خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے

Toggle stanza 1
خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے
1

خط بڑھا کاکل بڑھے زلفیں بڑھیں گیسو بڑھے

حسن کی سرکار میں جتنے بڑھے ہندو بڑھے

2

بعد رنجش کے گلے ملتے ہوئے رکتا ہے جی

اب مناسب ہے یہی کچھ میں بڑھوں کچھ تو بڑھے

3

بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی وحشت وگرنہ پہلے تو

ہاتھ کے ناخن بڑھے سر کے ہمارے مو بڑھے

4

تجھ کو دشمن واں شرارت سے جو بھڑکاتے ہے روز

چاہتے ہیں اور شر اے شوخ آتش خو بڑھے

5

کچھ تپ غم کو گھٹا کیا فائدہ اس سے طبیب

روز نسخے میں اگر خرفہ گھٹے کاہو بڑھے

6

پیشوائی کو غم جاناں کی چشم دل سے ذوقؔ

جب بڑھے نالہ تو اس سے بیشتر آنسو بڑھے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…