اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے
Toggle stanza 1اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے
11
اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے
نسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کے
22
شریک حال نہیں ہے کوئی تو کیا پروا
دلیل راہ محبت ہیں ولولے دل کے
33
عجب نہیں کہ بپا ہو یہیں سے فتنۂ حشر
زمانے بھر میں ہیں سارے فساد اسی دل کے
44
نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس
بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے
55
خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں رکھتے
جب آئے قافلے والے قریب منزل کے
66
نظارۂ رخ لیلیٰ مبارک اے مجنوں
نگاہ شوق نے پردے اٹھائے محمل کے
77
مشاہدے کو اک آئینۂ جمال دیا
کمال عشق نے جوہر دکھا دئے دل کے
88
زبان یاسؔ سے افسانۂ سحر سنیے
وہ رونا شمع کا پروانوں سے گلے مل کے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

