صفحۂ اولکتابیںشعرالغاتاوزاناصنافہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مرکزی راستے

صفحۂ اولکتابیںشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصناف

لغات

زندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

YouTubeFacebookInstagramTikTok
  1. زندہ رود
  2. کتابیں
  3. مثنوی پس چه باید کرد
  4. حرفی چند با امت عربیه

حرفی چند با امت عربیه

عرب قوم سے چند باتیں

A Few Words With Arab Nation

شاعر: علامہ اقبالؒ

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صدا: مخدوم حسان لاہوری

بند ۱

۱۷ اشعار
شعر ۱

اے کہ تیرے در و دشت ابد تک باقی رہیں —

وہ کون تھا جس نے "نہ قیصر نہ کسریٰ" کا نعرہ بلند کیا؟

O you whose valleys and deserts shall remain forever —

Who struck the cry, "Neither Caesar nor Khosrow"?

شعر ۲

زمان و مکاں کی اس دنیا میں —

سب سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کون تھے؟

In this world of time and space —

Who were the first to recite the Holy Quran?

شعر ۳

"الا اللہ" کی رمز کسے سکھائی گئی تھی؟

یہ چراغ پہلے پہل کہاں روشن کیا گیا تھا؟

To whom was the secret of "La ilaha" taught?

Where was this lamp first lit?

شعر ۴

یہ علم و حکمت کس کے دسترخوان کا بچا ہوا ٹکڑا ہے؟

آیتِ "فاصبحتم" (پس تم بھائی بھائی ہو گئے) کس کی شان میں ہے؟

From whose table are these scraps of knowledge and wisdom?

In whose honor was the verse "So you became brothers" revealed?

شعر ۵

اُس امی لقب ذات گرامی ﷺ کی زندگی بخش پھونک سے —

عرب کے صحرا کی ریت میں گل لالہ کھل اٹھے۔

From the life-bestowing breath of that Unlettered Prophet (pbuh) —

Tulips bloomed in the sands of the Arab desert.

شعر ۶

حریت نے اسی عالی مقام ہستی کی آغوش میں پرورش پائی —

اقوام کا آج، آنجناب ﷺ کے دور گزشتہ کا مرہون منت ہے۔

Freedom was nurtured in the lap of that Exalted Being (pbuh) —

The present of nations is indebted to his past era.

شعر ۷

آپ ﷺ نے آدم کے جسد میں دل رکھا —

آپ ﷺ نے آدم کے روشن چہرے سے نقاب اٹھائی۔

He placed a heart within the body of Adam —

He lifted the veil from Adam's radiant face.

شعر ۸

آپ ﷺ نے ہر پرانا بت توڑ ڈالا —

اور ہر پرانی شاخ سے آپ ﷺ ہی کے نم سے کلیاں پھوٹ نکلیں۔

He shattered every ancient idol —

And from every old branch, buds blossomed through his moisture alone.

شعر ۹

بدر اور حنین کے معرکوں کی گرمی ہو —

یا حیدرِ کرارؓ، ابوبکرِ صدیقؓ، عمرِ فاروقؓ یا امام حسینؓ (یہ سب آپ ﷺ ہی کے فیوض ہیں)۔

The heat of the tumult of Badr and Hunayn —

(The advent of) Haider, Siddiq, Farooq, and Hussain.

شعر ۱۰

میدان کارزار میں بانگِ نماز کی ہیبت و سطوت ہو —

یا جنگ کے دوران سورہ الصّافّات کی قرأت۔

Whether the awe and majesty of the call to prayer on the battlefield —

Or the recitation of Surah As-Saffat during war.

شعر ۱۱

ایوبی تلوار ہو یا بایزید کی نگاہ —

جو دونوں جہانوں کے خزانوں کی کنجیاں ہیں۔

Whether the Ayyubi sword or the gaze of Bayazid —

These are the keys to the treasures of two worlds.

شعر ۱۲

شراب کے ایک جام سے عقل و دل دونوں کو سرمست کر دینا —

مولانا روم کے ذکر اور امام رازی کی فکر کا اختلاط۔

To intoxicate both intellect and heart with a single cup of wine —

A blend of Rumi's remembrance and Razi's thought.

شعر ۱۳

نیز علم و حکمت، شرع و دین ، معاملات کا انتظام —

اور سینے کے اندر دلوں کی بے قراری۔

Also knowledge and wisdom, Sharia and faith, the administration of affairs —

And the restlessness of hearts within the breast.

شعر ۱۴

الحمرا اور تاج محل کی عالم سوز خوبصورتی —

جو فرشتوں سے بھی خراج (تحسین) وصول کرتی ہو۔

The world-consuming beauty of Alhambra and the Taj Mahal —

Which receives tribute even from the angels.

شعر ۱۵

یہ سب کچھ حضور ﷺ کے اوقات میں سے ایک لمحہ —

اور آپ ﷺ کی تجلّیات میں سے ایک تجلّی ہے۔

All this is but a single moment from the times of the Prophet (pbuh) —

And but one ray from his manifestations.

شعر ۱۶

حضور ﷺ کا ظاہر تو ان دلفروز جلووں کی صورت میں نمایاں ہے —

جبکہ آپ ﷺ کا باطن ابھی عارفوں سے بھی مخفی ہے۔

His exterior implies these heart-kindling splendors —

His interior remains hidden even from the gnostics.

شعر ۱۷

رسول اللہ ﷺ بیحد تعریف و ستائش کے مستحق ہیں —

جن کی ذات گرامی نے مشت خاک کو ایمان کی دولت سے نوازا۔

Boundless praise be to the Pure Prophet (pbuh) —

He who granted faith to a handful of dust.

بند ۲

بند ۲

۲۲ اشعار
شعر ۱۸

(اے قومِ عرب!) خدا نے تجھے تلوار سے بھی زیادہ کاٹ دار بنایا —

اس نے اونٹ چلانے والوں کو تقدیر کا سوار بنادیا۔

(O Arab Nation!) God made you sharper than a sword —

He made the camel-drivers the riders of destiny.

شعر ۱۹

نعرہ تکبیر اور نماز اور جہاد و قتال —

اسی شور و غوغا سے مشرق و مغرب کے معاملات سلجھے۔

The cry of Takbir, prayer, jihad, and combat —

Through this very tumult, the affairs of East and West were resolved.

شعر ۲۰

کیا مبارک تھی تمہاری وہ مجذوبی اور دلبری —

اور کتنی افسوس ناک ہے تمہاری یہ افسردگی اور دلگیری۔

How blessed was your dedication and selfless devotion then —

And how tragic is your present gloom and melancholy.

شعر ۲۱

دوسری اقوام نے اپنے کام کو آگے بڑھالیا —

اور تمہیں اپنے صحرا کی قیمت ہی کی خبر نہیں ہے۔

Other nations carried their work forward —

You did not know the worth of your own desert.

شعر ۲۲

تم ایک امت تھے، مگر اب مختلف قومیتوں میں منقسم ہو گئے —

اور اس طرح اپنی جماعت کو خود ہی منتشر کر کے رکھ دیا۔

You were once a single nation, now divided into many —

You have broken up your society yourself.

شعر ۲۳

جو کوئی بھی خودی کا بند توڑ کر نکل گیا، موت سے ہمکنار ہوا —

جو کوئی غیروں سے مل گیا، اپنی شناخت کھو بیٹھا۔

Whoever broke the bond of the Khudi, embraced death —

Whoever merged with strangers, lost his own identity.

شعر ۲۴

جو کچھ تم نے اپنے آپ کے ساتھ کیا وہ کسی نے نہیں کیا —

تمہارے اس طرز عمل نے رسول اللہ ﷺ کی پاک روح کو بھی تکلیف میں مبتلا کردیا۔

What you have done to yourselves, no one else has done —

Your conduct has pained the pure soul of the Chosen One (pbuh).

شعر ۲۵

(اے عرب قوم!) تم جو فرنگی کے سحر سے بے خبر ہو —

اس کی آستین کے اندر پوشیدہ فتنوں کو دیکھنے کی کوشش کرو۔

(O Arab Nation!) You who are unaware of the Frankish magic —

Try to see the mischief hidden up his sleeve.

شعر ۲۶

اگر تم اس کے فریب سے بچنا چاہتے ہو —

تو اپنے حوض سے اس کے اونٹوں کو دور بھگا دو۔

If you wish to escape his deception —

Drive his camels away from your ponds.

شعر ۲۷

اس کی تدبیر اور چالوں نے ہر قوم کو لاچار کر کے رکھ دیا —

اسی نے عربوں کی وحدت کو سو ٹکڑوں میں منقسم کر دیا۔

His schemes and tricks have rendered every nation helpless —

He has divided the unity of the Arabs into a hundred pieces.

شعر ۲۸

جب سے عرب اس (فرنگی) کے حلقہ دام میں گرفتار ہوئے —

آسمان نے انہیں ایک لمحہ کے لیے بھی چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔

Ever since the Arab was caught in his snare —

The sky has not allowed them to sit in peace for a single moment.

شعر ۲۹

اے صاحب نظر! اپنے دور پر نظر کر اور سمجھ!

اپنے بدن میں پھر سے روح عمرؓ پیدا کر!

O possessor of insight! Look at your era and understand!

Create the spirit of Umar once again within your body!

شعر ۳۰

قوت، دین مبین کی جمعیت ہی سے حاصل ہوتی ہے —

دین سراسر عزم اور اخلاص و یقیں پر مبنی ہے۔

Power lies in the unity of the true religion —

Religion is strong will, sincerity and faith.

شعر ۳۱

چونکہ مرد صحرا کا ضمیر فطرت کا رازداں ہے —

اس لیے وہ فطرت کا پاسباں ہے۔

As his heart knows the secrets of Nature —

The man of the desert is the guardian of Nature.

شعر ۳۲

اگرچہ وہ سادہ مزاج ہے مگر اس کی طبیعت نیکی اور بدی کی کسوٹی ہے —

(آفتاب کی مانند) اس کے طلوع ہونے سے ہزاروں انجم غروب ہو جاتے ہیں۔

He is simple, his nature is the touchstone of right and wrong —

His rise means setting of a hundred thousand stars.

شعر ۳۳

دشت و در اور کوہ و وادی سے گزر جا —

اور اپنے وجود کے اندر خیمہ لگا۔

Pass beyond the deserts, the valleys, the mountains and meadows —

And pitch your tent within your own being.

شعر ۳۴

طبیعت میں بیاباں کی ہوا سے تیزی پیدا کر کے —

اونٹنی کو میدان جنگ میں ڈال دے۔

Creating sharpness in your nature from the desert wind —

Cast the dromedary into the battlefield.

شعر ۳۵

جدید دور تیرے ایام (گزشتہ) سے پیدا ہوا ہے —

اس کے (علوم جدید) کی مستی تیری ہی سرخ شراب کی وجہ سے ہے۔

The modern age is born from your past days —

The intoxication of its new sciences is due to your red wine.

شعر ۳۶

اس کے بھیدوں کی تشریح کرنے والا تو ہی تھا —

تو نے ہی پہلے پہل (ان علوم) کی عمارت تعمیر کی تھی۔

You were the one who interpreted its secrets —

You were the first to construct the building of these sciences.

شعر ۳۷

لیکن جب سے ان (علوم) کو فرنگ نے اپنی فرزندی میں لیا —

(گویا) یہ ننگ و ناموس سے عاری (ایک حسینہ) بن گئے۔

But since the West took these sciences into its adoption —

They became like a beauty devoid of honor and shame.

شعر ۳۸

(وہ حسینہ) اگرچہ بہت شیریں اور شہد کی سی مٹھاس والی ہے —

مگر کج خرام، گستاخ اور بے دین ہے۔

Although she is very sweet and luscious —

But she walks crookedly, is insolent, and without faith.

شعر ۳۹

اے صحرا نشین! اس خام کو پختہ تر کر —

اور موجودہ دور کو اپنے معیار کے مطابق لا۔

O dweller of the desert! Make what is unripe mature —

And refashion the world according to your touchstone.

۳۹ اشعارمثنوی پس چه باید کرد

آڈیو

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں