عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
Toggle stanza 1عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
11
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
22
قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں
کیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں
33
اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرا
برحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں
44
کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری آنکھیاں
کچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں
55
کشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہد
جنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں
66
اس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلنا
کچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں
77
اس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھے
تجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں
88
سوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کا
دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

