اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے

Toggle stanza 1
اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے
1

اداسی چھا گئی چہرے پہ شمع محفل کے

نسیم صبح سے شعلے بھڑک اٹھے دل کے

2

شریک حال نہیں ہے کوئی تو کیا پروا

دلیل راہ محبت ہیں ولولے دل کے

3

عجب نہیں کہ بپا ہو یہیں سے فتنۂ حشر

زمانے بھر میں ہیں سارے فساد اسی دل کے

4

نہ سنگ میل نہ نقش قدم نہ بانگ جرس

بھٹک نہ جائیں مسافر عدم کی منزل کے

5

خوشی کے مارے زمیں پر قدم نہیں رکھتے

جب آئے قافلے والے قریب منزل کے

6

نظارۂ رخ لیلیٰ مبارک اے مجنوں

نگاہ شوق نے پردے اٹھائے محمل کے

7

مشاہدے کو اک آئینۂ جمال دیا

کمال عشق نے جوہر دکھا دئے دل کے

8

زبان یاسؔ سے افسانۂ سحر سنیے

وہ رونا شمع کا پروانوں سے گلے مل کے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…