Toggle stanza 1
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
1

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا

ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا

2

گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی

ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی

3

گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی

تو بے جان مٹی میں جان آ گئی

4

زمیں سبزے سے لہلہانے لگی

کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی

5

جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل

عجب بیل پتے عجب پھول پھل

6

ہر اک پیڑ کا یک نیا ڈھنگ ہے

ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے

7

یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا

کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا

8

جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا

وہاں آج ہے گھاس کا بن پڑا

9

ہزاروں پھدکنے لگے جانور

نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…