خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
Toggle stanza 1خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
11
خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے
22
بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جی
اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے
33
بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے تو
ہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے
44
تجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روز
چاہتے ہیں اور شر اے شوخ آتش خو بڑھے
55
کچھ تپ غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیب
روز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے
66
پیشوائی کو غم جاناں کی چشم دل سے ذوقؔ
جب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

