صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. تمہید

تمہید

تمہید

Preamble

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۱۹ اشعار
شعر ۱

پیر رومی جو کہ روشن ضمیر رکھنے والا مرشد —

اور عشق و مستی کے کاروان کا امیر ہے۔

The Pir of Rum, the clairvoyant murshid —

The leader of the caravan of love and ecstasy.

شعر ۲

اس کی منزل چاند اور سورج سے بھی بلند تر ہے —

کہکشاں اس کے خیمے کی طناب ہے ۔

Whose station is far above the Moon and the Sun —

For whose tent the Milky Way serves as pegs.

شعر ۳

اس کے سینہ کے اندر قرآن پاک کا نور ہے —

(یہی وجہ ہے کہ) اس کے آئینہ (قلب) سے جام جم شرمندہ ہے۔

Whose heart is effulgent with the light of the Quran —

Whose mirror is more revealing than Jamshid’s cup.

شعر ۴

اس پاک سرشت نے نواز کے نغمہ نے —

میری طبیعت کے اندر دوبارہ ہنگامہ پیدا کر دیا۔

That musician of Pure breed, with his music —

Has thrown my being into tumult once again.

شعر ۵

اس نے کہا: (مشرق کے) لوگ راز ہائے حیات سے با خبر ہو چکے ہیں —

(گویا) مشرق گہری نیند سے بیدار ہو چکا ہے۔

Said he: The people have become aware of the secrets —

The East has awoken from its deep slumber.

شعر ۶

(خدا کی طرف سے) مشرق کو نئے ولولے عطا ہوئے ہیں —

اور اس کی پرانی غلامی کی بیڑیاں کھول دی گئی ہیں۔

Destiny has given it new aspirations —

And loosened its age-old chains.

شعر ۷

اے وہ کہ جو فرنگی رازوں سے اچھی طرح باخبر ہے ! تیرے علاوہ —

اور کوئی یورپ کی آگ میں سلامت نہیں بیٹھ سکا۔

No one, O knower of the secrets of the West —

Has experienced the fire of the West better than you.

شعر ۸

ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کی مانند مست رہ —

(کیونکہ) ہر پرانا بتخانہ گرا دینا ضروری ہے۔

Be God-intoxicated like the Abaraham, Friend of God —

And help bring down every idol-temple.

شعر ۹

باطنی کشش (ہی) سے قوموں کی زندگی ہے—

(مگر) کم نظر اس باطنی کشش کو پاگل پن کہتے ہیں۔

It is ecstasy that imparts life to peoples —

Though the undiscerning call it madness.

شعر ۱۰

کوئی قوم اس نیلے آسمان کے نیچے —

فن رکھنے والے جنون کے بغیر عظیم کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتی۔

No people under the azure dome of the sky —

Has ever achieved anything without this ingenious madness.

شعر ۱۱

مومن عزم و توکّل ہی سے صاحب جبروت ہے —

اگر اس میں یہ دو صفات نہ ہوں تو وہ کافر ہے۔

The believer is strong through his will and his tawakkul —

If he lacks these two, he is an unbeliever.

شعر ۱۲

مومن خیر و شر کو الگ الگ پہچان لیتا ہے—

اس کی ایک نگاہ سے دنیا زیر و زبر ہو جاتی ہے۔

He can distinguish between good and evil —

A mere look from him can shake the whole world.

شعر ۱۳

پہاڑ اس کی ضرب سے ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں —

اس کے گریبان میں ہزاروں ہنگامے برپا رہتے ہیں۔

His blow can crush a mountain to pieces —

And he has thousands of resurrections at his command.

شعر ۱۴

چونکہ تو میرے میخانہ سے شراب پی چکا ہے —

اور پرانی اقدار کو سامنے سے ہٹا چکا ہے۔

Having drunk wine from my tavern —

You have removed all out-modedness from your vision.

شعر ۱۵

اس لیے چمن میں خوشبو کی مانند زندگی بسر کر کہ تو مخفی بھی رہے اور ظاہر بھی —

دنیا میں رہتے ہوئے بھی اس کے رنگ سے اپنے آپ کو پاک رکھ۔

Live in the garden like smell, both hidden and manifest —

Live among colours, but be free from colour.

شعر ۱۶

تیرا زمانہ روحانی رموز سے آگاہ نہیں —

اس کا مذہب صرف غیر اللہ سے محبت ہے۔

Your age is not aware of the secrets of the spirit —

Its creed is nothing but love for the other-than-God.

شعر ۱۷

فلسفی نے بھی اس رمز کو نہیں پہچانا —

اس کی ساری سوچ مادی اشیاء کے گرد گھومتی ہے۔

Little has the philosopher understood this point —

His thought revolves only round matter.

شعر ۱۸

اس نے اپنی آنکھ کو دل کے چراغ سے روشن نہیں کیا —

اس لیے اس نے صرف نیلے، سرخ اور زرد رنگ دیکھے (اللہ کا رنگ نہ دیکھ سکا)۔

He has not illumined his eyes with the lantern of the heart —

Hence he sees nothing but blue, red and yellow.

شعر ۱۹

مبارک ہے وہ شخص جس نے کسی کو دل نہ دیا —

جس کے پاؤں غیر اللہ کے بند سے آزاد رہے۔

Fortunate is he who never bowed before any man —

And who freed his feet from the chains of servitude to the other-than-God.

بند ۲

بند ۲

۶ اشعار
شعر ۲۰

گائیں بھینسیں شیر کے راز نہیں سمجھ سکتیں —

اس لیے اپنے راز صرف شیروں کو بتا۔

What it means to be a lion is beyond the ken of cows and buffaloes —

Never reveal your secret except to lions.

شعر ۲۱

کم ظرف اور پست ہمت آدمی کے ساتھ شراب عشق نہیں پی جاسکتی —

خواہ وہ روم و رے کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو (مسلک عشق عالی ظرف اور بلند ہمت لوگوں کا کام ہے)

One should not drink wine in the company of a churl —

Though he may be king of Rum or Rayy.

شعر ۲۲

ہمارے یوسف (علیہ السلام) کو اگر بھیڑیا لے جائے —

تو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ کوئی گھٹیا شخص انہیں خریدے۔

It is better that our Joseph be taken away by a wolf than —

Be bought by an unworthy person.

شعر ۲۳

اہل دنیا نہ تخیّل رکھتے ہیں، نہ سوچ —

وہ بوریئے بننے میں لگے رہتے ہیں ، انہیں اطلس کی خبر ہی نہیں۔

People of the world lack reason and imagination —

They are weavers of mat and know nothing about satin.

شعر ۲۴

عجمی مرد نے کیا خوب شعر کہا —

جس کی تاثیر سے روح میں سوز پیدا ہو گیا۔

What a beautiful verse a Persian poet has sung —

Which sets the soul afire:

شعر ۲۵

'دنیا دار کے کانوں میں عاشق کا نالہ (و فریاد یوں ہے جیسے) —

فرنگیوں کے ملک میں بانگ آذاں'۔

‘To the ears of the people of the world, the wailing of the lover is like —

The cry of the azan in the land of the Franks’.

بند ۳

بند ۳

۴ اشعار
شعر ۲۶

دین و سیاست کے معنی پھر بیان کر —

اہل حق کو از سر نو ان دونوں کی حکمت سے آگاہ کر۔

Reveal once again the significance of religion and politics —

Tell the devotees of the Truth what you understand by them.

شعر ۲۷

غم کھا لے، مگر غم بڑھانے والوں کی روٹی نہ کھا —

کیونکہ عقلمند غم کھاتا ہے اور بچہ شکر کھاتا ہے۔ (رومی)

‘Suffer grief (patiently) and do not eat the bread of those who augment grief —

A wise man suffers grief while a child eats sweets.’ Rumi.

شعر ۲۸

فقیر کے کندھے پر تو گدڑی بھی بوجھ ہے —

باد صبح کی مانند سوائے پھول کی خوشبو کے اور سامان نہ اٹھا۔

To the Faqir, even his patched-up garment is a burden —

Like breeze you should carry nothing except the smell of roses.

شعر ۲۹

اگر تو سمندر ہے تو آبادی و ویرانہ سے مسلسل نبرد آزما ہو —

اگر شبنم ہے تو پھول کی پتی پر ٹپک۔

Are you an ocean? Then be constantly at war with your environment —

Are you a dew-drop? Then drop yourself gently on a rose-petal.

بند ۴

بند ۴

۵ اشعار
شعر ۳۰

مرد حق سے راز حق پوشیدہ نہیں —

کیا تو جانتا ہے کہ روح مومن کیا ہے؟

The Divine mystery is not hidden from the man of God —

Do you know what is the true nature of a believer’s soul?

شعر ۳۱

قطرہء شبنم نے اظہار ذات کے شوق میں —

اپنی گتھی اپنے ہی ہاتھ سے سلجھائی۔

It is a drop of dew which, out of desire for self-manifestation —

Unravelled its own knot with its own hands.

شعر ۳۲

تحفّظ ذات کی خاطر وہ اپنے ضمیر کے اندر رہا —

(اور پھر) افلاک کی خلوت سے اپنا سامان سمیٹا۔

Which sat in the depth of its being by dint of selfhood —

Which started on its journey from the stillness of the heavens.

شعر ۳۳

(لیکن اس نے) بحر بے پایاں کی طرف رخ نہیں کیا —

نہ ہی اپنے آپ کو سیپ میں پنہاں کیا۔

Which did not turn towards the limitless expanse of the ocean —

Nor hid itself in an oyster.

شعر ۳۴

(بلکہ) صبح کی آغوش میں ایک لمحہ کے لیے چمک کر —

اس نے اپنے آپ کو تازہ کھلے غنچہ کے منہ میں ٹپکا دیا۔

It palpitated in the lap of the morning for a moment —

And then dropped into the mouth of the new-born bud.

۳۴ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں