس تنکے کی مانند ہیں جو بگولے میں گرفتار ہے —

اس کی ضرب کوہ گراں کے اندر سے ندی نکال لیتی ہے۔

We are straws, captives of the whirlwind —

His strike cleaves rivers from mighty mountains.

شعر ۲۲

ہم سے کنارہ کشی اختیار کر اور اس کا دامن تھام لے —

(اپنا) گھر ویران کر کے (ابدی) گھر کا مالک بن جا۔

Become his intimate and be a stranger to us —

Ruin your house and become master of the true Home.

شعر ۲۳

اس گھومتے متغیر آسمان کی شکایت چھوڑ —

اور اس زندہ مرد کی صحبت سے زندگی حاصل کر۔

Complain less of the circling firmament —

Come alive through the company of that living man.

شعر ۲۴

بندگان خدا کی صحبت کتابی علم سے بہتر ہے —

مردان حر کی صحبت آدمی کو انسان بنا دیتی ہے۔

Sweeter than bookish learning is the discourse —

Of free men whose company shapes true men.

شعر ۲۵

مرد حر عمیق اور بے کراں سمندر ہے —

پرنالوں کو چھوڑ اور اس بحر سے پانی حاصل کر ۔

The free man is a deep and boundless sea —

Draw water from the ocean, not from the spout.

شعر ۲۶

ایسے مرد کا سینہ دیگ کی مانند جوش مارتا ہے —

اس کے سامنے کوہ گراں بھی ریت کا تودہ ہے۔

The breast of such a man boils like a cauldron —

Before him a heavy mountain is a mound of sand.

شعر ۲۷

صلح کے ایام میں وہ رونق انجمن —

اور باغ کے اندر باد بہار کی مانند ہے۔

On the day of peace he is the grace of the gathering —

Like the spring breeze among the garden flowers.

شعر ۲۸

جنگ کے وقت وہ اپنی تقدیر کا رازدان ہے —

اور اپنی تلوار سے خود اپنی قبر کھودتا ہے (شہادت کا طالب رہتا ہے)۔

On the day of wrath he is intimate with his fate —

He digs his grave with his own sword (a seeker of martyrdom).

شعر ۲۹

اے کہ میں تجھ پر قربان جاؤں ، ہم سے تیر کی طرح بھاگ —

اور ایسے شخص کا دامن تھام لے اور بے تابانہ تھام لے۔

O let me be your sacrifice; flee from us like an arrow —

Take his hem and take it with restless grip.

شعر ۳۰

آب و گل کے بدن سے دل کا بیج نہیں اگتا —

جب تک صاحبان دل کی نگاہ نہ ہو۔

The seed of the heart does not sprout from water and clay —

Without a glance from the men of the heart.

شعر ۳۱

اس دنیا میں تیری قیمت خس کے برابر بھی نہیں ہوگی —

جب تک تو کسی مرد باخدا کے دامن سے وابستگی نہیں اختیار کرے گا۔

In this world you are worth less than chaff —

Until you cling to the hem of a man of God.

۳۱ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں