صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. سیاسیات حاضرہ

سیاسیات حاضرہ

عصرِ حاضر کی سیاست

Contemporary Politics

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۱۳ اشعار
شعر ۱

(عصر حاضر کی سیاست) محکوموں کی زنجیروں کو پختہ تر کرتی ہے —

(لیکن) کم نظر شخص اسے حریت کا نام دیتا ہے۔

(The politics of present age) tightens the captives’ chains even more —

Yet the short-sighted one calls it freedom.

شعر ۲

جب اس نے عوام کے ہنگامے کی گرمی دیکھی —

تو بادشاہت کے چہرے پر پردہ ڈال دیا۔

When it saw the heat of the people’s uproar —

It threw a veil over the face of kingship.

شعر ۳

سلطنت کو اس نے جامعِ اقوام (اقوام متحدہ) کا نام دیا —

اپنا الو سیدھا کرلیا، (لیکن دھوکے کیلئے) بات خام کہی۔

It named empire the “League of Nations” (the United Nations) —

Set its own business straight, and spoke words meant to deceive.

شعر ۴

اس کی فضا میں بال و پر کھولے نہیں جا سکتے —

اس کی چابی سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جا سکتا۔

In its atmosphere no wings can truly be unfurled —

With its key no door can really be opened.

شعر ۵

یہ قفس کے پرندے سے کہتا ہے کہ "اے دردمند —

تو شکاری کے گھر کے اندر آشیانہ بنا لے۔

It tells the caged bird, “O wounded one —

Build your nest inside the hunter’s house.

شعر ۶

جو کوئی صحرا و مرغزار میں آشیانہ بناتا ہے —

وہ شاہین اور شکرے سے محفوظ نہیں رہتا"۔

Whoever builds a nest in desert or meadow —

Is not safe from the hawk or the falcon.”

شعر ۷

اس کے سحر سے سمجھدار پرندہ بھی دانے پر فریفتہ ہے —

اس نے نالہ و فریاد کو اپنے گلے ہی میں دفن کر لیا۔

By its enchantment even the wise bird is lured by the grain —

It buried its own lament within its throat.

شعر ۸

اگر تو آزادی چاہتا ہے تو اس کے جال سے دور رہ —

پیاسا مر جا لیکن اس کے انگور کے رس کا طالب نہ ہو۔

If you want freedom, stay far from its net —

Die thirsty, but do not crave the wine of its grapes.

شعر ۹

اس کی گرمئ گفتار سے اللہ کی پناہ —

اس کی پہلو دار باتوں سے اللہ کی پناہ۔

From its heated speech, seek God’s protection —

From its double-edged, slippery words, seek God’s protection.

شعر ۱۰

اس کا سرمہ آنکھوں کو اور زیادہ بے نور کر دیتا ہے —

مجبور انسان اس کی وجہ سے زیادہ مجبور ہو جاتا ہے۔

Its kohl makes the eyes even more dim —

And the helpless human becomes still more helpless because of it.

شعر ۱۱

اس کے پیالے کی شراب سے اللہ کی پناہ —

اس کے بدنیتی پر مبنی جوئے سے اللہ کی پناہ۔

From the wine of its cup, seek God’s protection —

From its ill-intended gamble, seek God’s protection.

شعر ۱۲

مرد حر اپنی خودی سے غافل نہیں رہتا —

تو اپنی حفاظت کر، اس کی افیون کی گولی مت کھا۔

The free man is never heedless of his Khudi —

Guard yourself, do not swallow its opium pill.

شعر ۱۳

وقت کے فرعونوں کے سامنے حضرت موسیٰ کے انداز میں بات کر —

تا کہ تیری ضرب دریا کو دو ٹکڑے کر دے۔

Speak to the pharaohs of the age in the manner of Moses —

So that your blow may split the sea in two.

بند ۲

بند ۲

۱۴ اشعار
شعر ۱۴

اس قافلے کی رسوائی سے میرا دل داغ داغ ہے —

اس کے امیر کے قلب میں مجھے کوئی نور نہیں دکھائی دیتا۔

My heart is scarred by this caravan’s disgrace —

I see no light in the heart of its leader.

شعر ۱۵

(امیر قافلہ) جسم کا غلام، ظاہری نمود میں مست اور کوتاہ نظر ہے —

اس کا سینہ لا الہ کے نور سے خالی ہے۔

Worshipper of the body, drunk on status, and short of sight —

His inner soul is destitute of the light of "La ilaha".

شعر ۱۶

یہ شخص حرم میں پیدا ہوا تھا لیکن کلیسا کا مرید ہو گیا —

اس نے ہماری غیرت ملی کا پردہ تار تار کر دیا۔

He was born in the Sanctuary, yet became a disciple of the church —

He tore our national honor’s veil to shreds.

شعر ۱۷

ایسے شخص کا دامن پکڑنا حماقت ہے —

کیونکہ اس کا سینہ قلب منور سے خالی ہے۔

To cling to such a man is sheer foolishness —

For his chest is devoid of an illumined heart.

شعر ۱۸

اس سلسلے میں تو اپنے آپ پر اعتماد کر کیونکہ کوئی شخص —

اندھے کتے کے ساتھ ہرن کا شکار نہیں کر سکتا۔

In this matter, trust your own self, for no one —

Can hunt a deer with a blind dog.

شعر ۱۹

افسوس ہے اس قوم پر جس نے اپنے آپ سے آنکھیں بند کر لیں —

دل غیر اللہ کو دے دیا اور اپنے آپ سے کٹ گئی۔

Pity the nation that shut its eyes to itself —

Gave its heart to other-than-God, and broke away from its own self.

شعر ۲۰

جب قوم کے سینے میں خودی مر گئی —

تو اس کے پہاڑ نے تنکے کا انداز اختیار کر لیا اور اسے ہوا اڑا کر لے گئی۔

When Khudi died in a nation’s breast —

Its mountain became like a straw, and the wind carried it away.

شعر ۲۱

اگرچہ اس ملت کی فطرت میں لا الہ ہے —

مگر ان کی ماؤں کے پیٹ سے کوئی مسلمان پیدا نہیں ہوا۔

Though “La ilaha” lies within this nation’s nature —

No Muslim has been born from the wombs of their mothers.

شعر ۲۲

(ایسا مسلمان پیدا نہ ہوا) جو بے یقینوں کو یقین بخشے —

اور جس کے سجدے سے زمین لرز اٹھے۔

No one has been born who can grant certainty to the doubters —

And whose prostration makes the earth tremble.

شعر ۲۳

(ایسا مسلمان) جو تلوار کے نیچے بھی لا الہ کہے —

جس کے خون سے لا الہ کی فصل اگے۔

No one has been born who, even beneath the sword, says “La ilaha,” —

Whose blood makes the crop of “La ilaha” grow.

شعر ۲۴

نہ وہ سرور باقی رہا اور نہ وہ شوق کا سوز —

حرم میں کوئی صاحب دل باقی نہ رہا۔

That rapture, that burning of longing remains no more —

In the Sanctuary, no man of heart remains.

شعر ۲۵

اے مسلمان تو اس پرانے بت خانے میں —

کب تک اہرمن (شیطان) کی قید میں رہے گا؟

O Muslim, in this old idol-house —

How long will you remain in Iblis’s chains?

شعر ۲۶

با توفیق جہدوجہد اور طلب میں لذت —

یہ گریۂ نیم شبی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں۔

Striving with God’s grace, and delight in the quest —

None attains it without the midnight prayer.

شعر ۲۷

تو سمندر میں کب تک تنکے کی مانند زندگی بسر کرے گا؟ —

ضبط نفس سے تو پہاڑ کی طرح سخت ہو جا۔

How long will you live in the sea like a straw? —

Through self-restraint, become firm like a mountain.

بند ۳

بند ۳

۵ اشعار
شعر ۲۸

اگرچہ سمجھدار آدمی کبھی کسی کو اپنا حال دل نہیں بتاتا —

مگر میں تجھ سے اپنا درد نہیں چھپا سکتا۔

Though the wise never reveal their heart’s condition to anyone —

I cannot hide my pain from you.

شعر ۲۹

چونکہ میں غلام ہوں، غلامی میں پیدا ہوا ہوں —

اس لیے کعبہ کی چوکھٹ سے دور جا پڑا ہوں۔

Since I am a slave, born into slavery —

I have fallen far from the threshold of the Ka‘bah.

شعر ۳۰

جب میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات والا صفات پر درود بھیجتا ہوں —

تو میرا وجود شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

When I send blessings upon Muhammad Mustafa (PBUH) —

My whole being melts with shame.

شعر ۳۱

عشق کہتا ہے کہ او غیر کے محکوم! —

تیرا سینہ تو بتوں کی وجہ سے بت خانہ بنا ہوا ہے۔

Love says: O one enslaved to the Other —

Your chest has become an idol-temple because of idols.

شعر ۳۲

جب تک تو حضرت محمد ﷺ کا رنگ و بو اختیار نہیں کرتا —

اس وقت تک اپنے درود سے حضور ﷺ کے نام نامی کو آلودہ نہ کر۔

Until you take on the color and fragrance of Muhammad (PBUH) —

Do not stain his noble name with your blessings.

بند ۴

بند ۴

۹ اشعار
شعر ۳۳

میرے بے حضور قیام کا مت پوچھ —

میرے بے سرور سجدوں کا مت پوچھ۔

Ask not of my standing with no presence of heart —

Ask not of my prostration devoid of all delight.

شعر ۳۴

اللہ تعالیٰ کا جلوہ اگرچہ ایک لمحے کا ہوتا ہے —

تاہم وہ آزاد مردوں ہی کے مقدر میں ہے اور بس۔

The manifestation of God, though it be for a single breath —

Is the destiny of free men alone, and none else.

شعر ۳۵

جب کوئی آزاد مرد سجدے میں گرتا ہے —

تو یہ نیلا آسمان اس کے طواف میں گرم ہو جاتا ہے۔

When a free man falls into prostration —

The azure sky circles him in fervent motion.

شعر ۳۶

ہم غلام اس کے جلال سے ناواقف —

اور اس کے لازوال جمال سے بے خبر ہیں۔

We slaves are strangers to His majesty —

And unaware of His everlasting beauty.

شعر ۳۷

کسی غلام میں ایمان کی لذت تلاش نہ کر —

اگرچہ وہ حافظ قرآن ہی کیوں نہ ہو، پھر بھی تلاش نہ کر۔

Do not seek the taste of faith in a slave —

Even if he is a memorizer of the Qur’an, do not seek it.

شعر ۳۸

بظاہر تو وہ صاحب ایمان ہے لیکن اس کا پیشہ بت گری ہے —

اس کا دین اور عرفان سب محض کافری ہے۔

Outwardly he seems a believer, yet his craft is idol-making —

His religion and his knowing are nothing but disbelief.

شعر ۳۹

اگر تو اپنے اندر سوز حیات رکھتا ہے —

تو جان لے کہ نماز میں مسلمان کی معراج ہے۔

If you carry within you the burning of life —

Know that in prayer lies the Muslim’s ascension.

شعر ۴۰

اور اگر تو اپنے جسم میں گرم خون نہیں رکھتا —

تو پھر تیرا سجدہ محض ایک پرانی رسم کے سوا اور کچھ نہیں۔

And if you do not carry warm blood in your body —

Then your prostration is nothing but an old ritual.

شعر ۴۱

آزاد قوموں کی عید ملک اور دین کی شان و عظمت ہے —

جبکہ غلاموں کی عید صرف مسلمانوں کا ہجوم ہے۔

The Eid of free nations is the glory and grandeur of state and faith —

While the Eid of slaves is only a crowd of Muslims.

۴۱ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں