کیوں تو اس کونے میں افسردہ سکڑا بیٹھا ہے
Why Sit Shrunken, Sorrowful In That Corner
شاعر: مولانا جلال الدین رومیؒ
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
صنف: غزل
صدا: مخدوم حسان لاہوری
بند ۱
کیوں تو اُس کونے میں افسردہ سکڑا بیٹھا ہے، تو بھی کیوں نہیں چل پڑتا؟
لیکن (میں جانتا ہوں کہ) تو ایک فکرِ منحوس ہے، اور غم کے سوا کسی شے کے گرد نہیں چکراتا۔
Why crouch in that dim corner, shrunken in your sorrow, and never rise to move?
For I know you are but a baleful thought that orbits nothing but grief.
جب موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) آچکے، تو آل فرعون کی صف میں کیوں کھڑا ہے؟
جب عیسیٰ خوشدم (علیہ السلام) آ چکے، تو ان کا ہمدم کیوں نہیں بنتا؟
When Moses, son of ʿImrān, has come, why cling you still to Pharaoh’s kin?
When Jesus, breath of bliss, has come, why do you not become his companion?
جتنے عہد تو نے حق تعالیٰ کے ساتھ باندھے تھے، سستی سے سب توڑ ڈالے —
جانبازوں کے عہد کے قول کی طرح تو محکم کیوں نہیں ہو جاتا؟
Having with God exchanged covenants, through sloth you have broken them —
Wherefore do you not grow yourself firm, like the pledges of the valiant self-sacrificing?
تو مٹی کے بیچ، چوہوں کی مانند، صرف باورچی خانوں تک پہنچنے کے راستے ہی کیوں کھودتا رہتا ہے؟
تو بادشاہوں کی طرح اس آسمان پر ٹہلنے والا کیوں نہیں بنتا؟
Why burrow in dust like a mouse, chasing the trail to kitchens alone?
Why not walk the vaulted sky, as emperors move through their high domain?
تو دروازوں کے کنڈوں کی طرح صرف شور مچانے ہی کے لیے کیوں لٹکا ہوا ہے؟
جوانمردوں کے حلقے میں ایک لمحے کیلئے محرمِ راز بن کر کیوں نہیں بیٹھتا؟
Why dangle like a latch on various doors, made only for clatter and empty sound?
Why not sit for a moment among the valiant, admitted to the quiet honor of their trust?
بند دروازہ کیسے کھلے، جبکہ تو چابی ہی سے دشمنی پالے بیٹھا ہے؟
زخمی کیسے اچھا ہو، جبکہ تُو مرہم ہی کی طرف رُخ نہیں کرتا؟
How shall a locked door open, when you have made an enemy of the key itself?
How shall the wounded heal, when you will not turn your face toward the balm?
اے جان! سر تو تب ہی سر بنتا ہے جب اُس ذات کی راہ کی خاک ہو جائے —
اے سر! اُس (کے لشکر کے) جھنڈے کی محبت میں، تُو خود چلتا پھرتا پرچم کیوں نہیں بن جاتا؟
O soul, a head becomes a head only when it turns to dust upon His path —
O head, in love for His bannered host, why do you not become His moving standard?
کسی خشک بادل کی طرح تو چاند کے سامنے سکڑ کر حجاب کیوں بن جاتا ہے؟
مہ تاباں کی مانند تو خود اس جہان کے گرد گردش کرنے والا کیوں نہیں بنتا؟
Why do you huddle before the moon like a withered cloud, a mere veil upon its glow?
Why do you not, like the radiant moon, circle this world in your own light?
یہ گلستان، پھول اور ریحان، سب تیرے ہی ہاتھ سے اگتے ہیں، تیرے بغیر نہیں پھوٹتے —
اے چہرے! تجھے دو چشمے عطا کیے گئے ہیں، پھر تُو پرنم کیوں نہیں ہوتا؟
This garden, its flowers and sweet herbs; without you nothing blooms —
O face, two springs are yours; why do you not grow moist with tears?
آسمانی طواف کرنے والے (فرشتے) سب کے سب آدم کے گرد محوِ طواف ہیں —
بس تو ہی ملعون ابلیس ہے جو آدم کے گرد طواف نہیں کرتا۔
The heavenly circling ones, the angels, all revolve in reverence around Adam —
Only you, accursed Iblis, refuse to circle around the one they honor.
اگر تُو خلوت نہیں اختیار کرتا تو کم از کم خاموش کیوں نہیں رہتا؟
اگر کعبہ نہیں بن سکتا تو زمزم ہی کیوں نہیں بن جاتا؟
If you cannot withdraw into solitude, can you not at least keep silent?
If you cannot become the Kaaba, why not at least become a spring of Zamzam?