چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
Toggle stanza 1چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
چشم قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے
موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے
میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے
یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے
کشتۂ زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی وش
بید مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے
خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا
ہو صفا اور دل اہل صفا یاد رہے
ہو یہ لبیک حرم یا یہ اذان مسجد
مے کشو قلقل مینا کی صدا یاد رہے
یاد اس وعدہ فراموش نے غیروں سے بدی
یاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے
خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذ
دیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے
دو ورق میں کف حسرت کے دو عالم کا ہے علم
سبق عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے
قتل عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نے
پر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے
طائر قبلہ نما بن کے کہا دل نے مجھے
کہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے گا جا یاد رہے
جب یہ دیں دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتے
کاش اس وقت انہیں نام خدا یاد رہے
ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یاد
بھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے
محو اتنا بھی نہ ہو عشق بتاں میں اے ذوقؔ
چاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

