صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. اشکی چند بر افتراق ہندیان

اشکی چند بر افتراق ہندیان

ہندوستانیوں کے باہمی تفرقہ پر چند آنسو

Lament On The Differences Among Indians

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۱۵ اشعار
شعر ۱

اے ہمالہ! اے اٹک! اے دریائے گنگا! —

یہ بے رونق زندگی کب تک؟

O Himalayas! O Attock! O River Ganges! —

How long shall we go on living sordidly like this?

شعر ۲

بزرگوں میں فراست نہیں —

نوجوان محبت سے خالی ہیں۔

Old men are devoid of insight —

Young ones are deprived of love.

شعر ۳

مشرق و مغرب آزاد ہیں مگر ہم غیروں کے غلام ہیں —

ہماری اینٹیں غیروں کی تعمیر میں صرف ہو رہی ہیں۔

East and West are free, but we are slaves of others —

Our bricks go to the building of others’ mansions.

شعر ۴

دوسروں کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنا —

خواب گراں نہیں بلکہ مرگ جاوداں ہے۔

To live according to the wish of others —

Is not deep slumber, it is eternal death.

شعر ۵

یہ وہ موت نہیں جو آسمان سے نازل ہوتی ہے —

بلکہ اس موت کا بیج روح کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔

This is not a death that comes from the sky —

Its seed grows out of the depths of one’s soul.

شعر ۶

اس موت کے شکار کو نہ غسال کی ضرورت ہے، نہ قبر کی —

اور نہ احباب تعزیت کے لیے نزدیک و دور سے آتے ہیں۔

Its prey seeks neither washer of the dead nor grave —

Nor friends arriving for condolence from near or far.

شعر ۷

اس مردے کے غم میں کوئی کپڑے نہیں پھاڑتا —

اس کی دوزخ آسمانوں کے دوسری جانب نہیں (بلکہ یہیں ہے)۔

No garment is torn in grief for such a death —

His hell is not beyond the skies, it is here.

شعر ۸

اسے روز محشر کے ہجوم میں نہ تلاش کر —

اس کا کل (قیامت) اس کے آج ہی میں موجود ہے۔

Do not seek him in the crowd of the Day of Reckoning —

His tomorrow already dwells inside his today.

شعر ۹

جس نے (اپنے اعمال کا) دانہ یہاں بو کر یہیں فصل کاٹ لی —

ایسے بندے کو اللہ تعالیٰ کے سامنے لے جانے کی کیا ضرورت؟

Whoever sows here and reaps here as well —

What use to bring that man before God?

شعر ۱۰

جس قوم نے آرزو کا زخم نہ کھایا —

اس کے نقش کو فطرت نے زمانے (کی تختی) سے مٹا دیا۔

A nation that never tasted the prodding of desire —

Is wiped off the face of the earth by Nature.

شعر ۱۱

تخت و تاج کا بھرم جادوگری سے ہے —

اسی سے یہ شیشہ پتھر کی طرح سخت نظر آتا ہے۔

By sorcery, the throne and crown acquire authority —

By sorcery, glass appears as hard as stone.

شعر ۱۲

اسی کھلے جادو کے حکم سے —

کافری نے کفر اور دینداری نے دین چھوڑ دیا۔

Under the influence of this clear enchantment —

Muslims abjured their faith, unbelievers their unbelief.

شعر ۱۳

ہندوستانیوں نے ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا شروع کر دیا —

اور اس طرح پرانے فتنوں کو پھر سے ہوا دی۔

The Indians quarrel with one another —

Having revived their old differences.

شعر ۱۴

یہاں تک کہ یورپ سے ایک فرنگی قوم —

کفر و دین کی ثالث بن کر آ گئی۔

Until a Frankish nation from the land of the West —

Assumed the role of a mediator between Islam and kufr.

شعر ۱۵

(اب) کوئی شخص سراب اور پانی کے جلوے میں فرق نہیں جانتا —

انقلاب! اے انقلاب! اے انقلاب!

Nobody knows water from mirage —

Revolution, O revolution, O revolution!

بند ۲

بند ۲

۱۱ اشعار
شعر ۱۶

اے وہ شخص جسے ہر لحظہ بدن کی فکر کھائے جا رہی ہے —

تو اللہ تعالیٰ سے ایک دلِ زندہ مانگ۔

O you who are always anxious for material sustenance —

Ask God a living heart.

شعر ۱۷

دلِ زندہ کا آشیانہ اگرچہ بدن میں ہے —

لیکن نو آسمان اس ایک دلِ زندہ کے گرد گھومتے ہیں۔

Though its nest is in water and clay —

Yet the nine heavens circle this single living heart.

شعر ۱۸

یہ نہ سمجھ کہ (دلِ زندہ) خاکی بدن سے پیدا ہوتا ہے —

وہ دراصل افلاک کی بلندیوں سے ہے۔

Do not think the living heart belongs to the earth —

It really comes from the highest heavens.

شعر ۱۹

یہ جہان اس کے لیے محبوب (حق تعالیٰ) کا حریم ہے —

وہ یہاں کے گل لالہ کی قبا سے محبوب کی خوشبو پاتا ہے۔

For it, the world is the sanctuary of the Divine Friend —

From the tulip's robe, it gathers the Friend's fragrance.

شعر ۲۰

ایسا دل ہر لحظہ زمانے سے نبرد آزما رہتا ہے —

اس کی ضرب سے راستے کا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے۔

The living heart is constantly at war with the world —

The stones on the path are broken to pieces by its strokes.

شعر ۲۱

وہ منبر و دار کا آشنا ہے —

وہ اپنی آتش (عشق) کو سنبھال کر رکھتا ہے۔

It is familiar with the pulpit and the gibbet —

And keeps a strict watch over its own fire.

شعر ۲۲

ہے وہ ندی مگر کئی سمندر اس کے ہمراہ ہوتے ہیں —

اس کی موج آنے والے طوفان کی خبر دیتی ہے (وہ انقلاب پیدا کرتا ہے)۔

It is a stream, yet it carries seas in its embrace —

Its wave brings news of storms to come.

شعر ۲۳

وہ دل ظاہری خوراک کے بغیر ہی زندہ و پائندہ ہے —

ہاں اس کی موت اس وقت واقع ہوتی ہے جب وہ حضور سے محروم ہو جاتا ہے۔

Alive and everlasting, needing no baked bread —

It dies the moment when Divine Presence fades away.

شعر ۲۴

ایسا زندہ دل، شبستانِ بدن میں چراغ کی مانند ہے —

وہ خلوت و انجمن کو روشن کر دیتا ہے۔

Like a bright lamp within the body's dark alcove —

It lends its light to both the gathering and solitude.

شعر ۲۵

اس قسم کا خود نگر اور خدا مست دل —

درویشی کے بغیر ہاتھ نہیں آتا۔

Such a heart, ever watchful of itself and God-intoxicated —

Is not achieved except through Faqr.

شعر ۲۶

اے جوان! ایسے صاحب دل کا دامن مضبوطی سے تھام لے —

اور غلامی میں پیدا ہونے کے باوجود آزادی کی موت پا لے۔

O youth! grasp firmly the skirt of one who bears such a heart —

And though born in servitude, depart as one who is free.

۲۶ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں