جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

Stanza 1
Toggle stanza 1
جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے
1

جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے

جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے

2

دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے

مڑ کر صدا رفیقوں کو دی اس جناب نے

3

آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو

اٹھو فریضۂ سحریٰ کو ادا کرو

Stanza 2
Toggle stanza 2
ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا
4

ہاں غازیو یہ دن ہے جدال و قتال کا

یاں خوں بہے گا آج محمد کی آل کا

5

پرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لال کا

گذری شبِ فراق دن آیا وصال کا

6

ہم وہ ہیں غم کریں گے ملک جن کے واسطے

راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے

Stanza 3
Toggle stanza 3
یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام
7

یہ صبح ہے وہ صبح مبارک ہے جس کی شام

یاں سے ہوا جو کوچ تو ہے خلد میں مقام

8

کوثر پہ آبرو سے پہونچ جائیں تشنہ کام

لکھے خدا نماز گزاروں میں سب کے نام

9

سب ہیں وحیدِ عصر یہ غل چار سو اٹھے

دنیا سے جو شہید اٹھے سرخرو اٹھے

Stanza 4
Toggle stanza 4
یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس
10

یہ سن کے بستروں سے اٹھے وہ خدا شناس

اک اک نے زیبِ جسم کیا فاخرہ لباس

11

شانے محاسنوں میں کیے سب نے بے ہراس

باندھے عمامہ آئے امامِ زماں کے پاس

12

رنگیں عبائیں دوش پہ کمریں کسے ہوے

مشک و زباد و عطر میں کپڑے بسے ہوئے

Stanza 5
Toggle stanza 5
سوکھے لبوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور
13

سوکھے لبوں پہ حمدِ الٰہی رخوں پہ نور

خوف و ہراس رنج و کدورت دلوں سے دور

14

فیاض حق شناس اولو العزم ذی شعور

خوش فکر و بزلہ سنج و ہنر پرور و غیور

15

کانوں کو حسنِ صوت سے حظ برملا ملے

باتوں میں وہ نمک کہ دلوں کو مزا ملے

Stanza 6
Toggle stanza 6
ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر
16

ساونت برد بار فلک مرتبت دلیر

عالی منش سبا میں سلیماں وغا میں شہ

17

گرداں دہر ان کی زبردستیوں سے زیر

فاقے سے تین دن کے مگر زندگی سے سیہ

18

دنیا کو ہیچ پوچ سراپا سمجھتے ہیں

دریا دلی سے بحر کو قطرا سمجھتے ہیں

Stanza 7
Toggle stanza 7
تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب
19

تقریر میں وہ رمز کنایہ کہ لاجواب

نکتہ بھی منہ سے گر کوئی نکلا تو انتخاب

20

گویا دہن کتابِ بلاغت کا ایک باب

سوکھی زبانیں شہد فصاحت سے کامیاب

21

لہجوں پہ شاعران عرب تھے مرے ہوئے

پستے لبوں کے وہ کہ نمک سے بھرے ہوئے

Stanza 8
Toggle stanza 8
لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو
22

لب پر ہنسی گلوں سے زیادہ شگفتہ رو

پیدا تنوں سے پیرہن یوسفی کی بو

23

غلماں کے دل میں جن کی غلامی کی آرزو

پرہیز گار زاہدِ ابرار و نیک خو

24

پتھر میں ایسے لعل صدف میں گہر نہیں

روں کا قول تھا کہ ملک ہیں بشر نہیں

Stanza 9
Toggle stanza 9
پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب
25

پانی نہ تھا وضو جو کریں وہ فلک مآب

پر تھی رخوں پہ خاکِ تیمم سے طرفہ آب

26

باریک ابر میں نظر آتے تھے آفتاب

ہوتے ہیں خاکسار غلامِ ابوتراب

27

مہتاب سے رخوں کی صفا اور ہو گئی

مٹی یس آئتوں میں جلا اور ہو گئی

Stanza 10
Toggle stanza 10
خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال
28

خیمے سے نکلے شہ کے عزیزاں خوش خصال

جن میں کئی تھے حضرتِ خیر النسا کے لال

29

قاسم سا گلبدن علی اکبر سا خوش جمال

اک جا عقیل و مسلم و جعفر کے نونہال

30

سب کے رخوں کا نور سپہر بریں پہ تھا

اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا

Stanza 11
Toggle stanza 11
ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک
31

ٹھنڈی ہوا میں سبزۂ صحرا کی وہ لہک

شرمائے جس سے اطلسِ زنگاریِ فلک

32

وہ جھومنا درختوں کا پھولوں کی وہ مہک

ہر برگِ گل پہ قطرہ شبنم کی وہ جھلک

33

ہیرے خجل تھے گوہر یکتا نثار تھے

پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے

Stanza 12
Toggle stanza 12
قرباں صنعتِ قلم آفریدگار
34

قرباں صنعتِ قلم آفریدگار

تھی ہر ورق پہ صنعتِ ترصیع آشکار

35

عاجز ہے فکرت شعرائے ہند شعار

ان صنعتوں کو پائے کہاں عقلِ سادہ کار

36

عالم تھا محو قدرت رب عباد پر

مینا کیا تھا وادیِ مینو سواد پر

Stanza 13
Toggle stanza 13
وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا
37

وہ نور اور وہ دشت سہانا وہ فضا

دراج و کیک و تیہود طاؤس کی صدا

38

وہ جوشِ گل وہ نالۂ مرغانِ خوش نوا

سردی جگر کو بخشی تھی صبح کی ہوا

39

پھولوں سے سبز سبز شجر سرخ پوش تھے

تھالے بھی نخل کے سبدِ گل فروش تھے

Stanza 14
Toggle stanza 14
وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار
40

وہ دشت وہ نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار

پھولوں پہ جابجا وہ گہرہائے آبدار

41

اٹھتا وہ جھوم جھوم کے شاخوں کا باربار

بالائے نخل ایک جو بلبل تو گل ہزار

42

خواہاں تھے زہرا گلشن زہرا جو آب کے

شبنم نے بھر دیے تھے کٹورے گلاب کے

Stanza 15
Toggle stanza 15
وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم
43

وہ قمریوں کا چار طرف سرو کے ہجوم

کو کو کا شور نالۂ حق سرہ کی دھوم

44

سبحان رہنا کی صدا تھی علی العموم

جاری تھے وہ جو ان کی عبادت کے تھے رسوم

45

کچھ گل فقط نہ کرتے تھے رب علا کی حمد

ہر خار کو بھی نوکِ زباں تھی خدا کی حمد

Stanza 16
Toggle stanza 16
چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار
46

چیونٹی بھی ہاتھ اٹھا کے یہ کہتی تھی بار بار

اے دانہ کش ضعیفوں کے رازق ترے نثار

47

یا حی یاقدیر کی تھی ہر طرف پکار

تہلیل تھی کہیں کہیں تسبیح کردگار

48

طائر ہوا میں محو ہنر سبزہ زار میں

جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

Stanza 17
Toggle stanza 17
کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول
49

کانٹوں میں اک طرف تھے ریاضِ نبی کے پھول

خوشبو سے جن کی خلد تھا جنگل کا عرض و طول

50

دنیا کی زیب و زینتِ کاشانۂ بتول

وہ باغ تھا لگا گئے تھے خود جسے رسول

51

ماہِ عزا کے عشرۂ اول میں کب گیا

وہ باغیوں کے ہاتھ سے جنگل میں کٹ گیا

Stanza 18
Toggle stanza 18
اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار
52

اللہ رے خزاں کے دن اس باغ کی بہار

پھولے سماتے تھے نہ محمد کے گلِ عذار

53

دولہا بنے ہوئے تھے اجل تھی گلوں کا ہار

جاگے وہ ساری رات کے وہ نیند کا خمار

54

راہیں تمام جسم کی خوشبو سے بس گئیں

جب مسکرا کے پھولوں کلیاں بکس گئیں

Stanza 19
Toggle stanza 19
وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان
55

وہ دشت اور خیمۂ زنگارگوں کی شان

گویا زمیں پہ نصب تھا اک تازہ آسمان

56

بے چوبہ سپہر بریں جس کا سائبان

بیت العتیق دین کا مدینہ جہاں کی جان

57

اللہ کے حبیب کے پیارے اسی میں تھے

سب عرشِ کبریا کے ستارے اسی میں تھے

Stanza 20
Toggle stanza 20
گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں
58

گردوں پہ ناز کرتی تھی اس دشت کی زمیں

کہتا تھا آسمانِ دہم چرخ ہضمتیں

59

پردے تھے رشک پردۂ چشمانِ حور میں

تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں

60

دیکھا جو نور شمسۂ کیواں جناب پر

کیا کیا ہنسی ہے صبحِ گل آفتاب پر

Stanza 21
Toggle stanza 21
ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں
61

ناگاہ چرخ پر خطِ ابیض ہوا عیاں

62

تشریف جا نماز پہ لائے شہ زماں

63

سجاد بچھ گئے عقبِ شاہ انس و جاں

64

تاروں سے تھا فلک اسی خرمن کا خوشہ چیں

65

دیکھا جو نور شمسۂ حسن سے اکبرِ مہر و نے دی اذاں

66

ہر اک کی چشم آنسوؤں سے ڈبڈبا گئی

67

گویا صدا رسول کی کانوں میں آگئی

Stanza 22
Toggle stanza 22
چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر
68

چپ تھے طیور جھومتے تھے وجد میں شجر

تسبیح خواں تھے برگ و گل غنچہ و ثمر

69

محوِ ثنا کلوخ دنبا تات و دشت دور

پانی سے منہ نکالے تھے دریا کے جانور

70

اعجاز تھا کہ دلبِ شبیر کی صدا

ہر خشک و تر سے آئی تھی تکبیر کی صدا

Stanza 23
Toggle stanza 23
ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار
71

ناموس شاہ روتے تھے خیمے میں زار زار

چپکی کھڑی تھی صحن میں بانو کے نامدار

72

زینب بلائیں لے کے یہ کہتی تھی بار بار

صدقے نمازیوں کے مؤذن کے میں نثار

73

کرتے ہیں یوں ثنا وصف ذوالجلال کی

لوگوں اذاں سنو مرے یوسف جمال کی

Stanza 24
Toggle stanza 24
یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد
74

یہ حسنِ صوت اور یہ قرأت یہ شدو مد

حقا کہ افصح الفصحا ہے انہیں کا جد

75

گویا ہے لحن حضرتِ داؤد با خرد

یارب رکھ اس صدا کو زمانے میں تا ابد

76

شعبے صدا میں پنکھڑیاں جیسے پھول میں

بلبل چہک رہا ہے ریاضِ رسول میں

Stanza 25
Toggle stanza 25
میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے
77

میری طرف سے کوئی بلائیں تو لینے جائے

عین الکمال سے تجھے بچے خدا بچائے

78

وہ لو ذعی کی جس کی طلاقت دلوں کو بھائے

دو دد دن ایک بوند بھی پانی کہ وہ نہ پائے

79

غربت میں پڑ گئی ہے مصیبت حسین پر

فاقہ یہ تیسرا ہے مرے نورِ عین پر

Stanza 26
Toggle stanza 26
صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ
80

صف میں ہوا جو نعرۂ قدقامت الصلوٰۃ

قائم ہوئی نماز اٹھے شاہِ کائنات

81

وہ نور کی صفیں وہ مصلی ملک صفات

قدموں سے جن کی ملتی تھی آنکھیں رہِ نجات

82

جلوہ تھا تابہ عرشِ معلیٰ حسین کا

مصحف کی لوح تھی کہ مصلی حسین کا

Stanza 27
Toggle stanza 27
اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار
83

اک صف میں سب محمد و حیدر کے رشتہ دار

اٹھارہ نوجواں تھے اگر کیجیے شمار

84

پر سب جگر نگار حق آگاہ خاکسار

پیرہ امام پاک کے داتائے رونار

85

تسبیح ہر طرف تہ افلاک انہیں کی ہے

جس پر درود پڑھتے ہیں یہ خاک انہیں کی ہے

Stanza 28
Toggle stanza 28
دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود
86

دنیا سے اٹھ گیا وہ قیام اور وہ قعود

ان کے لیے تھی بندگی واجب الوجود

87

وہ عجز وہ طویل رکوع اور وہ سجود

طاعت میں نیست جانتے تھے اپنی ہست و بود

88

طاقت نہ چلنے پھرنے کی تھی ہاتھ پاؤں میں

گر گر کے سجدے کر گئے تیغوں کی چھاؤں میں

Stanza 29
Toggle stanza 29
ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا
89

ہاتھ ان کے جب قنوت میں اٹھے سوئے خدا

خود ہوگئے فلک پہ اجابت کے باب وا

90

تھرائے آسماں بلا عرش کبریا

شہ پر تھے دونوں ہاتھ پے طائر دعا

91

وہ خاکسار محوِ تضرع تھے فرش پر

روح القدس کی طرح دعائیں تھیں عرش پر

Stanza 30
Toggle stanza 30
فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام
92

فارغ ہوئے نماز سے جب قبلۂ انام

آئے مصافحے کو جوانان تشنہ کام

93

چومے کسی نے دستِ شہنشاہ خاص و عام

آنکھیں ملیں قدم پہ کسی نے با حترام

94

کیا دل تھے کیا سپاہِ رشید و سعید تھی

باہم معانقے تھے کہ مرنے کی عید تھی

Stanza 31
Toggle stanza 31
بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر
95

بیٹھے تھے جا نماز پہ شاہِ فلک سریر

ناگہ قریب آ کے گرے تین چار تیر

96

دیکھا ہر اک نے مڑ کے سوئے لشکرِ شریر

عباس اٹھے تول کے شمشیر بے نظیر

97

پروانہ تھے سراج امامت کے نور پر

روکی سپر حضور کرامت ظہور پر

Stanza 32
Toggle stanza 32
اکبر سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں
98

اکبر سے مڑکے کہنے لگے سرورِ زماں

تم جا کے کہہ دو خیمے میں یہ اے پدر کی جاں

99

باندھے ہے سر کشی پر کمر لشکرِ گراں

بچوں کو لے کے صحن سے ہٹ جائیں بیبیاں

100

غفلت میں تیرے کوئی بچہ تلف نہ ہو

ڈر ہے مجھے کہ گردنِ اصغر ہدف نہ ہو

Stanza 33
Toggle stanza 33
کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر
101

کہتے تھے یہ پسر سے شۂ آسماں سریر

فضہ پکاری ڈیوڑھی سے اے خلق کے امیر

102

ہے ہے علی کی بیٹیاں کس جا ہوں گوشہ گیر

اصغر کے گاہوارے تک آکر گرے ہیں تیر

103

گرمی میں ساری رات یہ گھٹ گھٹ کے روئے ہیں

بچے ابھی تو سرد ہوا پا کے سوئے ہیں

Stanza 34
Toggle stanza 34
باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش
104

باقر کہیں پڑا ہے سکینہ کہیں ہے غش

گرمی کی فصل یہ تب و تاب اور یہ عطش

105

رو رو کے سو گئے ہیں صغیران ماہ وش

بچوں کو لے کے یاں سے کہاں جائیں فاقہ کش

106

یہ کس خطا پہ تیر پیا پے برستے ہیں

ٹھنڈی ہوا کے واسطے بچے ترستے ہیں

Stanza 35
Toggle stanza 35
اٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار
107

اٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار

ڈیوڑھی تک آئے تک ڈھالوں کو رد کے رفیق و یار

108

فرمایا مڑکے چلتے ہیں اب بہرِ کارزار

کمریں کسو جہاد پہ منگواؤ راہوار

109

دیکھیں فضا بہشت کی دل باغ باغ ہو

امت کے کام سے کہیں جلدی فراغ ہو

Stanza 36
Toggle stanza 36
فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر
110

فرما کے یہ حرم میں گئے شاہِ بحروبر

ہونے لگیں صفوں میں کمر بندیاں ادھر

111

جوشن پہن کے حضرتِ عباس نامور

دروازے پہ ٹہلنے لگے مثلِ شیرِ نر

112

پرتو سے رخ کے برق چمکتی تھی پاک پر

تلوار ہاتھ میں تھی سپرِ دوش پاک پر

Stanza 37
Toggle stanza 37
شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر
113

شوکت میں رشک تاج سلیمان تھا خودِ سر

کلغی پہ لاکھ بار تصدق ہما کے پر

114

دستانے دونوں فتح کا مسکن ظفر کا گھر

وہ رعب الامان وہ تہور کہ الحذر

115

جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آر ہو

پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو

Stanza 38
Toggle stanza 38
خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
116

خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال

چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سروں کے بال

117

زینب کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال

بچ جائے اس فساد سے خیر النسا کا لال

118

بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے

صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے

Stanza 39
Toggle stanza 39
آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربلا
119

آفت میں ہے مسافرِ صحرائے کربلا

بے کس پہ یہ چڑھائی ہے سید پہ یہ جفا

120

غربت میں ٹھن گئی جو لڑائی تو ہوگا کیا

ان ننھے ننھے بچوں پہ کر رحم اے خدا

121

فاقوں سے جاں بلب ہیں عطش سے ہلاکِ ہیں

یارب ترے رسول کی ہم آلِ پاک ہیں

Stanza 40
Toggle stanza 40
سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار
122

سر پر نہ اب علی نہ رسولِ فلک وقار

گھر لٹ گیا گذر گئیں خاتونِ روزگار

123

اماں کے بعد روئی حسن کو میں سوگار

دنیا میں اب حسین ہے ان سب کا یادگار

124

تو داد دے مری کہ عدالت پناہ ہے

کچھ اس پہ بن گئی تو یہ مجمع تباہ

Stanza 41
Toggle stanza 41
بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب
125

بولے قریب جا کے شہِ آسماں جناب

مضطر نہ ہو دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب

126

مغرور ہیں خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب

خود جا کے میں دکھاتا ہوں ان کو رہِ صواب

127

موقع بہن نہیں ابھی فریاد و آہ کا

لاؤ تبرکات رسالت پناہ کا

Stanza 42
Toggle stanza 42
معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس
128

معراج میں رسول نے پہنا تھا جو لباس

کشتی میں لائیں زینب اسے شاہِ دیں کے پاس

129

سر پر رکھا عمامۂ سردارِ حق شناس

پہنی قبائے پاکِ رسول فلک اساس

130

بر میں درست و چست تھا جامہ رسول کا

رومال فاطمہ کا عمامہ رسول کا

Stanza 43
Toggle stanza 43
شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار
131

شملے دو سرے جو پڑے تھے بصد وقار

ثابت یہ تھا کہ دوش پہ گیسو پڑے ہیں چار

132

بل کھا رہا تھا زلفِ سمن بو کا تار تار

جس کے ہر ایک مو پہ خطا و ختن نثار

133

مشک و عبیر و عود اگر ہیں تو ہیچ ہیں

سنبل پہ کیا کھلیں گے یہ گیسو کے پیچ میں

Stanza 44
Toggle stanza 44
کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو
134

کپڑوں سے آ رہی تھی رسولِ زمن کی بو

دولھا نے سونگھی ہوگی نہ ایسی دلہن کو بی

135

حیدر کی فاطمہ کی حسین و حسن کی بو

پھیلی ہوئی تھی چار طرف پنجتن کی بو

136

لٹتا تھا عطر وادیِ عنبر سرشت میں

گل جھومتے تھے باغ میں رضواں بہشت میں

Stanza 45
Toggle stanza 45
پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن
137

پوشاک سب پہن چکے جس دم شۂ زمن

لیکر بلائیں بھائی کی رونے لگی بہن

138

چلائی ہائے آج نہیں حیدر و حسن

اماں کہاں سے لائے تمہیں اب یہ بے وطن

139

رخصت ہے اب رسول کے یوسف جمال کی

صدقے گئی بلائیں تو لو اپنے لال کی

Stanza 46
Toggle stanza 46
صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے
140

صندوق اسلحہ کے جو کھلوائے شاہ نے

پیٹا منہ اپنا زینبِ عصمت پناہ نے

141

پہنی زرہ امامِ فلک بارگاہ نے

بازو پہ جوشنین پڑھے عزو جاہ نے

142

جوہر بدن کے حسن سے سارے چمک گئے

حلقے تھے جتنے اتنے سارے چمک گئے

Stanza 47
Toggle stanza 47
یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار
143

یاد آگئے علی نظر آئی جو ذوالفقار

قبضے کو چوم کر شۂ دیں روئے زار زار

144

تولی جو لے کے ہاتھ میں شمشیرِ آبدار

شوکت نے دی صدا کہ تری شان کے نثار

145

فتح و ظفر قریب ہو نصرت قریب ہو

زیب اس کی تجھ کو ضرب عدو کو نصیب ہو

Stanza 48
Toggle stanza 48
باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے
146

باندھی کمر سے تیغ جو زہرا کے لال نے

پھاڑا فلک پہ اپنا گریباں ہلال نے

147

دستانے پہنے سرورِ قدسی خصال نے

معراج پائی دوش پہ حمزہ کی ڈھال نے

148

رتبہ بلند تھا کہ سعادت نشان تھی

ساری سپر میں مہر نبوت کی شان تھی

Stanza 49
Toggle stanza 49
ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام
149

ہتھیار ادھر لگا چکے آقائے خاص و عام

تیار ادھر ہوا علم سید انام

150

کھولے سروں کو گرد تھی سیدانیاں تمام

روتی تھی تھامے چوب علم خواہرِ امام

151

تیغیں کمر میں دوش پہ شملے پڑے ہوئے

زینب کے لال زیر علم آکھڑے ہوئے

Stanza 50
Toggle stanza 50
گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار
152

گردانے دامنوں کو قبا کے وہ گل عذار

مرفق تک آستینوں کو الٹے بصد وقار

153

جعفر کا رعب دبدبۂ شیر کردگار

بوٹے سے ان کے قد پہ نمودار و نامدار

154

آنکھیں ملیں علم کے پھریرے کو چوم کے

رایت کے گرد پھرنے لگے جھوم جھوم کے

Stanza 51
Toggle stanza 51
گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم
155

گہ ماں کو دیکھتے تھے گہ جانبِ علم

نعرہ کبھی یہ تھا کہ نثارِ شۂ امم

156

کرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم

آہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم

157

کیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا

اماں کسے ملے گا علم نانا جان کا

Stanza 52
Toggle stanza 52
کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال
158

کچھ مشورہ کریں جو شہنشاہ خوش خصال

ہم بھی محق ہیں آپ کو اس کار ہے خیال

159

پاس ادب سے عرض کی ہم کو نہیں مجال

اس کا بھی خوف ہے کہ نہ ہو آپ کو ملال

160

آقا کے ہم غلام ہیں اور جانثار ہیں

عزت طلب ہیں نام کے امیدوار ہیں

Stanza 53
Toggle stanza 53
بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں
161

بے مثل تھے رسول کے لشکر کے سب جواں

لیکن ہمارے جد کو نبی نے دیا نشاں

162

خیبر میں دیکھتا رہا منہ لشکرِ گراں

پایا علم علی نے مگر وقتِ امتحاں

163

طاقت میں کچھ کمی نہیں گو بھوکے پیاسے ہیں

پوتے انہیں کے ہم ہیں انہیں کے نواسے ہیں

Stanza 54
Toggle stanza 54
زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام
164

زینب نے تب کہا تمہیں اس سے کیا ہے کام

کیا دخل مجھ کو مالک و مختار ہیں امام

165

دیکھو نہ کیجو بے ادبانہ کوئی کلام

بگڑوں گی میں جو لوگے علم کا زباں سے نام

166

لو جاؤ بس کھڑے ہو الگ ہاتھ جوڑ کے

کیوں آئے ہو یہاں علی اکبر کو چھوڑ کے

Stanza 55
Toggle stanza 55
سرکو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس
167

سرکو، ہٹو، بڑھو، نہ کھڑے ہو علم کے پاس

ایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں شاہ فلک اساس

168

کھوتے ہو اور آئے ہو تم مرے حواس

بس قابل قبول نہیں ہے یہ التماس

169

رونے لگوگے تم جو برا یا بھلا کہوں

اس ضد کو بچپنے کے سوا اور کیا کہوں

Stanza 56
Toggle stanza 56
عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل
170

عمریں قلیل اور ہوس منصب جلیل

اچھا نکالو قد کے بھی بڑھنے کی کچھ سبیل

171

ماں صدقے جائے گرچہ یہ ہمت کی ہے دلیل

ہاں اپنے ہم سنوں میں تمہارا نہیں عدیل

172

لازم ہے سوچے غور کرے پیش و پس کرے

جو ہو سکے نہ کیوں بشر اس کی ہوس کرے

Stanza 57
Toggle stanza 57
ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم
173

ان ننھے منھے ہاتھوں سے اٹھے گا یہ علم

چھوٹے قدوں میں سب سے سنوں میں سبھوں سے کم

174

نکلیں تنوں سے سبط نبی کے قدم پہ قدم

عہدہ یہی ہے بس یہی منصب یہ حشم

175

رخصت طلب اگر ہو تو یہ میرا کام ہے

ماں صدقے جائے آج تو مرنے میں نام ہے

Stanza 58
Toggle stanza 58
پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار
176

پھر تم کو کیا بزرگ تھے گر فخرِ روزگار

زیبا نہیں ہے جو وصفِ اضافی افتخار

177

جوہر وہ ہیں جو تیغ کرے آپ آشکار

دکھلا دو آج حیدر و جعفر کی کارزار

178

تم کیوں کہو کہ لالہ خدا کے ولی کے ہیں

فوجیں پکاریں خود کہ نواسے علی کے ہیں

Stanza 59
Toggle stanza 59
کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام
179

کیا کچھ علم سے جعفر طیار کا تھا نام

یہ بھی تھی اک عطائے رسول فلک مقام

180

بگڑی لڑائیوں میں بن آئے انہیں سے کام

جب کھینچتے تھے تیغ تو ہلتا تھا روم و شام

181

بے جاں ہوئے تو نخل وغانے ثمر دیے

ہاتھوں بدلے حق نے جواہر کے پردے

Stanza 60
Toggle stanza 60
لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب
182

لشکر نے تین روز ہزیمت اٹھائی جب

بخشا علم رسول خدا نے علی کو تب

183

مرحب کو قتل کرکے بڑھا جب وہ شیر رب

دربند کرکے قلعہ کا بھاگی سپاہ سب

184

اکھڑا وہ یوں گراں تھا جو در سنگِ سخت سے

جس طرح توڑ لے کوئی پتا درخت سے

Stanza 61
Toggle stanza 61
نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال
185

نرغے میں تین دن سے ہے مشکل کشا کا لال

اماں کا باغ ہوتا ہے جنگل میں پائمال

186

پوچھا نہ یہ کہ کھولے ہیں تم نے سر کے بال

میں لٹ رہی ہوں اور تمہیں منصب کا ہے خیال

187

غم خوار تم مرے ہو نہ عاشق امام کے

معلوم ہو گیا مجھے طالب ہو نام کے

Stanza 62
Toggle stanza 62
ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام
188

ہاتھوں کو جوڑ جوڑ کے بولے وہ لالہ فام

غصے کو آپ تھام لیں اے خواہر امام

189

واللہ کیا مجال جو اب لیں علم کا نام

کھل جائے گا لڑیں گے جو یہ با وفا غلام

190

فوجیں بھگا کے گنجِ شہیداں میں سوئیں گے

تب قدر ہوگی آپ کو جب ہم نہ ہوئیں گے

Stanza 63
Toggle stanza 63
یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر
191

یہ کہہ کے بس ہٹے جو سعادت نشاں پسر

چھاتی بھر آئی ماں نے کہا تھا کہ جگر

192

دیتے ہو اپنے مرنے کی پایرو مجھے خبر

ٹھہرو ذرا بلائیں تو لے لے یہ نوحہ گر

193

کیا صدقے جاؤں ماں کی نصیحت بری لگی

بچو یہ کیا کہا کہ جگر پر چھری لگی

Stanza 64
Toggle stanza 64
زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن
194

زینب کے پاس آکے یہ بولے شۂ زمن

کیوں تم نے دونوں بیٹوں کو باتیں سنیں بہن

195

شیروں کے شیر عاقل و جرار و صف شکن

زینب وحید عصر ہیں دونوں یہ گل بدن

196

یوں دیکھنے کو سب میں بزرگوں کے طور ہیں

تیور ہی ان کے اور ارادے ہی اور ہیں

Stanza 65
Toggle stanza 65
نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے
197

نو دس برس کے سن یہ جرأت یہ ولولے

بچے کسی نے دیکھے ہیں ایسے بھی من چلے

198

اقبال کیونکہ ار کے نہ قدموں سے منہ ملے

کس گود میں بڑے ہوئے کس دودھ سے پلے

199

بے شک یہ ورثہ دارِ جنابِ امیر ہیں

پر کیا کہوں کہ دونوں کی عمریں صغیر ہیں

Stanza 66
Toggle stanza 66
اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم
200

اب تم جسے کہو اسے دیں فوج کا علم

کی عرض جو صلاح شۂ آسماں حشم

201

فرمایا جب سے اٹھ گئیں زہرائے باکرم

اس دن سے تم کو ماں کی جگہ جانتے ہیں ہم

202

مالک ہو تم بزرگ کوئی ہو کہ خرد ہو

جس کہو اسی کو یہ عہدہ سپرد ہو

Stanza 67
Toggle stanza 67
بولیں بہن کہ آپ بھی تولیں کسی کا نام
203

بولیں بہن کہ آپ بھی تولیں کسی کا نام

ہے کس طرف توجہ سردار خاص و عام

204

گر مجھ سے پوچھتے ہیں شۂ آسماں مقام

قرآں کے بعد ہے تو ہے بس آپ کا کلام

205

شوکت میں قد میں شان میں ہم کسر کوئی نہیں

عباس نام دار سے بہتر کوئی نہیں

Stanza 68
Toggle stanza 68
عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار
206

عاشق غلام خادمِ دیرینہ جاں نثار

فرزند بھائی زینتِ پہلو وفا شعار

207

جرار یادگارِ پدر فخر روزگار

راحت رساں مطیع نمودار نام دار

208

صفدر ہے شیر دل ہے بہادر ہے نیک ہے

بے مثل سیکڑوں میں ہزاروں میں ایک ہے

Stanza 69
Toggle stanza 69
آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ زمن
209

آنکھوں میں اشک بھر کے یہ بولے شہ زمن

ہاں تھی یہی علی کی وصیت ابھی اے بہن

210

اچھا بلائیں آپ کدھر ہے وہ صف شکن

اکبر چچا کے پاس گئے سن کے یہ سخن

211

کی عرض انتظار ہے شاہِ غیور کو

چلیے پھوپھی نے یاد کیا ہے حضور کو

Stanza 70
Toggle stanza 70
عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ
212

عباس آئے ہاتھوں کو جوڑے حضورِ شاہ

جاؤ بہن کے پاس یہ بولا وہ دیں پناہ

213

زینب وہیں علم لیے آئیں بہ عزو جاہ

بولے نشاں کے لے کے شۂ عرش بارگاہ

214

ان کی خوشی وہ ہے جو رضا پنجتن کی ہے

لو بھائی لو علم پہ عنایت بہن کی ہے

Stanza 71
Toggle stanza 71
رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار
215

رکھ کر علم پہ ہاتھ جھکا وہ فلک وقار

ہمشیر کے قدم پہ ملا منہ بہ افتخار

216

زینب بلائیں لے کے یہ بولیں کہ میں نثار

عباس فاطمہ کی کمائی سے ہوشیار

217

ہو جائے آج صلح کی صورت تو کل چلو

ان آفتوں سے بھائی کو لے کر نکل چلو

Stanza 72
Toggle stanza 72
کی عرض میرے جسم پہ جسم وقت تک ہے سر
218

کی عرض میرے جسم پہ جسم وقت تک ہے سر

ممکن نہیں ہے یہ کہ بڑھے فوج بد گہر

219

تیغیں کھنچیں جو لاکھ تو سینہ کروں سپر

دیکھیں اٹھا کے آنکھ یہ کیا تاب کیا جگر

220

ساونت ہیں پسر اسدِ ذوالجلال کے

گر شیر ہو تو پھینک دیں آنکھیں نکال کے

Stanza 73
Toggle stanza 73
منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب
221

منہ کر کے سوئے قبرِ علی پھر کیا خطاب

ذرے کو آج کردیا مولا نے آفتاب

222

یہ عرض خاکسار کی ہے یا ابوتراب

آقا کے آگے میں ہوں شہادت سے کامیاب

223

سر تن سے ابنِ فاطمہ کے رو برو گرے

شبیر کے پسینے پہ میرا لہو گرے

Stanza 74
Toggle stanza 74
یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور
224

یہ سن کے آئی زوجہ عباس نامور

شوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر

225

لیں سبط مصطفیٰ کی بلائیں بچشمِ تر

زینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر

226

فیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا

عزت بڑھی کنیز کی رتبہ غلام کا

Stanza 75
Toggle stanza 75
سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا
227

سر کو لگا کے چھاتی زینب نے یہ کہا

تو اپنی مانگ کوکھ سے ٹھنڈی رہے سدا

228

کی عرض مجھ سے لاکھ کنیزیں تو ہوں فدا

بانوے نامور کہ سہاگن رکھے خدا

229

بچے جییں ترقیِ اقبال و جاہ ہو

سائے میں آپ کے علی اکبر کا بیاہ ہو

Stanza 76
Toggle stanza 76
قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جائے
230

قسمت وطن میں خیر سے پھر شہ کو لے کے جائے

یہ شہر میں شور ہو کہ سفر سے حسین آئے

231

ام البنین جاہ و حشم سے پسر کو پائے

جلدی شبِ عروسیِ اکبر خدا دکھائے

232

مہندی تمہارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں

لاؤ دلہن کو بیاہ کے تاروں کی چھاؤں میں

Stanza 77
Toggle stanza 77
ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا
233

ناگاہ آ کے بالی سکینہ نے یہ کہا

کیسا ہے یہ ہجوم کدھر ہیں مرے چچا

234

عہدہ علم کا ان کو مبارک کرے خدا

لوگو مجھے بلائیں تو لینے دو اک ذرا

235

شوکت خدا بڑھائے مرے عمو جان کی

میں بھی تو دیکھوں شان علی کے نشان کی

Stanza 78
Toggle stanza 78
عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ
236

عباس مسکراکے پکارے کہ آؤ آؤ

عمو نثار پیاس سے کیا حال ہے بتاؤ

237

بولی لپٹ کے وہ کہ مری مشک لیتے جاؤ

اب تو علم ملا تمہیں پانی مجھے پلاؤ

238

تحفہ کوئی نہ دیجیے نہ انعام دیجیے

قربان جاؤں پانی کا جام دیجیے

Stanza 79
Toggle stanza 79
فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام
239

فرمایا آپ نے کہ نہیں فکر کا مقام

باتوں پہ اس کی روتی تھیں سیدانیاں تمام

240

کی عرض آکے ابنِ حسن نے کہ یا امام

انبوہ ہے بڑھی چلی آتی ہے فوجِ شام

241

عباس اب علم لیے باہر نکلتے ہیں

ٹھہرو بہن سے مل کے لگے ہم بھی چلتے ہیں

Stanza 80
Toggle stanza 80
ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا
242

ناگہ بڑھے علم لیے عباس باوفا

دوڑے سب اہلِ بیت کھلے سربرہنہ پا

243

حضرت نے ہاتھ اٹھا کے یہ اک ایک سے کہا

لو الوداع اے حرم پاک مصطفی

244

صبحِ شبِ فراق ہے پیاروں کو دیکھ لو

سب مل کے ڈوبت ہوئے تاروں کو دیکھ لو

Stanza 81
Toggle stanza 81
شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری
245

شہ کے قدم پہ زینبِ زار و حزیں گری

بانو بچھاڑ کھا کے پسر کے قریں گری

246

کلثوم تھرتھرا کے بروئے زمیں گری

باقر کہیں گرا تو سکینہ کہیں گری

247

اجڑا چمن ہر اک گلِ تازہ نکل گیا

نکلا علم کہ گھر سے جنازہ نکل گیا

Stanza 82
Toggle stanza 82
دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ
248

دیکھی جو شانِ حضرتِ عباس عرش جاہ

آگے بڑھی علم کے پس از تہنیت سپاہ

249

نکلا حرم سرا سے دو عالم کا بادشاہ

نشتر بلند تھی بنت علی کی فغا و آہ

250

رہ رہ کے اشک بہتے تھے روئے جناب سے

شبنم ٹپک رہی تھی گل آفتاب سے

Stanza 83
Toggle stanza 83
مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے
251

مولا چڑھے فرس پہ محمد کی شان سے

ترکش لگایا ہرنے پہ کس آن بان سے

252

نکلا یہ جن و انس و ملک کی زبان سے

اترا ہے پھر زمیں پہ براق آسمان سے

253

سارا چلن خرام میں کبک روی کا ہے

گھونگھٹ نئی دلہن کا ہے چہرہ پری کا ہے

Stanza 84
Toggle stanza 84
غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے
254

غصے میں انکھڑیوں کے ابلنے کو دیکھیے

جوبن میں جھوم جھوم کے چلنے کو دیکھیے

255

سانچے میں جوڑ بند کے ڈھلنے کو دیکھیے

تھم کر کنوتیوں کے بدلنے کو دیکھیے

256

گردن میں ڈالے ہاتھ یہ پریوں کو شوق ہے

بالا ودی میں اس کو ہما پر بھی فوق ہے

Stanza 85
Toggle stanza 85
تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا
257

تھم کر ہوا چلی فرسِ خوش قدم بڑھا

جوں جوں وہ سوئے دشتِ بڑھا اور دم بڑھا

258

گھوڑوں کی لیں سواروں نے باگیں علم بڑھا

رایت بڑھا کہ سروِ ریاضِ ارم بڑھا

259

پھولوں کو لے کے بادِ بہاری پہونچ گئی

بستانِ کربلا میں سواری پہونچ گئی

Stanza 86
Toggle stanza 86
پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر
260

پنجہ ادھر چمکتا تھا اور آفتاب ادھر

اس کی ضیا تھی خاک پہ ضو اس کی عرش پر

261

زر ریزی علم پہ ٹھہرتی نہ تھی نظر

دولھا کا رخ تھا سونے کے سہرے میں جلوہ گر

262

تھے دو طرف جو دو علم اس ارتقاع کے

الجھے ہوئے تھے تار خطوطِ شعاع کے

Stanza 87
Toggle stanza 87
اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں
263

اللہ ری سپاہ خدا کی شکوہ و شاں

جھکنے لگے جنود ضلالت کے بھی نشاں

264

کمریں کسے علم کے تلے ہاشمی جواں

دنیا کی زیبِ دین کی عزت جہاں کی جاں

265

ایک ایک دودماں علی کا چراغ تھا

جس کی بہشت پر تھا تفوق و باغ تھا

Stanza 88
Toggle stanza 88
لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار
266

لڑکے وہ سات آٹھ سہی قد سمن عذار

گیسو کسی کے چہرے پہ دو اور کسی کے چار

267

حیدر کا رعب نرگسی آنکھوں سے آشکار

کھیلیں جو نیمچوں سے کریں شیر کا شکار

268

نیزوں کے سمت چاند سے سینے تنے ہوئے

آئے تھے عیدگاہ میں دولھا بنے ہوئے

Stanza 89
Toggle stanza 89
غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام
269

غرفوں سے حوریں دیکھ کے کرتی تھیں یہ کلام

دنیا کا باغ بھی ہے عجب پرفضا مقام

270

دیکھو درود پڑھ کے سوئے لشکرِ امام

ہم شکلِ مصطفی ہے یہی عرش اختتام

271

رایت لیے وہ لال خدا کے ولی کا ہے

اب تک جہاں میں ساتھ نبی و علی کا ہے

Stanza 90
Toggle stanza 90
دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں
272

دنیا سے اٹھ گئے تھے جو پیغمبرِ زماں

ہم جانتے تھے حسن سے خالی ہے اب جہاں

273

کیونکر سوئے زمیں نہ جھکے پیر آسماں

پیدا کیا ہے حق نے عجب حسن کا جواں

274

سب خوبیوں کا خاتمہ بس اس حسیں پہ ہے

محبوب حق ہیں عرش پہ سایہ زمیں پہ ہے

Stanza 91
Toggle stanza 91
ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام
275

ناگاہ تیر ادھر سے چلے جانب، امام

نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں

276

نکلے ادھر سے شہ کے رفیقانِ تشنہ کام

بے سر ہوئے پرون میں سر ان سپاہ شام

277

بالا کبھی تھی تیغ کبھی زیر تنگ تھی

ایک اک کی جنگ مالک اشتر کی جنگ تھی

Stanza 92
Toggle stanza 92
نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں
278

نکلے پے جہاد عزیزانِ شاہِ دیں

نعرے کیے کہ خوف سے ہلنے لگی زمیں

279

روباہ کی صفوں پہ چلے شیر خشم گیں

کھینچی جو تیغ بھول گئے صف کشی لعیں

280

بجلی گری پروں پہ شمال و جنوب کے

کیا کیا لڑے ہیں شام کے بادل میں ڈوب کے

Stanza 93
Toggle stanza 93
اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار
281

اللہ رے علی کے نواسوں کی کارزار

دونوں کے نیچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار

282

شانہ کٹا کسی نے جو روکا سپر پہ دار

گنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار

283

اتنے سوار قتل کیے تھوڑی دیر میں

دونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں

Stanza 94
Toggle stanza 94
وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں
284

وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں

آفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں

285

ڈر ڈر کے کاٹتے تھے کہاں کش کنائیاں

فوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں

286

شوکت ہو ہوتھی جنابِ امیر کی

طاقت دکھا دی شیروں نے زینب کے شیر کی

Stanza 95
Toggle stanza 95
کس حسن سے حسن کا جوانِ حسیں لڑا
287

کس حسن سے حسن کا جوانِ حسیں لڑا

گھر گھر کے صورت اسد خشم گیں لڑا

288

وہ دن کی بھول پیاس میں وہ مہ جبیں لڑا

سہرا الٹ کے یوں کوئی دولھا نہیں لڑا

289

حملے دکھادیے اسدِ کردگار کے

مقتل میں سوئے ازرق شامی کو مار کے

Stanza 96
Toggle stanza 96
چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ
290

چمکی جو تیغِ حضرت عباس عرش جاہ

روح الامیں پکارکے اللہ کی پناہ

291

ڈھالوں میں چھپ گیا پسرِ سعد روسیاہ

کشتوں سے بند ہو گی امن و اماں کی راہ

292

چھٹا جو شیر شوق میں دریا کی سیر کے

لے لی ترائی تیغوں کی موجوں میں تیر کے

Stanza 97
Toggle stanza 97
بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات
293

بے سر ہوئے موکلِ چشمہ فرات

ہل چل میں مثلِ موج صفوں کو نہ تھا ثبات

294

دریا میں گر کے فوت ہوئے کتنے بد صفات

گویا حباب ہو گئے تھے نقطۂ نبات

295

عباس بھر کے مشک کو یاں تشنہ لب لڑے

جس طرح نہر واں میں امیرِ عرب لڑے

Stanza 98
Toggle stanza 98
آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر
296

آفت بھی حرب و ضرب علی اکبر دلیر

غصے میں جھپٹے صید پہ جیسے گرسنہ شیر

297

سب سر بلند پست زبردست سب تھے زیر

جنگل میں چار سمت ہوئے زخمیوں کے دھیر

298

سر ان کے اترے تن سے جو تھے رن چڑھے ہوئے

عباس سے بھی جنگ میں کچھ تھے بڑھے ہوئے

Stanza 99
Toggle stanza 99
تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک
299

تلواریں برسیں صبح سے نصف النہار تک

ہلتی رہی زمین لرزتے رہے فلک

300

کانپا کیے پروں کو سمیٹے ہوئے ملک

نعرے نہ پھیر وہ تھے نہ وہ تیغوں کی تھی چمک

301

ڈھالوں کا دور برچھیوں کا اوج ہوگیا

ہنگامِ ظہر خاتمہ فوج ہوگیا

Stanza 100
Toggle stanza 100
لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے
302

لاشے سبھوں کے سبطِ نبی خود اٹھا کے لائے

قاتل کسی شہید کا سر کاٹنے نہ پائے

303

دشمن کو بھی نہ دوست کی فرقت خدا دکھائے

فرماتے تھے بچھڑ گئے سب ہم سے ہائے ہائے

304

اتنے پہاڑ گر پڑیں جس پر وہ خم نہ ہو

گر سو برس جیوں تو یہ مجمع بہم نہ ہو

Stanza 101
Toggle stanza 101
لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام
305

لاشے تو سب کے گرد تھے اور بیچ میں امام

ڈوبی ہوئی تھی خوں میں نبی کی قبا تمام

306

افسردہ و حزیں و پریشان و تشنہ کام

برچھی تھی دل کو فتح کے باجوں کی دھوم دھام

307

اعدا کسی شہید کا جب نام لیتے تھے

تھرا کے دونوں ہاتھوں سے دل تھام لیتے تھے

Stanza 102
Toggle stanza 102
پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ
308

پوچھو اسی سے جس کے جگر پر ہوں اتنے داغ

اک عمر کا ریاض تھا جس پر لٹا وہ باغ

309

فرصت نہ اب بکا سے ہے فراغ

جو گھر کی روشنی تھے وہ گل ہو گئے چراغ

310

پڑتی تھی دھوپ سب کے تنِ پاش پاش پر

چادر بھی اک نہ تھی علی اکبر کی لاش پر

Stanza 103
Toggle stanza 103
مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین
311

مقتل سے آئے خیمہ کے در پر شہ زمین

پر شدتِ عطش سے نہ تھی طاقتِ سخن

312

پردے پہ ہاتھ رکھ کے پکارے بصد محن

اصغر کو گاہوارے سے لے آئے اے بہن

313

پھر ایک بار اس مہ انور کو دیکھ لیں

اکبر کے شیرخوار برادر کو دیکھ لیں

Stanza 104
Toggle stanza 104
خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر
314

خیمے سے دوڑے آل پیمبر برہنہ سر

اصغر کو لائیں ہاتھوں پہ بانئے نوحہ گر

315

بچے کو لے کے بیٹھ گئے آپ خاک پر

منہ سے ملے جو ہونٹ تو چونکا وہ سیم بر

316

غم کی چھری چلی جگرِ چاک چاک پر

بٹھلا لیا حسین نے زانوئے پاک پر

Stanza 105
Toggle stanza 105
بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر
317

بچے سے ملتفت تھے شۂ آسماں سریر

تھا اس طرف کمیں میں بن کا بل شریر

318

مارا جو تین بھال کا اس بے حیا نے تیر

بس دفعتاً نشانہ ہوئی گردنِ صغیر

319

تڑپا جو شیرخوار تو حضرت نے آہ کی

معصوم ذبح ہو گیا گودی میں شاہ کی

Stanza 106
Toggle stanza 106
جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار
320

جس دم تڑپ کے مر گیا وہ طفلِ شیر خوار

چھوٹی سی قبر تیغ سے کھودی بحالِ زار

321

بچے کو دفن کرکے پکارا وہ ذی وقار

اے خاکِ پاک حرمتِ مہماں نگاہ دار

322

دامن میں رکھ اسے جو محبت علی کی ہے

دولت ہے فاطمہ کی امانت علی کی ہے

Stanza 107
Toggle stanza 107
یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام
323

یہ کہہ کے آئے فوج پہ تولے ہوئے حسام

آنکھیں لہو تھیں رونے سے چہرہ تھا سرخ فام

324

زیبِ بدن گئے تھے بصد عزو احتشام

پیراہنِ مطہر پیغمبر انام

325

حمزہ کی ڈھال تیغِ شۂ لافتا کی تھی

بر میں زرہ جناب رسول خدا کی تھی

Stanza 108
Toggle stanza 108
رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار
326

رستم تھا درع پوش کہ پاکھر میں راہوار

جرار بردبار سبک رو وفا شعار

327

کیا خوشنما تھا زیں طلا کار و نقرہ کار

اکسیر تھا قدم کا جسے مل گیا غبار

328

خوش خو تھا خانہ زاد تھا دلدل نژاد تھا

شبیر بھی سخی تھے فرس بھی جواد تھا

Stanza 109
Toggle stanza 109
گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں
329

گرمی کا روزِ جنگ کی کیونکر کروں بیاں

ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں

330

وہ لوں کہ الحذر وہ حرارت کہ الاماں

رن کی زمیں تو سرخ تھی اور زرد آسماں

331

آبِ خنک کی خلق ترستی تھی خاک پر

گویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر

Stanza 110
Toggle stanza 110
وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب
332

وہ دونوں وہ آفتاب کی حدت وہ تاب و تب

کالا تھا رنگ دھوپ دن کا مثالِ شب

333

خود نہرِ حلقہ کے سبھی سوکھے ہوئے تھے لب

خیمے تھے جو حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب

334

اڑتی تھی خاک خشک تھا چشمہ حیات کا

کھولا ہوا تھا دھوپ سے پانی فرات کا

Stanza 111
Toggle stanza 111
جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام
335

جھیلوں سے چارپائے نہ اٹھتے تھے تابہ شام

مسکن میں مچھلیوں کے سمندر کا تھا مقام

336

آہو جو کاہلے تھے تو چیتے سیاہ فام

پتھر پگھل کے رہ گئے تھے مثلِ مومِ خام

337

سرخی اڑی تھی پھولوں سے سبزہ گیاہ سے

پانی کنوؤں میں اترا تھا سائے کی چاہ سے

Stanza 112
Toggle stanza 112
کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار
338

کوسوں کسی شجر میں نہ گل تھے نہ برگ و بار

ایک ایک نخل جل رہا تھا صورتِ چنار

339

ہنستا تھا کوئی گل نہ مہکتا تھا سبزہ زار

کانٹا ہوئی تھی پھول کی ہر شاخ باردار

340

گرمی یہ تھی کی زیست سے دل سب کے سرد تھے

پتے بھی مثل چہرۂ مدقوق زرد تھے

Stanza 113
Toggle stanza 113
آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور
341

آبِ رواں سے منہ نہ اٹھاتے تھے جانور

جنگل میں چھپتے پھرتے طائر ادھر ادھر

342

مردم تھی سات پروں کے اندر عرق میں تر

خسخانۂ مژہ سے نکلتی نہ تھی نظر

343

گر چشم سے نکل کے ٹھہر جائے راہ میں

پڑ جائیں لاکھوں آبلے پائے نگاہ میں

Stanza 114
Toggle stanza 114
شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے
344

شیر اٹھتے تھے نہ دھوپ کے مارے کچھار سے

آہو نہ منہ نکالتے تھے سبزہ زار سے

345

آئینہ مہر کا تھا مکدر غبار سے

گردوں کو تپ چڑھی تھی زمیں کے بخار سے

346

گرمی سے مضطرب تھا زمانہ زمین پر

بھن جاتا تھا جو گرتا تھا دانہ زمین پر

Stanza 115
Toggle stanza 115
گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں
347

گرداب پر تھا شعلۂ جوالہ کا گماں

انگارے تھے حباب تو پانی شرر فشاں

348

منہ سے نکل پڑی تھی ہر اک موج کی زباں

تہ پہ تھے سب نہنگ مگر تھی لبوں پہ جاں

349

پانی تھا آگ گرمئ روزِ حساب تھی

ماہی جو سیخ موج تک آئی کباب تھی

Stanza 116
Toggle stanza 116
آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب
350

آئینہ فلک کو نہ تھی تاب تب کی تاب

چھپنے کو برق چاہتی تھی دامنِ سحاب

351

سب سے ہوا تھا گرم مزاجوں کو اضطراب

کافورِ صبح ڈھونڈھتا پھرتا تھا آفتاب

352

بھڑکی تھی آگ گنبد چرخِ اثیر میں

بادل چھپے تھے سب کرہ زمہریر میں

Stanza 117
Toggle stanza 117
اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم
353

اس دھوپ میں کھڑے تھے اکیلے شہ امم

نے دامن رسول تھا نے سایۂ علم

354

شعلے جگر سے آہ کے اٹھتے تھے دمبدم

اودے تھے لب زبان میں کانٹے کمر میں خم

355

بے آب تیسرا تھا جو دن میہمان کو

ہوتی تھی بات بات میں لکنت زبان کو

Stanza 118
Toggle stanza 118
گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
356

گھوڑوں کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار

آتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطار

357

پیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار

سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکاؤ بار بار

358

پانی کا دام و دد کو پلانا ثواب تھا

اک ابن فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا

Stanza 119
Toggle stanza 119
سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر
359

سر پر لگائے تھا پسرِ سعد چتر زر

خادم کئی تھے مروحہ جنباں ادھر ادھر

360

کرتے تھے آب پاش مکرر زمیں کو تر

فرزندِ فاطمہ پہ نہ تھا سایۂ شجر

361

وہ دھوپ دشت کی وہ جلال آفتاب کا

سونلا گیا تھا رنگ مبارک جناب کا

Stanza 120
Toggle stanza 120
کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب
362

کہتا تھا ابنِ سعد کہ اے آسماں جناب

بیعت جو کیجیے اب بھی تو حاضر ہے جامِ آب

363

فرماتے تھے حسین کہ او خانماں خراب

دریا کو خاک جانتا ہے ابنِ بوتراب

364

فاسق ہے پاس کچھ تجھے اسلام کا نہیں

آبِ بقا ہو یہ تو مرے کام کا نہیں

Stanza 121
Toggle stanza 121
کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل
365

کہہ دوں تو خوان لے کے خود آئیں ابھی خلیل

چاہوں تو سلسبیل کو دم میں کروں سبیل

366

کیا جام آب کا تو مجھے دے گا اور ذلیل

بے آبرو خسیس ستمگر دنی بخیل

367

جس پھول پر پڑے ترا سایہ وہ بو نہ دے

کھلوائے فصد تو تو یا کبھی رگ لہو نہ دے

Stanza 122
Toggle stanza 122
گر جم کا نام لوں تو ابھی جام لے کے آئے
368

گر جم کا نام لوں تو ابھی جام لے کے آئے

کوثر یہیں رسول کا احکام لے کے آئے

369

روح الامیں زمیں پہ مرا نام لے کے آئے

لشکر ملک کا فتح کا پیغام لے کے آئے

370

چاہوں جو انقلاب تو دنیا تمام ہو

الٹے زمین یوں کہ نہ کوفہ نہ شام ہو

Stanza 123
Toggle stanza 123
فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار
371

فرما کے یہ نگاہ جو کی سوے ذوالفقار

تھرا کے پچھلے پانوں ہٹا وہ ستم شعار

372

مظلوم پر صفوں سے چلے تیر بے شمار

آواز کوسِ حرب ہوئی آسماں کے پار

373

نیزے اٹھا کے جنگ پہ اسوار تل گئے

کالے نشان فوجِ سیہ رو کے کھل گئے

Stanza 124
Toggle stanza 124
وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش
374

وہ دھوم طبلِ جنگ کی وہ بوق کا خروش

کر ہو گئے تھے شور سے کروبیوں کے گوش

375

تھرائی یوں زمیں کہ اڑے آسماں کے ہوش

نیزے سے بلا کے نکلے سواران درع پوش

376

ڈھالیں تھیں یوں سروں پہ سواران شوم کے

صحرا میں جیسے آئے گھٹا جھوم جھوم کے

Stanza 125
Toggle stanza 125
لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے
377

لو پڑھ کے چند شعرِ جز شاہ دیں بڑھے

گیتی کے تھام لینے کو روح الامیں بڑھے

378

مانندِ شیرِ نہ کہیں ٹھہرے کہیں بڑھے

گویا علی الٹے ہوئے آستیں بڑھے

379

جلوہ دیا جری نے عروسِ مصاف کو

مشکل کشا کی تیغ نے چھوڑا غلاف کو

Stanza 126
Toggle stanza 126
کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا
380

کاٹھی سے اس طرح ہوئی وہ شعلہ خو جدا

جیسے کنارِ شوق سے ہو خوب رو جدا

381

مہتاب سے شعاع جدا گل سے بو جدا

سینے سے دم جدا رگِ جاں سے لہو جدا

382

گرجا جو رعد ابر سے بجلی نکل پڑی

محمل میں دم جو گھٹ گیا لیلیٰ نکل پڑی

Stanza 127
Toggle stanza 127
آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح
383

آئے حسین یوں کہ عقاب آئے جس طرح

آہو پہ شیرِ شرزہ غاب آئے جس طرح

384

تابندہ برق سوئے سحاب آئے جس طرح

دوڑا فرس نشیب میں آب آئے جس طرح

385

یوں تیغِ تیز کوند گئی اس گروہ پر

بجلی تڑپ کے گرتی ہے جس طرح کوہ پر

Stanza 128
Toggle stanza 128
گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے
386

گرمی میں تیغ برق جو چمکی شرر اڑے

جھونکا چلا ہوا کا جس سن سے تو سر اڑے

387

پرکالۂ سپر جو ادھر اور ادھر اڑے

روح الامیں نے صاف یہ جانا کہ پر اڑے

388

ظاہر نشان اسم عزیمت اثر ہوئے

جن پر علی لکھا تھا وہی پر سپر ہوئے

Stanza 129
Toggle stanza 129
جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے
389

جس پر چلی وہ تیغ دو پارا کیا اسے

کھینچتے ہی چار ٹکڑے دوبارا کیا کیا

390

واں تھی جدھر اجل نے اشارا کیا اسے

سختی بھی کچھ پڑی تو گوارا کیا اسے

391

نے زین تھا فرس پہ نہ اسوار زین پر

کڑیاں زرہ کی بکھری ہوئی تھیں زمین پر

Stanza 130
Toggle stanza 130
آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی
392

آئی چمک کے غول پہ جب سر گرا گئی

دم میں جمی صفوں کو برابر گرا گئی

393

ایک ایک فقر تن کو زمین پر گرا گئی

سیل آئی زور شور سے جب گھر گرا گئی

394

آپہونچا اس کے گھاٹ پہ جو مر کے رہ گیا

دریا لہو کا تیغ کے پانی سے بہ گیا

Stanza 131
Toggle stanza 131
یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں
395

یہ آبرو یہ شعلہ فشانی خدا کی شاں

396

پانی میں آگ آگ میں پانی خدا کی شاں

397

خاموش اور تیز زبانی خدا کی شاں

398

استادہ آب میں یہ روانی خدا کی شاں

399

لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا

400

لہرائی جب اتر گیا دریا بڑھا ہوا

401

نیزوں تھا ذوالفقار کا پانی چڑھا ہوا

Stanza 132
Toggle stanza 132
قلب و جناح میمنہ و میسرا تباہ
402

قلب و جناح میمنہ و میسرا تباہ

گردن کشانِ امت خیر الور تباہ

403

جنباں زمیں صفیں تہ و بالا پرا تباہ

بے جان جسم روحِ مسافر سرا تباہ

404

بازار بند ہو گئے اکھڑ گئے

فوجیں ہوئی تباہ محلے اجڑ گئے

Stanza 133
Toggle stanza 133
اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی
405

اللہ ری تیزی و برش اس شعلہ رنگ کی

چمکی سوار پر تو خبر لائی تنگ کی

406

پیاسی فقط لہو کی طلب گار جنگ کی

حاجت نہ سان کی تھی اسے اور نہ سنگ کی

407

خوں سے فلک کو لاشوں سے مقتل کو بھرتی تھی

سو بار روم میں چرخ پہ چڑھتی اترتی تھی

Stanza 134
Toggle stanza 134
تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے
408

تیغِ خزاں تھی گلشنِ ہستی سے کیا اسے

گھر جس خود اجڑ گیا بستی سے کیا اسے

409

وہ حق نما تھی کفر پرستی سے کیا اسے

جو آپ سر بلند ہو پستی سے کیا اسے

410

کہتے ہیں راستی جسے وہ خم کے ساتھ ہے

تیزی زبان کے ساتھ برش دم کے ساتھ

Stanza 135
Toggle stanza 135
سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہو ہوا
411

سینے پہ چل گئی تو کلیجہ لہو ہوا

گویا جگر میں موت کا ناخن فرو ہوا

412

چمکی تو الامان کا غل چار سو ہوا

جو اس کے منہ پہ آگیا بے آبرو ہوا

413

رکتا تھا ایک وار نہ دس سے نہ پانچ سے

چہرے سیاہ ہو گئے تھے اس کی آنچ سے

Stanza 136
Toggle stanza 136
بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی
414

بچھ بچھ گئیں صفوں پہ صفیں وہ جہاں چلی

چمکی تو اس طرف ادھر آئی وہاں چلی

415

دونوں طرف کی فوج پکاری کہاں چلی

اس نے کہا یہاں وہ پکارا وہاں چلی

416

منہ کس طرف ہے تیغ زنوں کو خبر نہ تھی

سر گر رہے تھے اور تنوں کو خبر نہ تھی

Stanza 137
Toggle stanza 137
دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ
417

دشمن جو گھاٹ پر تھے وہ دھوتے تھے جاں سے ہاتھ

گردن سے سر الگ تھا جدا تھے نشاں سے ہاتھ

418

توڑا کبھی جگر کبھی چھیدا سناں سے ہاتھ

جب کٹ کے گر پڑیں تو پھر آئیں کہاں سے ہاتھ

419

اب ہاتھ دستیاب نہیں منہ چھپانے کو

ہاں پاؤں رہ گئے ہیں فقط بھاگ جانے کو

Stanza 138
Toggle stanza 138
اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا
420

اللہ رے خوفِ تیغ شہ کائنات کا

زہرہ تھا آب خوف کے مارے فرات کا

421

دریا پہ حال یہ تھا ہر اک بد صفات کا

چارہ فرار کا تھا نہ یارا ثبات کا

422

غل تھا کہ برق گرتی ہے ہر درع پوش پر

بھاگو خدا کے قہر کا دریا ہے جوش پر

Stanza 139
Toggle stanza 139
ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر
423

ہر چند مچھلیاں تھیں زرہ پوش سربسر

منہ کھولے چھپی پھرتی تھیں لیکن ادھر ادھر

424

بھاگی تھی موج چھوڑ کے گرداب کی سپر

تھے تہ نشیں نہنگ مگر آب تھے جگر

425

دریا نہ تھمتا خوف سے اس برق تاب کے

لیکن پڑے تھے پاؤں میں چھالے حباب کے

Stanza 140
Toggle stanza 140
آیا خدا کا قہر جدھر سن سے آگئی
426

آیا خدا کا قہر جدھر سن سے آگئی

کانوں میں الاماں کی صدا رن سے آگئی

427

دو کرکے خود زین پہ جوشن سے آگئی

کھنچتی ہوئی زمین پہ توسن سے آگئی

428

بجلی گری جو خاک پہ تیغِ جناب کی

آی صدا زمین سے یا بوتراب کی

Stanza 141
Toggle stanza 141
پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے
429

پس پس کے کشمکش سے کماندار مر گئے

چلے تو سب چڑھے رہے بازو اتر گئے

430

گوشے کٹے کمانوں کے تیروں کے پر گئے

مقتل میں ہو سکا نہ گذرا گذر گئے

431

دہشت سے ہوش اڑ گئے تھے مرغِ وہم کے

سوفار کھول دیتے تھے منہ سہم سہم کے

Stanza 142
Toggle stanza 142
تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور
432

تیر افگنی کا جن کی ہر اک شہر میں تھا شور

گوشہ کہیں نہ ملتا تھا ان کو سوائے گور

433

تاریک شب میں جن کا نشانہ تھا پائے مور

لشکر میں خوف جاں نے انہیں کردیا تھا کور

434

ہوش اڑ گئے تھے فوجِ ضلالت نشاں کے

پیکاں میں زہ کو رکھتے تھے سوفار جاں کے

Stanza 143
Toggle stanza 143
صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے
435

صف پر صفیں پروں پر پرے پیش و پس گرے

اسوار پر سوار فرس پر فرس گرے

436

اٹھ کر زمیں سے پانچ جو بھاگے تو دس گرے

مخبر پہ پیک پیک پر مر کر گرے

437

ٹوٹے پر شکست بنائے ستم ہوئی

دنیا میں اس طرح کی بھی افتاد کم ہوئی

Stanza 144
Toggle stanza 144
غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا
438

غصے تھا شیرِ شہ زۂ صحرائے کربلا

چھوڑے تھا گرگ منزل و ماوائے کربلا

439

تیغ علی تھی معرکہ آرائے کربلا

خالی نہ تھی سروں سے کہیں جائے کربلا

440

بستی بسی تھی مردوں کے قریے اجاڑ تھے

لاشوں کی تھی زمین سروں کے پیاز تھے

Stanza 145
Toggle stanza 145
غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے
441

غازی نے رکھ لیا تھا جو شمشیر کے تلے

تھی طرفہ کشمکش فلک پیر کے تلے

442

چلے سمٹ کے جاتے تھے رہ گیر کے تلے

چھپتی تھی سر جھکا کے کماں تیر کے تلے

443

اس تیغِ بے دریغ کا جلوہ کہاں نہ تھا

سہمے تھے سب پہ گوشۃ امن و اماں نہ تھا

Stanza 146
Toggle stanza 146
چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
444

چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ

رہ رہ کے ابرِشام سے تھی بارشِ خدنگ

445

وہ شور و صیحہ ابلق و سرنگ

وہ لوں وہ آفتاب کی تابندگی وہ جنگ

446

پھنکتا تھا دشتِ کیں کوئی دل تھا نہ چین سے

اس دن کی تاب و تب کوی پوچھے حسین سے

Stanza 147
Toggle stanza 147
سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر
447

سقے پکارتے تھے یہ مشکیں لیے ادھر

بازارِ جنگ گرم ہے ڈھلتی ہے دوپہر

448

پیاسا جو ہو وہ پانی سے ٹھنڈا کرے جگر

مشکوں پہ دور دور کے گرتے تھے اہلِ شر

449

کیا آگ لگ گئی تھی جہانِ خراب کو

پیتے تھے سب حسین تڑپتے تھے آب کو

Stanza 148
Toggle stanza 148
گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر
450

گرمی میں پیاس تھی کہ پھینکا جاتا تھا جگر

اف کبھی کہا کبھی چہرے پہ لی سپر

451

آنکھوں میں ٹیس اٹھی جو پڑی دھوپ پر نظر

جھپٹے کبھی ادھر کبھی حملہ کیا ادھر

452

کثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پر

موتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر

Stanza 149
Toggle stanza 149
سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے
453

سیراب چھپتے پھرتے تھے پیاسے کی جنگ سے

چلتی تھی ایک تیغِ علی لاکھ رنگ سے

454

چمکی جو فرق پر تو نکل آئی تنگ سے

رکتی تھی نے سپر سے نہ آہن نہ سنگ سے

455

خالق نے منہ دیا تھا عجب آب و تاب کا

خود اس کے سامنے تھا پھپھولا حباب کا

Stanza 150
Toggle stanza 150
سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر
456

سہمے ہوئے تھے یوں کہ کسی کو نہ تھی خبر

پیکاں کدھر ہے تیر کا مزار ہے کدھر

457

مردم کی کشمکش سے کمانوں کو تھا یہ ڈر

گوشوں کی ڈھونڈھتی تھی زمیں پر جھکا کے سر

458

ترکش سے کھینچے تیر کوئی یہ جگر نہ تھا

سیسر پہ جس نے ہاتھ رکھا تن پہ سر نہ تھا

Stanza 151
Toggle stanza 151
گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی
459

گھوڑوں کی وہ تڑپ وہ چمک تیغ تیز کی

سوسو صفیں کچل گئیں جب جست و خیز کی

460

لاکھوں میں تھی نہ ایک کو طاقت ستیز کی

تھی چار سمت دھوم گریزا گریز کی

461

آری جو ہو گئی تھیں وہ سب ذوالفقار سے

تیغوں نے منہ پھرا لیے تھے کارزار سے

Stanza 152
Toggle stanza 152
گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد
462

گھوڑوں کی جست و خیز سے اٹھا غبار زرد

گردوں میں مثل شیشہ ساعت بھری تھی گرد

463

تودا بنا تھا خاک کا مینائے لاجورد

کوسوں سیاہ تار تھا شب وادی نبرد

464

پنہاں نظر سے نیرگیتی فروز تھا

ڈھلتی تھی دوپہر کہ نہ شب تھا نہ روز تھا

Stanza 153
Toggle stanza 153
اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی
465

اللہ ری لڑائی میں شوکت جناب کی

سونلائے رنگ میں تھی ضیا آفتاب کی

466

سوکھے وہ لب کہ پنکھڑیاں تھیں گلاب کی

تصویر ذو الجناح پہ تھی بو تراب کی

467

ہوتا تھا غل جو کرتے تھے نعرے لڑائی میں

بھاگو کہ شیر گونج رہا ہے ترائی میں

Stanza 154
Toggle stanza 154
پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی
468

پھر تو یہ غل ہوا کہ دہائی حسین کی

اللہ کا غضب تھا لڑائی حسین کی

469

دریا حسین کا ہے ترائی حسین کی

دنیا حسین کی ہے خدائی حسین کی

470

بیڑا بچایا آپ نے طوفاں سے نوح کا

اب رحم واسطہ ملے اکبر کی روح کا

Stanza 155
Toggle stanza 155
اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں
471

اکبر کا نام سن کے جگر پر لگی سناں

آنسو بھر آئے روک لی رہوار کی عناں

472

مڑکر پکارے لاش پسر گوشۂ زماں

تم نے نہ دیکھی جنگِ پدر اے پدر کی جاں

473

قسمیں تمہاری روح کی یہ لوگ دیتے ہیں

لو اب تو ذوالفقار کو ہم روک لیتے ہیں

Stanza 156
Toggle stanza 156
چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد
474

چلایا ہاتھ مار کے زانو پہ ابنِ سعد

اے وا فضیحاتا یہ ہزیمت ظفر کے بعد

475

زیبا دلاوروں کو نہیں ہے خلافِ وعد

اک پہلوان یہ سنتے ہی گرجا مثالِ رعد

476

نعرہ کیا کہ کرتا ہوں حملہ امام پر

اے ابنِ سعد لکھ لے ظفر میرے نام پر

Stanza 157
Toggle stanza 157
بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر
477

بالا قدو کلفت و تنو مند و خیرہ سر

روئیں تن و سیاہ دروں، آہنی کمر

478

ناوک پیام مرگ کے ترکش اجل کا گھر

تیغیں ہزار ٹوٹ گئیں جس پہ وہ سپر

479

دل میں بدی طبیعتِ بد میں بگاڑ تھا

گھوڑے پہ تھا شقی کہ ہوا پر پہاڑ تھا

Stanza 158
Toggle stanza 158
ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پیل
480

ساتھ اس کے اور اسی قد و قامت کا ایک پیل

آنکھیں کبود رنگ سیہ ابرووں پہ بل

481

بدکار بد شعار ستمگار و پرد غل

جنگ آزما بھگائے ہوئے لشکروں کے دل

482

بھالے لیے کسے ہوئے کمریں ستیز پر

نازاں وہ ضرب گرز پہ یہ تیغ تیز پر

Stanza 159
Toggle stanza 159
کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے
483

کھنچ جائے شکلِ حرب وہ تدبیر چاہیے

دشمن بھی سب مقر ہوں وہ تقریر چاہیے

484

تیزی زبان میں صورتِ شمشیر چاہیے

فولاد کا قلم دمِ تحریر چاہیے

485

نقشہ کھنچے گا صاف صفِ کار زار کا

پانی دوات چاہتی ہے ذوالفقار کا

Stanza 160
Toggle stanza 160
لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی
486

لشکر میں اضطراب تھا فوجوں میں کھلبلی

ساونت بے حواس ہراسان دھنی بلی

487

ڈر تھا کہ لو حسین بڑھے تیغ اب چلی

غل تھا ادھر ہیں مرحب و عنتر ادھر علی

488

کون آج سر بلند ہو اور کون پست ہو؟

کس کی ظفر ہو دیکھیے کس کی شکست ہو؟

Stanza 161
Toggle stanza 161
آواز دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں
489

آواز دی یہ ہاتفِ غیبی نے تب کہ ہاں

بسم اللہ اے امیر عرب کے سرور جاں

490

اٹھی علی کی تیغ دو دم چاٹ کر زباں

بیٹھے درست ہو کے فرس پہ شۂ زماں

491

واں سے وہ شور بخت بڑھا نعرہ مار کے

پانی بھر آیا منہ میں ادھر ذوالفقار کے

Stanza 162
Toggle stanza 162
لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے
492

لشکر کے سب جواں تھے لڑائی میں جی لڑائے

وہ بد نظر تھا آنکھوں میں آنکھیں ادھر گڑائے

493

ڈھالیں لڑیں سپاہ کی یا ابر گڑگڑائے

غصے میں آئے گھوڑے نے کبھی دانت کڑکڑائے

494

ماری جو ٹاپ ڈر کے ہٹے ہر لعیں کے پاؤں

ماہی پہ ڈگمگائے گاوِ زمیں کے پاؤں

Stanza 163
Toggle stanza 163
نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند
495

نیزہ ہلا کے شاہ پر آیا وہ خود پسند

مشکل کشا کے لال نے کھولے تمام بند

496

تیر و کماں سے بھی نہ وا جب وہ بہرہ مند

چلا ادھر کھنچا کہ چلی تیغ سربلند

497

وہ تیر کٹ گئے جو در آتے تھے سنگ میں

گوشے نہ تھے کماں میں منہ پیکاں خدنگ میں

Stanza 164
Toggle stanza 164
ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر
498

ظالم اٹھا کے گرز کو آیا جناب پر

طاری ہوا غضب خلفِ بوتراب نے

499

مارا جو ہاتھ پاؤں جماکر رکاب پر

بجلی گری شقی کے سرِ پر عتاب پر

500

بد ہاتھ میں شکست ظفر نیک ہاتھ میں

ہاتھ اڑ کے جا پڑا کئی ہاتھ ایک ہاتھ میں

Stanza 165
Toggle stanza 165
کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار
501

کچھ دست پاچہ ہو کے چلا تھا وہ نابکار

پنجے سے پر اجل کے کہاں جا سکے شکار

502

واں اس نے بائیں ہاتھ میں لی تیغِ آبدار

یاں سر سے آئی پشت کے فقروں پہ ذوالفقار

503

قرباں تیغِ تیز شۂ نامدار کے

دو ٹکڑے تھے سوار کے دو رہوار کے

Stanza 166
Toggle stanza 166
پھر دوسرے پہ گرز اٹھا کر پکارے شاہ
504

پھر دوسرے پہ گرز اٹھا کر پکارے شاہ

کیوں ضرب ذوالفقار پہ تونے بھی کی نگاہ

505

سرشار تھا شرابِ تکبر سے رو سیاہ

جاتا کہاں کہ موت تو روکے ہوئے تھی راہ

506

غل تھا اسے اجل نے بڑھایا جو گھیر کے

لو دوسرا شکار چلا منہ میں شیر کے

Stanza 167
Toggle stanza 167
آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا
507

آتا تھا وہ کہ اسپِ شۂ دین پلٹ پڑا

ثابت ہوا کہ شیرِ گرسنہ جھپٹ پڑا

508

تیغہ شقی نے ڈھال پہ مارا تو پٹ پڑا

ضربت پڑی کی گنبد دوار پھٹ پڑا

509

پیوندِ صدر زین جرو فرق ہوگیا

گھوڑا زمین میں سینے تلک غرق ہوگیا

Stanza 168
Toggle stanza 168
پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر
510

پریوں سے قاف چھوٹ گیا اور جنوں سے گھر

شیروں سے دشتِ گرگ سے بن اژدوں سے در

511

شاہیں و کبک چھپ گئے اک جا ملا کے سر

اڑ کر گرے جزیروں میں دریا کے جانور

512

سمٹے پہاڑ منہ کو جا دامن سے ڈھانپ کے

سیمرغ نے گرا دیے پر کانپ کانپ کے

Stanza 169
Toggle stanza 169
آئی صدائے غیب کہ شبیر مرحبا
513

آئی صدائے غیب کہ شبیر مرحبا

اس ہاتھ کے لیے تھی یہ شمشیر مرحبا

514

یہ آبرو یہ جنگ یہ توقیر مرحبا

دکھلا دی ماں کے دودھ کی تاثیر مرحبا

515

غالب کیا خدا نے تجھے کائنات پر

بس خاتمہ جہاد کا ہے تیری ذات پر

Stanza 170
Toggle stanza 170
بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس
516

بس اب نہ کردِ غا کی ہوس اے حسین بس

دم لے ہوا میں چند نفس اے حسین بس

517

گرمی سے ہانپتا ہے فرس اے حسین بس

وقتِ نمازِ عصر ہے بس اے حسین بس

518

پیاسا لڑا نہیں کوئی یوں اژدھام میں

اب اہتمام چاہیے امت کے کام میں

Stanza 171
Toggle stanza 171
لبیک کہہ کے تیغ رکھی شہ نے میان میں
519

لبیک کہہ کے تیغ رکھی شہ نے میان میں

پلٹی سپاہ آئی قیامت جہان میں

520

پر سرکشوں نے تیر ملائے میان میں

پھر گل گئے لپٹ کے پھرہرے نشان میں

521

بیکس حسین ظلم شعاروں میں گھر گئے

مولا تمہارے لاکھ سواروں میں گھر گئے

Stanza 172
Toggle stanza 172
سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر
522

سینے پہ سامنے سے چلے دس ہزار تیر

چھاتی پہ لگ گئے کئی سو ایک بار تیر

523

پہلو کے پار برچھیاں سینے کے پار تیر

پڑتے دس جو کھینچتے تھے تن سے چار تیر

524

یوں تھے خدنگ ظل الٰہی کے جسم پر

جس طرح خانہ ہوتے ہیں ساہی کے جسم پر

Stanza 173
Toggle stanza 173
چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر
525

چلتے تھے چار سمت سے بھالے حسین پر

ٹوٹے ہوئے تھے برچھیوں والے حسین پر

526

قاتل تھے خنجروں کو نکالے حسین پر

یہ دکھ نبی کی گود کے پالے حسین پر

527

تیرِ ستم نکالنے والا کوئی نہ تھا

گرتے تھے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا

Stanza 174
Toggle stanza 174
لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے
528

لاکھوں میں ایک بیکس و دلگیر ہائے ہائے

فرزندِ فاطمہ کی یہ توقیر ہائے ہائے

529

بھالے وہ اور وہ پہلو شبیر ہائے ہائے

وہ زہر میں بجھائے ہوئے تیر ہائے ہائے

530

غصے میں تھے جو فوج کے سرکش بھرے ہوئے

خالی کیے حسین پہ ترکش بھرے ہوئے

Stanza 175
Toggle stanza 175
وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ
531

وہ گرد تھے جو بھاگتے تھے وقتِ جنگ

اک سنگ دل نے پاس سے مارا جبیں پہ سنگ

532

صدمے سے زرد ہو گیا سبطِ نبی کا رنگ

ماتھے پہ ہاتھ تھا کہ گلے پر لگا خدنگ

533

تھاما گلا جناب نے ماتھے کو چھوڑ کے

نکلا وہ تیر حلقِ مبارک کو توڑ کے

Stanza 176
Toggle stanza 176
لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم
534

لکھا ہے تین پھال کا تھا ناوکِ ستم

منہ کھل گیا الٹ گئی گردن رکا جو دم

535

کھینچی سری گلے کی طرف سے بچشم نم

بھالیں نکالیں پشت کی جانب سے ہو کے خم

536

ابلا جو خوں نکلتا ہوا دم شہر گیا

چلو رکھا ہو زخم کے نیچے تو بھر گیا

Stanza 177
Toggle stanza 177
دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں
537

دشمن تھا شہ کا اعور سلمیٰ عد دے دیں

سر پر لگائی تیغ کہ شق ہو گئی جبیں

538

ماری جگر پہ ابنِ انس نے سنانِ کیں

بھاگا کڑو کے کوکھ میں برچھی کو اک لعیں

539

گھوڑے پہ ڈگمگا کے جو حضرت نے آہ کی

تھرا گئی ضریح رسالت پناہ کی

Stanza 178
Toggle stanza 178
گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب
540

گرتے ہیں اب حسین فرس پر سے ہے غضب

نکلی رکاب پائے مطہر سے ہے غضب

541

پہلو شگافتہ ہوا خنجر سے ہے غضب

غش میں جھکے عمامہ گرا سر سے ہے غضب

542

قرآں رحل زیں سے سرِ فرش گر پڑا

دیوارِ کعبہ بیٹھ گئی عرش گر پڑا

Stanza 179
Toggle stanza 179
جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
543

جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا

امت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمدا

544

اس وقت کون حق محبت کرے ادا

ہے ہے یہ ظلم اور دو عالم کا مقتدا

545

انیس سو ہیں زخم تن چاک چاک پر

زینب نکل حسین تڑپتا ہے خاک پر

Stanza 180
Toggle stanza 180
پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر
546

پردہ الٹ کے بنتِ علی نکلی ننگے سر

لرزاں قدم، خمیدہ کمر، غرق خون جگر

547

چاروں طرف پکارتی تھی سر کو پیٹ کر

اے کربلا بتا، ترا مہمان ہے کدھر

548

اماں قدم اب اٹھتے نہیں تشنہ کام کے

پہونچا دو لاش پر مرے بازو کو تھام کے

Stanza 181
Toggle stanza 181
اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ
549

اس وقت سب جہاں مری آنکھوں میں ہے سیاہ

لوگو! خدا کے واسطے مجھ کو بتاؤ راہ

550

سید کدھر تڑپتا ہے اماں کدھر ہیں آہ؟

کس سمت ہے نبی کے نواسے کی قتل گاہ؟

551

شعلے دل و جگر سے نکلتے ہیں آہ کے

یہ کون نام لیتا ہے میرا کراہ کے

Stanza 182
Toggle stanza 182
کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ
552

کس نے صدا یہ دی کہ بہن اس طرف نہ آؤ

بس اب سفر قریب ہے للہ گھر میں جاؤ

553

اب ڈوبتی ہے آل رسولِ خدا کی ناؤ

یا مرتضیٰ غریبوں کے بیڑے کو تم بچاؤ

554

اب چھوڑ یو نہ دشتِ بلا میں حسین کو

یا فاطمہ چھپا لو ردا میں حسین کو

Stanza 183
Toggle stanza 183
بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر
555

بنتِ علی تو پیٹتی پھرتی تھی ننگے سر

کٹتا تھا نورِ چشم علی کا گلا ادھر

556

زینب کو منع کرتے تھے ہر چند اہلِ شر

لیکن وہ دوڑی جاتی تھی تھامے ہوئے جگر

557

پہونچی جو قتل گاہ میں اس روک ٹوک پر

دیکھا سرِ حسین کو نیزے کی نوک پر

Stanza 184
Toggle stanza 184
نیزے کے نیچے جا کے پکاری وہ سوگوار
558

نیزے کے نیچے جا کے پکاری وہ سوگوار

سید تری لہو بھری صورت کے میں نثار

559

ہے ہے گلے پہ چل گئی بھیا چھری کی دھار

بھولے بہن کو اے اسدِ حق کے یادگار

560

صدقے گئی لٹا گئے گھر وعدہ گاہ میں

جنبش لبوں کو ہے ابھی یاد آلہ میں

Stanza 185
Toggle stanza 185
بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو
561

بھیا سلام کرتی ہے خواہر جواب دو

چلا رہی ہے دخترِ حیدر جواب دو

562

سوکھی زبان سے بہرِ پیمبر جواب دو

کیونکر جئے گی زینبِ مضطر جواب دو

563

جز مرگ دردِ ہجر کا چارا نہیں کوئی

میرا تو اب جہاں میں سہارا نہیں کوئی

Stanza 186
Toggle stanza 186
بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں
564

بھیا میں اب کہاں سے تمہیں لاؤں کیا کروں

کیا کہہ کے اپنے دل کو میں سمجھاؤں، کیا کروں؟

565

کس کی دُہائی دوں کسے چلاؤں کیا کروں؟

بستی پرائے ہے ، میں کدھر جاؤں کیا کروں؟

566

دنیا تمام اجڑ گئی، ویرانہ ہو گیا

بیٹھوں کہاں کہ گھر تو عزا خانہ ہو گیا

Stanza 187
Toggle stanza 187
ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی
567

ہے ہے تمہارے آگے نہ خواہر گذر گئی

بھیا بتاؤ کیا تہ خنجر گذر گئی؟

568

آئی صدا نہ پوچھو جو ہم پر گذر گئی

صد شکر جو گذر گئی بہتر گذر گئی

569

سر کٹ گیا ہمیں تو الم سے فراغ ہے

گر ہے تو بس تمہاری جدائی کا داغ ہے

Stanza 188
Toggle stanza 188
گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار
570

گھر لوٹنے کو آئے گی اب فوجِ نابکار

کہیو نہ کچھ زباں سے، بجز شکرِ کردگار

571

خیمہ میں جب کہ آگ لگا دیں ستم شعار

رہیو مری یتیم سکینۂ سے ہوشیار

572

بے زار ہے وہ خستہ جگر اپنی جان سے

باندھے نہ کوئی اس کا گلا ریسمان سے

Stanza 189
Toggle stanza 189
بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند
573

بس اے انیسؔ ضعف سے لرزاں ہے بند بند

عالم کو یادگار رہیں گے یہ چند بند

574

نکلے قلم سے ضعف میں کیا کیا بلند بند

عالم پسند بند ہیں سلطان پسند بند

575

یہ فصل اور یہ بزمِ عزا یادگار

پیری کے ولولے ہیں خزاں کی بہار ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…