آہ بیمار کارگر نہ ہوئی
Poet: Yaas Yagana Changezi
Toggle stanza 1آہ بیمار کارگر نہ ہوئی
11
آہ بیمار کارگر نہ ہوئی
چرخ کانپا مگر سحر نہ ہوئی
22
صبح محشر ہوئی شب تاریک
صورت یار جلوہ گر نہ ہوئی
33
شب امید کٹ گئی لیکن
زندگی اپنی مختصر نہ ہوئی
44
دور سے آج ان کو دیکھ لیا
دل کو تسکیں ہوئی مگر نہ ہوئی
55
آنکھوں آنکھوں میں لے لیا وعدہ
کانوں کان ایک کو خبر نہ ہوئی
66
اف ری چشم عتاب اف رے جلال
برق سوزاں ہوئی نظر نہ ہوئی
77
فکر انجام و حسرت آغاز
دو گھڑی چین سے بسر نہ ہوئی
88
کھلنے والا نہیں در توبہ
فکر انجام وقت پر نہ ہوئی
99
ایسا رونا بھی کوئی رونا ہے
آستین آنسوؤں سے تر نہ ہوئی
1010
ہٹ کے بالیں سے لوگ روتے ہیں
جیسے بیمار کو خبر نہ ہوئی
1111
لٹ گیا سارا کارواں عدم
ایک کو ایک کی خبر نہ ہوئی
1212
نیم جاں چھوڑ کر چلا قاتل
نگہ یاسؔ کارگر نہ ہوئی
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

