جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
Poet: Mir Babar Ali Anis
Metre: مفعول فاعلاتُ مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)
Poetic form: Six-line Musammat
Toggle stanza 1جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے
مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو
Toggle stanza 2ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا
ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا
یاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا
پرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کا
گذری شبِ فراق دن آیا وصال کا
ہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے
راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے
Toggle stanza 3یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام
یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام
یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام
کوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام
لکھے خدا نماز گزاروں میں سب کے نام
سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے
دنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے
Toggle stanza 4یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس
یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس
اک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس
شانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس
باندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس
رنگیں عبائیں دوش پہ کمریں کسے ہوے
مشک و زباد و عطر میں کپڑے بسے ہوئے
Toggle stanza 5سوکھے لبوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور
سوکھے لبوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور
خوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور
فیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور
خوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور
کانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے
باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے
Toggle stanza 6ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر
ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر
عالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہ
گرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیر
فاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہ
دنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیں
دریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں
Toggle stanza 7تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب
تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب
نکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخاب
گویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک باب
سوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیاب
لہجوں پہ شاعران عرب تھے مرے ہوئے
پستے لبوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے
Toggle stanza 8لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو
لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو
پیدا تنوں سے پیرہن یوسفی کی بو
غلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزو
پرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خو
پتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیں
روں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں
Toggle stanza 9پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب
پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب
پر تھی رخوں پہ خاکِ تیمم سے طرفہ آب
باریک ابر میں نظر آتے تھے آفتاب
ہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوتراب
مہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئی
مٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی
Toggle stanza 10خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال
خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال
جن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال
قاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمال
اک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہال
سب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا
اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا
Toggle stanza 11ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک
ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک
شرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک
وہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک
ہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک
ہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھے
پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے
Toggle stanza 12قرباں صنعتِ قلم آفریدگار
قرباں صنعتِ قلم آفریدگار
تھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکار
عاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعار
ان صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کار
عالم تھا محو قدرت رب عباد پر
مینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر
Toggle stanza 13وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا
وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا
دراج و کیک و تیہود طاؤس کی صدا
وہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا
سردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہوا
پھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے
تھالے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے
Toggle stanza 14وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
پھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبدار
اٹھتا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا باربار
بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار
خواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کے
شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے
Toggle stanza 15وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم
وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم
کو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم
سبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم
جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم
کچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمد
ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد
Toggle stanza 16چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار
یا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکار
تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار
طائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میں
جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں
Toggle stanza 17کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول
کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول
خوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طول
دنیا کی زیب و زینتِ کاشانۂ بتول
وہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسول
ماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیا
وہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا
Toggle stanza 18اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار
اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار
پھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذار
دولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہار
جاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمار
راہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیں
جب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں
Toggle stanza 19وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان
وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان
گویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان
بے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبان
بیت العتیق دین کا مدینہ جہاں کی جان
اللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھے
سب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے
Toggle stanza 20گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں
گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں
کہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیں
پردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میں
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں
دیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پر
کیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر
Toggle stanza 21ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں
ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں
تشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں
سجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاں
تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں
دیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاں
ہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی
گویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی
Toggle stanza 22چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر
چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر
تسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمر
محوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دور
پانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور
اعجاز تھا کہ دلبِ شبیر کی صدا
ہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا
Toggle stanza 23ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار
ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار
چپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدار
زینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بار
صدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثار
کرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کی
لوگوں اذاں سنو مرے یوسف جمال کی
Toggle stanza 24یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد
یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد
حقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جد
گویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خرد
یارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابد
شعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میں
بلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں
Toggle stanza 25میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے
میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے
عین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائے
وہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائے
دو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائے
غربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پر
فاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر
Toggle stanza 26صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ
صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ
قائم ہوئی نماز اٹھے شاہِ کائنات
وہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات
قدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجات
جلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کا
مصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا
Toggle stanza 27اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار
اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار
اٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمار
پر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسار
پیرہ امام پاک کے داتائے رونار
تسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہے
جس پر درود پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے
Toggle stanza 28دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود
دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود
ان کے لیے تھی بندگی واجب الوجود
وہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجود
طاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بود
طاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میں
گر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں
Toggle stanza 29ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا
ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا
خود ہوگئے فلک پہ اجابت کے باب وا
تھرائے آسماں بلا عرش کبریا
شہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعا
وہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پر
روح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر
Toggle stanza 30فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام
فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام
آئے مصافحے کو جوانان تشنہ کام
چومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عام
آنکھیں ملیں قدم پہ کسی نے با حترام
کیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھی
باہم معانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی
Toggle stanza 31بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر
بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر
ناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیر
دیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریر
عباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیر
پروانہ تھے سراج امامت کے نور پر
روکی سپر حضور کرامت ظہور پر
Toggle stanza 32اکبر سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں
اکبر سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں
تم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاں
باندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراں
بچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاں
غفلت میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہو
ڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو
Toggle stanza 33کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر
کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر
فضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیر
ہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گوشہ گیر
اصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیر
گرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیں
بچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں
Toggle stanza 34باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش
باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش
گرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطش
رو رو کے سو گئے ہیں صغیران ماہ وش
بچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کش
یہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیں
ٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں
Toggle stanza 35اٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار
اٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار
ڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یار
فرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزار
کمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہوار
دیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہو
امت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو
Toggle stanza 36فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر
فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر
ہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھر
جوشن پہن کے حضرتِ عباس نامور
دروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نر
پرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پر
تلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر
Toggle stanza 37شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر
شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر
کلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پر
دستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھر
وہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذر
جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہو
پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو
Toggle stanza 38خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سروں کے بال
زینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال
بچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال
بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے
Toggle stanza 39آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربلا
آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربلا
بے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفا
غربت میں ٹھن گئی جو لڑائی تو ہوگا کیا
ان ننھے ننھے بچوں پہ کر رحم اے خدا
فاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیں
یارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں
Toggle stanza 40سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار
سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار
گھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگار
اماں کے بعد روئی حسن کو میں سوگار
دنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگار
تو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہے
کچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ
Toggle stanza 41بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب
بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب
مضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب
مغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب
خود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صواب
موقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کا
لاؤ تبرکات رسالت پناہ کا
Toggle stanza 42معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس
معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس
کشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاس
سر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناس
پہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساس
بر میں درست و چست تھا جامہ رسول کا
رومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا
Toggle stanza 43شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار
شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار
ثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چار
بل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تار
جس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثار
مشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیں
سنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں
Toggle stanza 44کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو
کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو
دولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بی
حیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بو
پھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بو
لٹتا تھا عطر وادیِ عنبر سرشت میں
گل جھومتے تھے باغ میں رضواں بہشت میں
Toggle stanza 45پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن
پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن
لیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہن
چلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسن
اماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطن
رخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کی
صدقے گئی بلائیں تو لو اپنے لال کی
Toggle stanza 46صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے
صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے
پیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نے
پہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نے
بازو پہ جوشنین پڑھے عزو جاہ نے
جوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئے
حلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے
Toggle stanza 47یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار
یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار
قبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زار
تولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار
شوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار
فتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو
زیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو
Toggle stanza 48باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے
باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے
پھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے
دستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے
معراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے
رتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی
ساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی
Toggle stanza 49ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام
ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام
تیار ادھر ہوا علم سید انام
کھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمام
روتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امام
تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے
زینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے
Toggle stanza 50گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار
گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار
مرفق تک آستینوں کو الٹے بصد وقار
جعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگار
بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار
آنکھیں ملیں علم کے پھریرے کو چوم کے
رایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے
Toggle stanza 51گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم
گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم
نعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ امم
کرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم
آہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم
کیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا
اماں کسے ملے گا علم نانا جان کا
Toggle stanza 52کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال
کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال
ہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیال
پاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجال
اس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملال
آقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیں
عزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں
Toggle stanza 53بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں
بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں
لیکن ہمارے جد کو نبی نے دیا نشاں
خیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراں
پایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاں
طاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیں
پوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں
Toggle stanza 54زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام
زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام
کیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امام
دیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلام
بگڑوں گی میں جو لوگے علم کا زباں سے نام
لو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کے
کیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے
Toggle stanza 55سرکو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس
سرکو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس
ایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساس
کھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواس
بس قابل قبول نہیں ہے یہ التماس
رونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوں
اس ضد کو بچپنے کے سوا اور کیا کہوں
Toggle stanza 56عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل
عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل
اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل
ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل
ہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیل
لازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرے
جو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے
Toggle stanza 57ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم
ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم
چھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کم
نکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدم
عہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشم
رخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہے
ماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے
Toggle stanza 58پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار
پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار
زیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخار
جوہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکار
دکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزار
تم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیں
فوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں
Toggle stanza 59کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام
کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام
یہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقام
بگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کام
جب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شام
بے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیے
ہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے
Toggle stanza 60لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب
لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب
بخشا علم رسول خدا نے علی کو تب
مرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر رب
دربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سب
اکھڑا وہ یوں گراں تھا جو در سنگِ سخت سے
جس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے
Toggle stanza 61نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال
نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال
اماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمال
پوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بال
میں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیال
غم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کے
معلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے
Toggle stanza 62ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام
ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام
غصے کو آپ تھام لیں اے خواہر امام
واللہ کیا مجال جو اب لیں علم کا نام
کھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلام
فوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گے
تب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے
Toggle stanza 63یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر
یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر
چھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگر
دیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبر
ٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گر
کیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگی
بچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی
Toggle stanza 64زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن
زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن
کیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہن
شیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکن
زینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدن
یوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیں
تیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں
Toggle stanza 65نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے
نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے
بچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلے
اقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملے
کس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلے
بے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیں
پر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں
Toggle stanza 66اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم
اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم
کی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشم
فرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرم
اس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہم
مالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہو
جس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو
Toggle stanza 67بولیں بہن کہ آپ بھی تولیں کسی کا نام
بولیں بہن کہ آپ بھی تولیں کسی کا نام
ہے کس طرف توجہ سردار خاص و عام
گر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقام
قرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلام
شوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیں
عباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں
Toggle stanza 68عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار
عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار
فرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعار
جرار یادگارِ پدر فخر روزگار
راحت رساں مطیع نمودار نام دار
صفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہے
بے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے
Toggle stanza 69آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ زمن
آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ زمن
ہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہن
اچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکن
اکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخن
کی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کو
چلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو
Toggle stanza 70عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ
عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ
جاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہ
زینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہ
بولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہ
ان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہے
لو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے
Toggle stanza 71رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار
رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار
ہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخار
زینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثار
عباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیار
ہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلو
ان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو
Toggle stanza 72کی عرض میرے جسم پہ جسم وقت تک ہے سر
کی عرض میرے جسم پہ جسم وقت تک ہے سر
ممکن نہیں ہے یہ کہ بڑھے فوج بد گہر
تیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپر
دیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگر
ساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کے
گر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے
Toggle stanza 73منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب
منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب
ذرے کو آج کردیا مولا نے آفتاب
یہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوتراب
آقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیاب
سر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرے
شبیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے
Toggle stanza 74یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور
یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور
شوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر
لیں سبط مصطفیٰ کی بلائیں بچشمِ تر
زینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر
فیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا
عزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا
Toggle stanza 75سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا
سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا
تو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سدا
کی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فدا
بانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدا
بچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہو
سائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو
Toggle stanza 76قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جائے
قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جائے
یہ شہر میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئے
ام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائے
جلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائے
مہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں
لاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں
Toggle stanza 77ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا
ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا
کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچا
عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا
لوگو مجھے بلائیں تو لینے دو اک ذرا
شوکت خدا بڑھائے مرے عمو جان کی
میں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی
Toggle stanza 78عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ
عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ
عمو نثار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤ
بولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤ
اب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤ
تحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیے
قربان جاؤں پانی کا جام دیجیے
Toggle stanza 79فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام
فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام
باتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمام
کی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امام
انبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شام
عباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیں
ٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں
Toggle stanza 80ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا
ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا
دوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پا
حضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہا
لو الوداع اے حرم پاک مصطفی
صبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لو
سب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو
Toggle stanza 81شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری
شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری
بانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گری
کلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گری
باقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گری
اجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیا
نکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا
Toggle stanza 82دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ
دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ
آگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہ
نکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہ
نشتر بلند تھی بنت علی کی فغا و آہ
رہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سے
شبنم ٹپک رہی تھی گل آفتاب سے
Toggle stanza 83مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے
مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے
ترکش لگایا ہرنے پہ کس آن بان سے
نکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سے
اترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سے
سارا چلن خرام میں کبک روی کا ہے
گھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے
Toggle stanza 84غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے
غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے
جوبن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیے
سانچے میں جوڑ بند کے ڈھلنے کو دیکھیے
تھم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیے
گردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے
بالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے
Toggle stanza 85تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا
تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا
جوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھا
گھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھا
رایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھا
پھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئی
بستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی
Toggle stanza 86پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر
پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر
اس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پر
زر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر
دولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گر
تھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کے
الجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے
Toggle stanza 87اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں
اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں
جھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاں
کمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواں
دنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاں
ایک ایک دودماں علی کا چراغ تھا
جس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا
Toggle stanza 88لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار
لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار
گیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چار
حیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکار
کھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکار
نیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئے
آئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے
Toggle stanza 89غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام
غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام
دنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقام
دیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امام
ہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتام
رایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہے
اب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے
Toggle stanza 90دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں
دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں
ہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاں
کیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماں
پیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواں
سب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہے
محبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے
Toggle stanza 91ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام
ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں
نکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کام
بے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شام
بالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھی
ایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی
Toggle stanza 92نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں
نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں
نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں
روباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیں
کھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیں
بجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کے
کیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے
Toggle stanza 93اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار
اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار
دونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار
شانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دار
گنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار
اتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میں
دونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں
Toggle stanza 94وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں
وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں
آفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں
ڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاں
فوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں
شوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کی
طاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی
Toggle stanza 95کس حسن سے حسن کا جوانِ حسیں لڑا
کس حسن سے حسن کا جوانِ حسیں لڑا
گھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑا
وہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑا
سہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑا
حملے دکھادیے اسدِ کردگار کے
مقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے
Toggle stanza 96چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ
چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ
روح الامیں پکارکے اللہ کی پناہ
ڈھالوں میں چھپ گیا پسرِ سعد روسیاہ
کشتوں سے بند ہو گی امن و اماں کی راہ
چھٹا جو شیر شوق میں دریا کی سیر کے
لے لی ترائی تیغوں کی موجوں میں تیر کے
Toggle stanza 97بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات
بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات
ہل چل میں مثلِ موج صفوں کو نہ تھا ثبات
دریا میں گر کے فوت ہوئے کتنے بد صفات
گویا حباب ہو گئے تھے نقطۂ نبات
عباس بھر کے مشک کو یاں تشنہ لب لڑے
جس طرح نہر واں میں امیرِ عرب لڑے
Toggle stanza 98آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر
آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر
غصے میں جھپٹے صید پہ جیسے گرسنہ شیر
سب سر بلند پست زبردست سب تھے زیر
جنگل میں چار سمت ہوئے زخمیوں کے دھیر
سر ان کے اترے تن سے جو تھے رن چڑھے ہوئے
عباس سے بھی جنگ میں کچھ تھے بڑھے ہوئے
Toggle stanza 99تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک
تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک
ہلتی رہی زمین لرزتے رہے فلک
کانپا کیے پروں کو سمیٹے ہوئے ملک
نعرے نہ پھیر وہ تھے نہ وہ تیغوں کی تھی چمک
ڈھالوں کا دور برچھیوں کا اوج ہوگیا
ہنگامِ ظہر خاتمہ فوج ہوگیا
Toggle stanza 100لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے
لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے
قاتل کسی شہید کا سر کاٹنے نہ پائے
دشمن کو بھی نہ دوست کی فرقت خدا دکھائے
فرماتے تھے بچھڑ گئے سب ہم سے ہائے ہائے
اتنے پہاڑ گر پڑیں جس پر وہ خم نہ ہو
گر سو برس جیوں تو یہ مجمع بہم نہ ہو
Toggle stanza 101لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام
لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام
ڈوبی ہوئی تھی خوں میں نبی کی قبا تمام
افسردہ و حزیں و پریشان و تشنہ کام
برچھی تھی دل کو فتح کے باجوں کی دھوم دھام
اعدا کسی شہید کا جب نام لیتے تھے
تھرا کے دونوں ہاتھوں سے دل تھام لیتے تھے
Toggle stanza 102پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ
پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ
اک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغ
فرصت نہ اب بکا سے ہے فراغ
جو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغ
پڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پر
چادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر
Toggle stanza 103مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین
مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین
پر شدتِ عطش سے نہ تھی طاقتِ سخن
پردے پہ ہاتھ رکھ کے پکارے بصد محن
اصغر کو گاہوارے سے لے آئے اے بہن
پھر ایک بار اس مہ انور کو دیکھ لیں
اکبر کے شیرخوار برادر کو دیکھ لیں
Toggle stanza 104خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر
خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر
اصغر کو لائیں ہاتھوں پہ بانئے نوحہ گر
بچے کو لے کے بیٹھ گئے آپ خاک پر
منہ سے ملے جو ہونٹ تو چونکا وہ سیم بر
غم کی چھری چلی جگرِ چاک چاک پر
بٹھلا لیا حسین نے زانوئے پاک پر
Toggle stanza 105بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر
بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر
تھا اس طرف کمیں میں بن کا بل شریر
مارا جو تین بھال کا اس بے حیا نے تیر
بس دفعتاً نشانہ ہوئی گردنِ صغیر
تڑپا جو شیرخوار تو حضرت نے آہ کی
معصوم ذبح ہو گیا گودی میں شاہ کی
Toggle stanza 106جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار
جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار
چھوٹی سی قبر تیغ سے کھودی بحالِ زار
بچے کو دفن کرکے پکارا وہ ذی وقار
اے خاکِ پاک حرمتِ مہماں نگاہ دار
دامن میں رکھ اسے جو محبت علی کی ہے
دولت ہے فاطمہ کی امانت علی کی ہے
Toggle stanza 107یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام
یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام
آنکھیں لہو تھیں رونے سے چہرہ تھا سرخ فام
زیبِ بدن گئے تھے بصد عزو احتشام
پیراہنِ مطہر پیغمبر انام
حمزہ کی ڈھال تیغِ شۂ لافتا کی تھی
بر میں زرہ جناب رسول خدا کی تھی
Toggle stanza 108رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار
رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار
جرار بردبار سبک رو وفا شعار
کیا خوشنما تھا زیں طلا کار و نقرہ کار
اکسیر تھا قدم کا جسے مل گیا غبار
خوش خو تھا خانہ زاد تھا دلدل نژاد تھا
شبیر بھی سخی تھے فرس بھی جواد تھا
Toggle stanza 109گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں
گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں
ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں
وہ لوں کہ الحذر وہ حرارت کہ الاماں
رن کی زمیں تو سرخ تھی اور زرد آسماں
آبِ خنک کی خلق ترستی تھی خاک پر
گویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر
Toggle stanza 110وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب
وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب
کالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شب
خود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لب
خیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب
اڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کا
کھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا
Toggle stanza 111جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام
جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام
مسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقام
آہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فام
پتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خام
سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے
پانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے
Toggle stanza 112کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار
کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار
ایک ایک نخل جل رہا تھا صورتِ چنار
ہنستا تھا کوئی گل نہ مہکتا تھا سبزہ زار
کانٹا ہوئی تھی پھول کی ہر شاخ باردار
گرمی یہ تھی کی زیست سے دل سب کے سرد تھے
پتے بھی مثل چہرۂ مدقوق زرد تھے
Toggle stanza 113آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور
آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور
جنگل میں چھپتے پھرتے طائر ادھر ادھر
مردم تھی سات پروں کے اندر عرق میں تر
خسخانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر
گر چشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں
پڑ جائیں لاکھوں آبلے پائے نگاہ میں
Toggle stanza 114شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے
شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے
آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے
آئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سے
گردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے
گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر
بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر
Toggle stanza 115گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں
گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں
انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں
منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں
تہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی لبوں پہ جاں
پانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی
ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی
Toggle stanza 116آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب
آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب
چھپنے کو برق چاہتی تھی دامنِ سحاب
سب سے ہوا تھا گرم مزاجوں کو اضطراب
کافورِ صبح ڈھونڈھتا پھرتا تھا آفتاب
بھڑکی تھی آگ گنبد چرخِ اثیر میں
بادل چھپے تھے سب کرہ زمہریر میں
Toggle stanza 117اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم
اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم
نے دامن رسول تھا نے سایۂ علم
شعلے جگر سے آہ کے اٹھتے تھے دمبدم
اودے تھے لب زبان میں کانٹے کمر میں خم
بے آب تیسرا تھا جو دن میہمان کو
ہوتی تھی بات بات میں لکنت زبان کو
Toggle stanza 118گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطار
پیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار
سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار
پانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھا
اک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا
Toggle stanza 119سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر
سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر
خادم کئی تھے مروحہ جنباں ادھر ادھر
کرتے تھے آب پاش مکرر زمیں کو تر
فرزندِ فاطمہ پہ نہ تھا سایۂ شجر
وہ دھوپ دشت کی وہ جلال آفتاب کا
سونلا گیا تھا رنگ مبارک جناب کا
Toggle stanza 120کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب
کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب
بیعت جو کیجیے اب بھی تو حاضر ہے جامِ آب
فرماتے تھے حسین کہ او خانماں خراب
دریا کو خاک جانتا ہے ابنِ بوتراب
فاسق ہے پاس کچھ تجھے اسلام کا نہیں
آبِ بقا ہو یہ تو مرے کام کا نہیں
Toggle stanza 121کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل
کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل
چاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیل
کیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیل
بے آبرو خسیس ستمگر دنی بخیل
جس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دے
کھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے
Toggle stanza 122گر جم کا نام لوں تو ابھی جام لے کے آئے
گر جم کا نام لوں تو ابھی جام لے کے آئے
کوثر یہیں رسول کا احکام لے کے آئے
روح الامیں زمیں پہ مرا نام لے کے آئے
لشکر ملک کا فتح کا پیغام لے کے آئے
چاہوں جو انقلاب تو دنیا تمام ہو
الٹے زمین یوں کہ نہ کوفہ نہ شام ہو
Toggle stanza 123فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار
فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار
تھرا کے پچھلے پانوں ہٹا وہ ستم شعار
مظلوم پر صفوں سے چلے تیر بے شمار
آواز کوسِ حرب ہوئی آسماں کے پار
نیزے اٹھا کے جنگ پہ اسوار تل گئے
کالے نشان فوجِ سیہ رو کے کھل گئے
Toggle stanza 124وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش
وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش
کر ہو گئے تھے شور سے کروبیوں کے گوش
تھرائی یوں زمیں کہ اڑے آسماں کے ہوش
نیزے سے بلا کے نکلے سواران درع پوش
ڈھالیں تھیں یوں سروں پہ سواران شوم کے
صحرا میں جیسے آئے گھٹا جھوم جھوم کے
Toggle stanza 125لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے
لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے
گیتی کے تھام لینے کو روح الامیں بڑھے
مانندِ شیرِ نہ کہیں ٹھہرے کہیں بڑھے
گویا علی الٹے ہوئے آستیں بڑھے
جلوہ دیا جری نے عروسِ مصاف کو
مشکل کشا کی تیغ نے چھوڑا غلاف کو
Toggle stanza 126کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا
کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا
جیسے کنارِ شوق سے ہو خوب رو جدا
مہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جدا
سینے سے دم جدا رگِ جاں سے لہو جدا
گرجا جو رعد ابر سے بجلی نکل پڑی
محمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی
Toggle stanza 127آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح
آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح
آہو پہ شیرِ شرزہ غاب آئے جس طرح
تابندہ برق سوئے سحاب آئے جس طرح
دوڑا فرس نشیب میں آب آئے جس طرح
یوں تیغِ تیز کوند گئی اس گروہ پر
بجلی تڑپ کے گرتی ہے جس طرح کوہ پر
Toggle stanza 128گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے
گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے
جھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑے
پرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑے
روح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑے
ظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئے
جن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے
Toggle stanza 129جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے
جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے
کھینچتے ہی چار ٹکڑے دوبارا کیا کیا
واں تھی جدھر اجل نے اشارا کیا اسے
سختی بھی کچھ پڑی تو گوارا کیا اسے
نے زین تھا فرس پہ نہ اسوار زین پر
کڑیاں زرہ کی بکھری ہوئی تھیں زمین پر
Toggle stanza 130آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی
آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی
دم میں جمی صفوں کو برابر گرا گئی
ایک ایک فقر تن کو زمین پر گرا گئی
سیل آئی زور شور سے جب گھر گرا گئی
آپہونچا اس کے گھاٹ پہ جو مر کے رہ گیا
دریا لہو کا تیغ کے پانی سے بہ گیا
Toggle stanza 131یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں
یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں
پانی میں آگ آگ میں پانی خدا کی شاں
خاموش اور تیز زبانی خدا کی شاں
استادہ آب میں یہ روانی خدا کی شاں
لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا
لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا
نیزوں تھا ذوالفقار کا پانی چڑھا ہوا
Toggle stanza 132قلب و جناح میمنہ و میسرا تباہ
قلب و جناح میمنہ و میسرا تباہ
گردن کشانِ امت خیر الور تباہ
جنباں زمیں صفیں تہ و بالا پرا تباہ
بے جان جسم روحِ مسافر سرا تباہ
بازار بند ہو گئے اکھڑ گئے
فوجیں ہوئی تباہ محلے اجڑ گئے
Toggle stanza 133اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی
اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی
چمکی سوار پر تو خبر لائی تنگ کی
پیاسی فقط لہو کی طلب گار جنگ کی
حاجت نہ سان کی تھی اسے اور نہ سنگ کی
خوں سے فلک کو لاشوں سے مقتل کو بھرتی تھی
سو بار روم میں چرخ پہ چڑھتی اترتی تھی
Toggle stanza 134تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے
تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے
گھر جس خود اجڑ گیا بستی سے کیا اسے
وہ حق نما تھی کفر پرستی سے کیا اسے
جو آپ سر بلند ہو پستی سے کیا اسے
کہتے ہیں راستی جسے وہ خم کے ساتھ ہے
تیزی زبان کے ساتھ برش دم کے ساتھ
Toggle stanza 135سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہو ہوا
سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہو ہوا
گویا جگر میں موت کا ناخن فرو ہوا
چمکی تو الامان کا غل چار سو ہوا
جو اس کے منہ پہ آگیا بے آبرو ہوا
رکتا تھا ایک وار نہ دس سے نہ پانچ سے
چہرے سیاہ ہو گئے تھے اس کی آنچ سے
Toggle stanza 136بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی
بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی
چمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلی
دونوں طرف کی فوج پکاری کہاں چلی
اس نے کہا یہاں وہ پکارا وہاں چلی
منہ کس طرف ہے تیغ زنوں کو خبر نہ تھی
سر گر رہے تھے اور تنوں کو خبر نہ تھی
Toggle stanza 137دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ
دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ
گردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھ
توڑا کبھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھ
جب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھ
اب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کو
ہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو
Toggle stanza 138اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا
اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا
زہرہ تھا آب خوف کے مارے فرات کا
دریا پہ حال یہ تھا ہر اک بد صفات کا
چارہ فرار کا تھا نہ یارا ثبات کا
غل تھا کہ برق گرتی ہے ہر درع پوش پر
بھاگو خدا کے قہر کا دریا ہے جوش پر
Toggle stanza 139ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر
ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر
منہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھر
بھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپر
تھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگر
دریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کے
لیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے
Toggle stanza 140آیا خدا کا قہر جدھر سن سے آگئی
آیا خدا کا قہر جدھر سن سے آگئی
کانوں میں الاماں کی صدا رن سے آگئی
دو کرکے خود زین پہ جوشن سے آگئی
کھنچتی ہوئی زمین پہ توسن سے آگئی
بجلی گری جو خاک پہ تیغِ جناب کی
آی صدا زمین سے یا بوتراب کی
Toggle stanza 141پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے
پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے
چلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئے
گوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئے
مقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئے
دہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کے
سوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے
Toggle stanza 142تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور
تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور
گوشہ کہیں نہ ملتا تھا ان کو سوائے گور
تاریک شب میں جن کا نشانہ تھا پائے مور
لشکر میں خوف جاں نے انہیں کردیا تھا کور
ہوش اڑ گئے تھے فوجِ ضلالت نشاں کے
پیکاں میں زہ کو رکھتے تھے سوفار جاں کے
Toggle stanza 143صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے
صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے
اسوار پر سوار فرس پر فرس گرے
اٹھ کر زمیں سے پانچ جو بھاگے تو دس گرے
مخبر پہ پیک پیک پر مر کر گرے
ٹوٹے پر شکست بنائے ستم ہوئی
دنیا میں اس طرح کی بھی افتاد کم ہوئی
Toggle stanza 144غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا
غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا
چھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلا
تیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلا
خالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلا
بستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھے
لاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے
Toggle stanza 145غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے
غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے
تھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلے
چلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلے
چھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلے
اس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھا
سہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا
Toggle stanza 146چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
رہ رہ کے ابرِشام سے تھی بارشِ خدنگ
وہ شور و صیحہ ابلق و سرنگ
وہ لوں وہ آفتاب کی تابندگی وہ جنگ
پھنکتا تھا دشتِ کیں کوئی دل تھا نہ چین سے
اس دن کی تاب و تب کوی پوچھے حسین سے
Toggle stanza 147سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر
سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر
بازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہر
پیاسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگر
مشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شر
کیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کو
پیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو
Toggle stanza 148گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر
گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر
اف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپر
آنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظر
جھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھر
کثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پر
موتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر
Toggle stanza 149سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے
سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے
چلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سے
چمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سے
رکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سے
خالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کا
خود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا
Toggle stanza 150سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر
سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر
پیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھر
مردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈر
گوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سر
ترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھا
سیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا
Toggle stanza 151گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی
گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی
سوسو صفیں کچل گئیں جب جست و خیز کی
لاکھوں میں تھی نہ ایک کو طاقت ستیز کی
تھی چار سمت دھوم گریزا گریز کی
آری جو ہو گئی تھیں وہ سب ذوالفقار سے
تیغوں نے منہ پھرا لیے تھے کارزار سے
Toggle stanza 152گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد
گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد
گردوں میں مثل شیشہ ساعت بھری تھی گرد
تودا بنا تھا خاک کا مینائے لاجورد
کوسوں سیاہ تار تھا شب وادی نبرد
پنہاں نظر سے نیرگیتی فروز تھا
ڈھلتی تھی دوپہر کہ نہ شب تھا نہ روز تھا
Toggle stanza 153اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی
اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی
سونلائے رنگ میں تھی ضیا آفتاب کی
سوکھے وہ لب کہ پنکھڑیاں تھیں گلاب کی
تصویر ذو الجناح پہ تھی بو تراب کی
ہوتا تھا غل جو کرتے تھے نعرے لڑائی میں
بھاگو کہ شیر گونج رہا ہے ترائی میں
Toggle stanza 154پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی
پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی
اللہ کا غضب تھا لڑائی حسین کی
دریا حسین کا ہے ترائی حسین کی
دنیا حسین کی ہے خدائی حسین کی
بیڑا بچایا آپ نے طوفاں سے نوح کا
اب رحم واسطہ ملے اکبر کی روح کا
Toggle stanza 155اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں
اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں
آنسو بھر آئے روک لی رہوار کی عناں
مڑکر پکارے لاش پسر گوشۂ زماں
تم نے نہ دیکھی جنگِ پدر اے پدر کی جاں
قسمیں تمہاری روح کی یہ لوگ دیتے ہیں
لو اب تو ذوالفقار کو ہم روک لیتے ہیں
Toggle stanza 156چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد
چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد
اے وا فضیحاتا یہ ہزیمت ظفر کے بعد
زیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلافِ وعد
اک پہلوان یہ سنتے ہی گرجا مثالِ رعد
نعرہ کیا کہ کرتا ہوں حملہ امام پر
اے ابنِ سعد لکھ لے ظفر میرے نام پر
Toggle stanza 157بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر
بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر
روئیں تن و سیاہ دروں، آہنی کمر
ناوک پیام مرگ کے ترکش اجل کا گھر
تیغیں ہزار ٹوٹ گئیں جس پہ وہ سپر
دل میں بدی طبیعتِ بد میں بگاڑ تھا
گھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا
Toggle stanza 158ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پیل
ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پیل
آنکھیں کبود رنگ سیہ ابرووں پہ بل
بدکار بد شعار ستمگار و پرد غل
جنگ آزما بھگائے ہوئے لشکروں کے دل
بھالے لیے کسے ہوئے کمریں ستیز پر
نازاں وہ ضرب گرز پہ یہ تیغ تیز پر
Toggle stanza 159کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے
کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے
دشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیے
تیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیے
فولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیے
نقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کا
پانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا
Toggle stanza 160لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی
لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی
ساونت بے حواس ہراسان دھنی بلی
ڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلی
غل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علی
کون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟
کس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟
Toggle stanza 161آواز دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں
آواز دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں
بسم اللہ اے امیر عرب کے سرور جاں
اٹھی علی کی تیغ دو دم چاٹ کر زباں
بیٹھے درست ہو کے فرس پہ شۂ زماں
واں سے وہ شور بخت بڑھا نعرہ مار کے
پانی بھر آیا منہ میں ادھر ذوالفقار کے
Toggle stanza 162لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے
لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے
وہ بد نظر تھا آنکھوں میں آنکھیں ادھر گڑائے
ڈھالیں لڑیں سپاہ کی یا ابر گڑگڑائے
غصے میں آئے گھوڑے نے کبھی دانت کڑکڑائے
ماری جو ٹاپ ڈر کے ہٹے ہر لعیں کے پاؤں
ماہی پہ ڈگمگائے گاوِ زمیں کے پاؤں
Toggle stanza 163نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند
نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند
مشکل کشا کے لال نے کھولے تمام بند
تیر و کماں سے بھی نہ وا جب وہ بہرہ مند
چلا ادھر کھنچا کہ چلی تیغ سربلند
وہ تیر کٹ گئے جو در آتے تھے سنگ میں
گوشے نہ تھے کماں میں منہ پیکاں خدنگ میں
Toggle stanza 164ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر
ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر
طاری ہوا غضب خلفِ بوتراب نے
مارا جو ہاتھ پاؤں جماکر رکاب پر
بجلی گری شقی کے سرِ پر عتاب پر
بد ہاتھ میں شکست ظفر نیک ہاتھ میں
ہاتھ اڑ کے جا پڑا کئی ہاتھ ایک ہاتھ میں
Toggle stanza 165کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار
کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار
پنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکار
واں اس نے بائیں ہاتھ میں لی تیغِ آبدار
یاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقار
قرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کے
دو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے
Toggle stanza 166پھر دوسرے پہ گرز اٹھا کر پکارے شاہ
پھر دوسرے پہ گرز اٹھا کر پکارے شاہ
کیوں ضرب ذوالفقار پہ تونے بھی کی نگاہ
سرشار تھا شرابِ تکبر سے رو سیاہ
جاتا کہاں کہ موت تو روکے ہوئے تھی راہ
غل تھا اسے اجل نے بڑھایا جو گھیر کے
لو دوسرا شکار چلا منہ میں شیر کے
Toggle stanza 167آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا
آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا
ثابت ہوا کہ شیرِ گرسنہ جھپٹ پڑا
تیغہ شقی نے ڈھال پہ مارا تو پٹ پڑا
ضربت پڑی کی گنبد دوار پھٹ پڑا
پیوندِ صدر زین جرو فرق ہوگیا
گھوڑا زمین میں سینے تلک غرق ہوگیا
Toggle stanza 168پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر
پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر
شیروں سے دشتِ گرگ سے بن اژدوں سے در
شاہیں و کبک چھپ گئے اک جا ملا کے سر
اڑ کر گرے جزیروں میں دریا کے جانور
سمٹے پہاڑ منہ کو جا دامن سے ڈھانپ کے
سیمرغ نے گرا دیے پر کانپ کانپ کے
Toggle stanza 169آئی صدائے غیب کہ شبیر مرحبا
آئی صدائے غیب کہ شبیر مرحبا
اس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبا
یہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا
دکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحبا
غالب کیا خدا نے تجھے کائنات پر
بس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر
Toggle stanza 170بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس
بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس
دم لے ہوا میں چند نفس اے حسین بس
گرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بس
وقتِ نمازِ عصر ہے بس اے حسین بس
پیاسا لڑا نہیں کوئی یوں اژدھام میں
اب اہتمام چاہیے امت کے کام میں
Toggle stanza 171لبیک کہہ کے تیغ رکھی شہ نے میان میں
لبیک کہہ کے تیغ رکھی شہ نے میان میں
پلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میں
پر سرکشوں نے تیر ملائے میان میں
پھر گل گئے لپٹ کے پھرہرے نشان میں
بیکس حسین ظلم شعاروں میں گھر گئے
مولا تمہارے لاکھ سواروں میں گھر گئے
Toggle stanza 172سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر
سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر
چھاتی پہ لگ گئے کئی سو ایک بار تیر
پہلو کے پار برچھیاں سینے کے پار تیر
پڑتے دس جو کھینچتے تھے تن سے چار تیر
یوں تھے خدنگ ظل الٰہی کے جسم پر
جس طرح خانہ ہوتے ہیں ساہی کے جسم پر
Toggle stanza 173چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر
چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر
ٹوٹے ہوئے تھے برچھیوں والے حسین پر
قاتل تھے خنجروں کو نکالے حسین پر
یہ دکھ نبی کی گود کے پالے حسین پر
تیرِ ستم نکالنے والا کوئی نہ تھا
گرتے تھے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا
Toggle stanza 174لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے
لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے
فرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائے
بھالے وہ اور وہ پہلو شبیر ہائے ہائے
وہ زہر میں بجھائے ہوئے تیر ہائے ہائے
غصے میں تھے جو فوج کے سرکش بھرے ہوئے
خالی کیے حسین پہ ترکش بھرے ہوئے
Toggle stanza 175وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ
وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ
اک سنگ دل نے پاس سے مارا جبیں پہ سنگ
صدمے سے زرد ہو گیا سبطِ نبی کا رنگ
ماتھے پہ ہاتھ تھا کہ گلے پر لگا خدنگ
تھاما گلا جناب نے ماتھے کو چھوڑ کے
نکلا وہ تیر حلقِ مبارک کو توڑ کے
Toggle stanza 176لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم
لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم
منہ کھل گیا الٹ گئی گردن رکا جو دم
کھینچی سری گلے کی طرف سے بچشم نم
بھالیں نکالیں پشت کی جانب سے ہو کے خم
ابلا جو خوں نکلتا ہوا دم شہر گیا
چلو رکھا ہو زخم کے نیچے تو بھر گیا
Toggle stanza 177دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں
دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں
سر پر لگائی تیغ کہ شق ہو گئی جبیں
ماری جگر پہ ابنِ انس نے سنانِ کیں
بھاگا کڑو کے کوکھ میں برچھی کو اک لعیں
گھوڑے پہ ڈگمگا کے جو حضرت نے آہ کی
تھرا گئی ضریح رسالت پناہ کی
Toggle stanza 178گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب
گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب
نکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضب
پہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضب
غش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضب
قرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑا
دیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا
Toggle stanza 179جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
امت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمدا
اس وقت کون حق محبت کرے ادا
ہے ہے یہ ظلم اور دو عالم کا مقتدا
انیس سو ہیں زخم تن چاک چاک پر
زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر
Toggle stanza 180پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر
پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر
لرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگر
چاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کر
اے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھر
اماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کے
پہونچا دو لاش پر مرے بازو کو تھام کے
Toggle stanza 181اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ
اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ
لوگو! خدا کے واسطے مجھ کو بتاؤ راہ
سید کدھر تڑپتا ہے اماں کدھر ہیں آہ؟
کس سمت ہے نبی کے نواسے کی قتل گاہ؟
شعلے دل و جگر سے نکلتے ہیں آہ کے
یہ کون نام لیتا ہے میرا کراہ کے
Toggle stanza 182کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ
کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ
بس اب سفر قریب ہے للہ گھر میں جاؤ
اب ڈوبتی ہے آل رسولِ خدا کی ناؤ
یا مرتضیٰ غریبوں کے بیڑے کو تم بچاؤ
اب چھوڑ یو نہ دشتِ بلا میں حسین کو
یا فاطمہ چھپا لو ردا میں حسین کو
Toggle stanza 183بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر
بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر
کٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھر
زینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شر
لیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگر
پہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پر
دیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر
Toggle stanza 184نیزے کے نیچے جا کے پکاری وہ سوگوار
نیزے کے نیچے جا کے پکاری وہ سوگوار
سید تری لہو بھری صورت کے میں نثار
ہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھار
بھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگار
صدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میں
جنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں
Toggle stanza 185بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو
بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو
چلا رہی ہے دخترِ حیدر جواب دو
سوکھی زبان سے بہرِ پیمبر جواب دو
کیونکر جئے گی زینبِ مضطر جواب دو
جز مرگ دردِ ہجر کا چارا نہیں کوئی
میرا تو اب جہاں میں سہارا نہیں کوئی
Toggle stanza 186بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں
بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں
کیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟
کس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟
بستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟
دنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیا
بیٹھوں کہاں کہ گھر تو عزا خانہ ہو گیا
Toggle stanza 187ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی
ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی
بھیا بتاؤ کیا تہ خنجر گذر گئی؟
آئی صدا نہ پوچھو جو ہم پر گذر گئی
صد شکر جو گذر گئی بہتر گذر گئی
سر کٹ گیا ہمیں تو الم سے فراغ ہے
گر ہے تو بس تمہاری جدائی کا داغ ہے
Toggle stanza 188گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار
گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار
کہیو نہ کچھ زباں سے، بجز شکرِ کردگار
خیمہ میں جب کہ آگ لگا دیں ستم شعار
رہیو مری یتیم سکینۂ سے ہوشیار
بے زار ہے وہ خستہ جگر اپنی جان سے
باندھے نہ کوئی اس کا گلا ریسمان سے
Toggle stanza 189بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند
بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند
عالم کو یادگار رہیں گے یہ چند بند
نکلے قلم سے ضعف میں کیا کیا بلند بند
عالم پسند بند ہیں سلطان پسند بند
یہ فصل اور یہ بزمِ عزا یادگار
پیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

