غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
Toggle stanza 1غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
11
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے
22
پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیب
صبح بہار گل پہ شب تار کر چلے
33
اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہ
تسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے
44
آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقاب
پروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے
55
آزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سے
اس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے
66
اٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کے
پہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے
77
لو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تم
دو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے
88
اندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھر
ہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے
99
سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہ
چاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے
1010
پیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچ
انصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

