برسات
Toggle stanza 1وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
11
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
22
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
33
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹی میں جان آ گئی
44
زمیں سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی
55
جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل
عجب بیل پتے عجب پھول پھل
66
ہر اک پیڑ کا یک نیا ڈھنگ ہے
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے
77
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا
کہ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا
88
جہاں کل تھا میدان چٹیل پڑا
وہاں آج ہے گھاس کا بن پڑا
99
ہزاروں پھدکنے لگے جانور
نکل آئے گویا کہ مٹی کے پر
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

