قلعۂ اکبرآباد
Toggle stanza 1وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت
وہ بارگہ خاص کی پاکیزہ عمارت
تاباں تھے جہاں نیر شاہی و وزارت
بڑھتی تھی جہاں نظم و سیاست کی مہارت
آتی تھی جہاں فتح ممالک کی بشارت
جوں شحنۂ معزول پڑی ہے وہ اکارت
سیاح کیا کرتے ہیں اب اس کی زیارت
Toggle stanza 2کہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں کا
کہتا ہے سخن فہم سے یوں کتبہ دروں کا
تھا مخزن اسرار یہی تاج وروں کا
Toggle stanza 3اورنگ سیہ رنگ جو قائم ہے لب بام
اورنگ سیہ رنگ جو قائم ہے لب بام
بوسہ جسے دیتا تھا ہر اک زبدۂ عظام
اشعار میں ثبت اس پہ جہانگیر کا ہے نام
شاعر کا قلم اس کی بقا لکھتا ہے مادام
پر صاف نظر آتا ہے کچھ اور ہی انجام
سالم نہیں چھوڑے گی اسے گردش ایام
Toggle stanza 4فرسودگئ دہر نے شق اب تو کیا ہے
فرسودگئ دہر نے شق اب تو کیا ہے
آئندہ کی نسلوں کو سبق خوب دیا ہے
Toggle stanza 5ہاں کس لیے خاموش ہے او تخت جگر ریش
ہاں کس لیے خاموش ہے او تخت جگر ریش
کس غم میں سیہ پوش ہے کیا سوگ ہے در پیش
کملی ہے ترے دوش پہ کیوں صورت درویش
جوگی ہے ترا پنتھ کہ صوفی ہے تیرا کیش
بولا کہ زمانے نے دیا نوش کبھی نیش
صدیاں مجھے گزری ہیں یہاں تین کم و بیش
Toggle stanza 6صدقے کبھی مجھ پر گہر و لعل ہوئے تھے
صدقے کبھی مجھ پر گہر و لعل ہوئے تھے
شاہان معظم کے قدم میں نے چھوئے تھے
Toggle stanza 7اس عہد کا باقی کوئی ساماں ہے نہ اسباب
اس عہد کا باقی کوئی ساماں ہے نہ اسباب
فوارے شکستہ ہیں تو سب حوض ہیں بے آب
وہ جام بلوریں ہیں نہ وہ گوہر نایاب
وہ چلمنیں زر تار نہ وہ بستر کم خواب
ہنگامہ جو گزرا ہے سو افسانہ تھا یا خواب
یہ معرض خدام تھا وہ موقف حجاب
Toggle stanza 8وہ بزم نہ وہ دور نہ وہ جام نہ ساقی
وہ بزم نہ وہ دور نہ وہ جام نہ ساقی
ہاں طاق و رواق اور در و بام ہیں باقی
Toggle stanza 9درشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیاد
درشن کے جھروکے کی پڑی تھی یہیں بنیاد
ہوتی تھی تلا دان میں کیا کیا دہش و داد
وہ عدل کی زنجیر ہوئی تھی یہیں ایجاد
جو سمع شہنشاہ میں پہنچاتی تھی فریاد
وہ نورجہاں اور جہانگیر کی افتاد
اس کاخ ہمایوں کو بہتفصیل ہے سب یاد
Toggle stanza 10ہر چند کہ بیکار یہ تعمیر پڑی ہے
ہر چند کہ بیکار یہ تعمیر پڑی ہے
قدر اس کی مورخ کی نگاہوں میں بڑی ہے
Toggle stanza 11وہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و ایالی
وہ دور ہے باقی نہ وہ ایام و ایالی
جو واقعہ حسی تھا سو ہے آج خیالی
ہر کوشک و ایوان ہر اک منزل عالی
عبرت سے ہے پر اور مکینوں سے ہے خالی
Toggle stanza 12یہ جملہ محلات جو سنسان پڑے ہیں
یہ جملہ محلات جو سنسان پڑے ہیں
پتھر کا کلیجہ کیے حیران کھڑے ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

