عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

Toggle stanza 1
عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں
1

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

2

قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیں

کیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں

3

اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرا

برحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں

4

کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری آنکھیاں

کچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں

5

کشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہد

جنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں

6

اس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلنا

کچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں

7

اس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھے

تجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں

8

سوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کا

دو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…