کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

Toggle stanza 1
کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے
1

کارگاہ دنیا کی نیستی بھی ہستی ہے

اک طرف اجڑتی ہے ایک سمت بستی ہے

2

بے دلوں کی ہستی کیا جیتے ہیں نہ مرتے ہیں

خواب ہے نہ بیداری ہوش ہے نہ مستی ہے

3

کیا بتاؤں کیا ہوں میں قدرت خدا ہوں میں

میری خود پرستی بھی عین حق پرستی ہے

4

کیمیائے دل کیا ہے خاک ہے مگر کیسی

لیجئے تو مہنگی ہے بیچئے تو سستی ہے

5

خضر منزل اپنا ہوں اپنی راہ چلتا ہوں

میرے حال پر دنیا کیا سمجھ کے ہنستی ہے

6

کیا کہوں سفر اپنا ختم کیوں نہیں ہوتا

فکر کی بلندی یا حوصلے کی پستی ہے

7

حسن بے تماشا کی دھوم کیا معما ہے

کان بھی ہیں نامحرم آنکھ بھی ترستی ہے

8

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا

چال سے تو کافر پر سادگی برستی ہے

9

ترک لذت دنیا کیجئے تو کس دل سے

ذوق پارسائی کیا فیض تنگ دستی ہے

10

دیدنی ہے یاسؔ اپنے رنج و غم کی طغیانی

جھوم جھوم کر کیا کیا یہ گھٹا برستی ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…